جمعہ، 10 اکتوبر، 2014

ایک دن دھرنوں کےساتھ

پشاورسےکچھ آزاد و انقلابی رشتہ دارعیدکےدوسرے دن ملنےآئےتواصل مدعابھی بیان کردیا۔۔۔۔عید توبہانہ تھی اصل مقصدان دھرنوں کی زیارت تھا۔دل جل کرخاک ھواکہ کسی طوراس حق میں نہ تھی،مگرانسان لاکھ سوچےہوتاوھی ھےجومنظور "ناخدا" ھوتاھے۔اورآج پہلی بارجنیدجمشیدپرایمان لانےکودل کیاکہ جوخواتین کی ڈرائیونگ کےمخالف ھیں۔
خیر'مبارک سفرپرروانہ ھونےکوایک چارگزکی چادراوڑھی اورنطرکاچشمہ فٹ کرکے ہم بادل ناخواستہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکےتھے۔غصےمیں گاڑی اپنی مرضی کےروٹ پرڈالدی۔سوچا آغازسے"سیر"کروائی جائے۔چک شہزادکی نرسری دکھائی اور بنی گالاکوبھی سلام کروایا۔کشمیرچوک سےھوتے،"سرینا"باجی کوسیلوٹ کرواتے، پولی کلینک کےراستےپہنچ گئےدھرنوں کی جائے پیدائش۔گاڑی لاک کی اورمیزبانی کےفرائض یہاں تک کےمصداق اپناکیمرہ نکالااورکیامحفوظ پھرایک ایک انقلابی نقشہ۔۔۔۔۔۔۔
سب سےپہلےیہ کنٹینرزجنہوں نے انقلاب کاراستہ 54دنوں سے روک رکھاھے۔مگرنہ جانےجب ہم پہنچےتوکسی نےنہ روکا۔
 
 انہیں عبورکیاتوایک بچہ "آزادی" 100 سوروپےمیں بیچتاپایا۔یہ ٹوپی پہن کرسب ھرالال ھی سوجھتاھے۔بعدمیں 70روپےمیں آزادی خریدلی ہم نے بھی۔اگلے قدم کچھ کنکریٹ بلاکس پرگوگوپان مصالحہ کےفن کامظاہرہ "خوشخطی"سےتھا۔







پھرشروع ھوا صاف وشفاف آزادپاکستان کاراستہ،جہاں اس "پھولوں"کی باڑنےاستقبال کیااورمیرےعزیزمہمانوں نے ناک سکیڑے۔نہایت بےادب واقع ھوئےھیں آج کل کےآزادبچے۔




منڈی بہاؤالدین سےآئی آزادی زمیں بوس ھوچکی تھی۔بچوں کوکہابھی کہ پھونک مارکربسم اللہ پڑھ کراونچی جگہ رکھدو،مگروہ خونخوارنظروں سےگھورنےلگے۔



ابھی دو قدم آگےبڑھےتوایک صاحب آزادوں کا پرچم لپیٹےواپسی کےسفرپرگامزن تھے۔نہایت خشوع خصوع سےتصویربنوائی اورایک نعرہءمستانہ ھوامیں بلندکرتےآگےبڑھ گئے۔



قدم بڑھاتےگئےکہ منزل دورتھی۔۔راستےکےکچھ "مسائل" نظراندازکرتی ھوں۔کچھ کوّےگزشتہ عیدکی "کلیجی" دعوت اڑاتےدیکھے۔وللہ صفائی کااعلیٰ معیاردیکھ کریقین ھواکہ 
اگلی "آزادنسلوں" کامستقبل محفوظ ھے۔


لیجیےصاحب،میرےآزادمہمان نازک طبع ھیں سویہیں سےواپسی کاعندیہ دیدیا۔مگرمیں نےصاف بتادیاکہ اب میں انقلاب دیکھےبنانہیں لوٹوں گی۔ساتھ ھی آلوچاٹ تیارھورھی تھی۔مکھیوں نےکالی مرچوں کی ساری کمی پوری کررکھی تھی۔



پھردیکھاکہ اوپن کچن میں قربانی کاگوشت کچھ تھیلیوں میں زمین پرپڑاتھااورمکھیاں وحشرات بھی اپنارزق تلاش کرچکےتھے۔
 


بالآخرپہنچےاس صدی کےعظیم کرکٹرکےکنٹینرکےسامنے۔بہت حسرت تھی ان کی ایک جھلک نظرآئے،پشاورکےمہمانوں نےسفارش بھی جتائی۔۔۔۔۔وائےری قسمت کہ صاحب بنی گالاکاگھرآبادکرنےجاچکےتھے۔بس باہرسےچندتصاویرپراکتفاکیا۔

 



چونکہ قربانی عیدسےپہلےنہ ھوسکی تھی سوعیدکےتینوں دن قربانیاں کی گئیں۔ایک جانب ننھاقصاب دو"اساتذہ" کےہمراہ گوشت بنارھاتھا۔کیونکہ چائلڈلیبرتونیاپاکستان میں ختم ھوگی اور وہ ابھی پراناپاکستان کارہائشی تھا۔




ساتھ ھی ایک آنٹی انقلاب کو دم لگائےانتظارمیں تھیں۔


خدا خداکرکےوہ گھڑیاں آئیں کہ خیمہ بستی دیکھنےکوملی۔اس بستی کی بہترین اورقابلِ ستائش بات
یہ ھےکہ پڑاؤعین پارلیمنٹ کےداخلی دروازےاورکلمہ طیبہ کےسائےمیں ھے۔



ہرخیمہ کےباہرکچرےکاڈھیرھےجوصفائی کی اہمیت پر روشنی ڈالنےکورکھ چھوڑاھے۔





بچوں کوبہت چائےپانی کاپوچھامگران کےچہرےپربارہ بجےدیکھ کرمزیدتنگ نہ کرنےکافیصلہ کیا(اگلےدس منٹ کیلیے)۔ یہ "عوامی ٹی سٹال"بھی موجود ھےجہاں انقلابی نغمےبھی چلتےھیں۔ ایک چائےکاکپ صرف 10روپےمیں،مگرمہمان ہمارے10روپےمیں کہاں ماننےوالےتھے۔



ساتھ ھی ایک میڈیکل کیمپ ھے۔ڈسپنسرنماھیروقسم کا بندہ بیٹھاھے،جواپنےموبائل پرہمہ وقت "مصروفِ عمل" ھے۔اسکی تصویربنانامناسب نہ تھا۔ہاں مگربےخبری کافائدہ یہ ھواکہ خیمہ کےپیچھےسےمیڈیکل سٹورکاجائزہ باآسانی لیا۔


اسی "پھول بناسپتی" شفاءخانےکےساتھ انقلاب بہہ رھاتھااورکچھ غلاظت آزادی سےسڑک کےبیچوں بیچ نہایت عقیدت واحترام سےرکھی گئی تھی۔جیسےکہ "باہروالےآقاؤں" کوخاص کارکردگی دکھانامقصودھو۔




تھوڑابائیں جانب مگر"نہایت احتیاط "کےساتھ پارلیمنٹ کےعین سامنےایک حجام موجودھےاورساتھ میں "انقلابی استری" کی سہولت بھی دستیاب ھے۔30روپےفی جوڑا۔کچھ مہنگانہیں یہ سودا۔۔۔۔۔۔۔




اگرگھرکی روٹی کو من للچائےتویہ سہولت بھی موجود۔پندرہ روپےمیں سادہ اوربیس کاپراٹھاساتھ میں بیس روپےکا مرغی کاانڈہ۔"ھیں جی" ۔ کاش  "امیرِشہرِانقلاب"کی جانب سے اس معصوم کوتن ڈھانپنےکےلیے لباس بھی مل جائے۔


   


شکرھےانقلابی سکول وکالج پرنگاہ پڑی۔ آنکھوں کوکچھ ٹھنڈک ملی۔یہاں پرایم-بی-اے کی کلاس بھی ھوتی ھے۔اور کچھ جھولےشایدانہی "بچوں" کیلیےآئے ھیں۔



ساتھ ھی لینگوئج کورس کاانتظام بھی ھے۔ہذامدرسۃ۔۔۔۔۔آزادوں کوکافی ضرورت ھےزبان وبیاں کودرست کرنےکی۔عربی ھی سیکھ لیجیےکچھ ورائٹی توآئے۔



ایک بات جوہمارامیڈیانہ پہنچاسکاوہ یہ ھےکہ آزادکشمیرکےمریدین کی مدد سےلگائےگئےموبائل کالج میں "این-سی-اے" والےسارےگُن سکھلائےجاتےھیں۔حکیم محمداحمد نےمولوی عبدالشکور کی کیا شاندار "سمادھی"بنائی ھے۔ایمان تازہ ھوگیا۔اورساتھ ھی محمدطفیل نےان کی "گھگھو گھوڑوں"کی فوج بنائی ھے۔دونوں نےاپنےرابطہ نمبربھی لکھ چھوڑیں ھیں کہ اگرآپ کےدل میں بھی یہ ارمان جاگےتورابطہ کیجیے۔



اس سے آگےبڑھےتوآزادوں کاٹولہ اپنےگھرسےقربانی کاگوشت منگواکر"باربی کیوپارٹی" کی تیاری کررہاتھا۔کیاگھریلوساماحول بنارکھاھےآپ نے۔"ایک"کردیامحمودوایازکو۔



لیجیےصاحب ہمارےپختون مہمانوں کی دوسری تلاشِ جاناں ختم ھوئی اورعبدالشکورصاحب کا"درویشانہ کنٹینر"نگاہوں کےسامنےتھا۔ان کی "کُٹیا"کےاوپربیٹھےسیکورٹی گارڈزھاتھوں میں اسلحہ اٹھائےانقلاب کی حفاظت فرمارھےتھے۔



اب واپسی کیلیےپرتولتےہمارےمہمان کھیسانی ھنسی کےساتھ دھیرےدھیرےاس عظیم الشان تعفن زدہ انقلاب اوربدبودارآزادی کاخودھی تمسخراڑارھےتھے۔میں نے خاموشی میں ھی عافیت جانی۔اورجونہی پلٹی توماتھاٹھنکا کہ ایک خیمہ مکمل طورپرڈھانپاگیاتھا۔پچھلی جانب سےجھانکاتوحیرت نےآن گھیراکہ یہ تو"انفارمیشن سینٹر"تھاجہاں تمام ملکی اخبارات کا ڈھیرتھااور "مصطفوی انقلاب"کیلیےعرق ریزی کی جاتی ھے۔صاحب "نوٹس" لےرھےتھےکہ عبدالشکورصاحب کی شام کی تقریرمیں حوالہ جات درکارتھے۔



اس "میڈیاسیل" سےآگےکچھ بچےاپنامعصوم بچپن جھولوں پربیٹھےگزاررھےتھے۔ان کےساتھ  جووقت گزارااس کیلیےایک الگ بلاگ لکھناھوگا۔ہاں مگراس ملک کے "بڑے"کب سمجھیں گےکہ بچےسانجھےھوتےھیں۔۔۔۔۔۔کچھ کہنادشوارھے۔



ان جھولوں کی پچھلی جانب صاف ستھراماحول ہمارامنہ چڑھارھاتھا۔صفائی اور حفظانِ صحت کےتمام پڑھےاصول بودےمعلوم ھوئے۔یہاں ایک خاتون نے پکڑلیاکہ کس کی اجازت سےتصاویراتاری جارہی ہیں ۔نہایت محبت سے جان چھڑوائی۔محترمہ کا فرمانا تھا "ہمارےقائدنےجوگنداس پارلیمان کےسامنےپھیلایاھےوہ 100سال تک نہیں سمیٹ سکتےآپ لوگ۔ یہ دن ہمارےقائدکی وجہ سےھی آیاکہ لوگ ٹرو،مرومنانےاس علاقےمیں آرھےھیں"




بالآخر"دس لاکھ" افرادکیلیےچارعدد کنٹینربیت الخلاءبھی دکھائی دیے۔۔۔سچ پوچھیےتوآدھےگھنٹےسےآتی غلیظ بدبوکی سمت چیک کیاتومعلوم ھواکہ یہ عظیم سہولت وہاں میسرھے۔وہ خاتون اب اپنی ٹیم کےساتھ ہلہ بولنےکوتیارتھیں۔






خیرواپسی پریہ آلوچنےکاٹھیلاانقلاب وآزادی کی "سرحد"پرموجودتھااورلوگ دھڑادھڑاس چاچاکی روزی اس تک پہنچاکراپنےپیٹ کارزق حلق سےاتار رھےتھے۔۔



ایک مقام پر کچھ ناہنجاروں نےانقلاب کونہایت سبک رفتاری سےآزادی کیساتھ دیاسلائی دکھادی اور نتیجہ وہی۔۔۔کہ انقلاب کو آگ لگ گئی گھرکےچراغ سے۔



جب ہم اس صدی کےعظیم کرکٹرکےکنٹینرکےپاس واپس پہنچےتوکرسیاں لگائی جارھی تھیں اورعوام کا ٹھاٹھیں مارتاسمندربھی موجودتھا۔یہ تصاویراتارتےھی ایک "پختون بھائی"آگےبڑھےکہ "آپ سےایک سوال پوچھناھے۔" میں تو تیزتیزآگےبڑھ گئی۔مہمان جوشِ آزادی میں کہیں ادھراُدھرھوگئےتھے۔





لوگوں کاکلیجہ زیادہ گرمادینےکےباعث کچھ مسئلہ نہ ھوجائے،ایسی ھنگامی صورتحال کےپیشِ نظر "انقلابی لیموں پانی" بھی دستیاب تھا۔اگرچہ چاچانےبتایاکہ انکواجازت ھی تب ملی جب یہ "گوگو"کاسٹکربرتن پرلگایا۔
نیاپاکستان میں کوئی جبرنہیں ھوگا۔




ایک بھائی صاحب کچھ تبدیلی ٹی شرٹس بھی بیچتےپائےگئے۔نیاپاکستان نے کتنےہی لوگوں کو روزگاربھی فراہم کردیاھے۔اوریہاں اپنے"گمشدہ"مہمانوں کوتلاش کیا۔




اللہ اللہ کرکےآزادکچن سےھوتےہم باہرنکلےتونازک طبع مہمانوں کی چیخیں نکل گئیں۔عیدکےتیسرےروزشام کےساڑھےپانچ بجےقربانی ذبح کی جارھی تھی۔پھرنہایت سرعت سےجانورکودرخت کےساتھ لٹکاکرعوام کی طرح کھال اتاری جانےلگی۔



اس دروازےپرپہنچتےھی محسوس ھواکہ کچھ لوگ مسلسل پیچھاکررھےھیں۔بچوں کوبہانےسےگاڑی کی چابی دی کہ پہنچومیں بُھٹّہ لےکرآرھی ھوں۔وہی صاحب میرےعقب میں پہنچےاورتعارف کروایاکہ PTIکےکنٹرول روم کےانچارج ھیں اوریہ کہ صبح سےمانیٹرکیاجارھاتھا۔میں نےکہا"توپھر؟" کہنےلگے"میں آپ کوخواتین کےانکلوژرمیں لےجارھاھوں وہاں آپ کی جامعہ تلاشی ھوگی اوراپناکیمرہ اورسیل فون پکڑائیں ادھر۔سب ڈیلیٹ ھوگا"
میں نے کہا"اوہ رئیلی اورمیں آپ کےساتھ جارھی ھوں انکلوژرکی جانب؟"
جواب آیا "جاناتوآپ کو ھوگا،کس نےاختیاردیاکہ "مشکوک" جگہوں سےمشکوک تصاویرکھینچیں؟یہ جگہ ہماری ھے"
اللہ اکبر،چورکی داڑھی میں تنکا۔میں نے آواز تھوڑی بلند کی "یہ شہرمیراھے۔میں جہاں چاھوں جاؤں۔کہیں نہیں جارھی تلاشی کیلیے۔"
میں نےھینڈبیگ تھامااورتیزقدموں سےوہاں سےنکلنےلگی توان صاحب نےخاتون کوبلوالیااور راستہ روک کرکھڑےھوگئے۔"آپ ISI کی ایجنٹ ھیں،بلواؤیاراس شکیل کو"
یہاں میری برداشت جواب دےگئی۔سائیڈ سے نکلی اورایک ھی بات کی "دوقدم پر"سیکیورٹی" بیٹھی ھے،تھوڑااونچابولی توآبھی جائیں گےاورتصاویرپرآپ کے"تحفظات" بھی دورھوجائیں گے"پھر مڑ کرنہیں دیکھا۔دومنٹ بعد اپنی گاڑی کےپاس تھی۔غورکیاتوکچھ سیکیورٹی اہلکاراُن صاحب کوگھیرےکھڑے تھے۔مگراب میرا رکنامناسب نہ تھا۔سیٹ بیلٹ لگائی اوروہاں سے روانہ ھوگئی۔مہمان کچھ شرمندہ تھےمگرمیں نےکوئی بات کرنامناسب نہیں سمجھااوران کادھیان اِدھر اُدھرکی باتوں میں لگادیا۔۔اچھا ڈنرکرواکر واپس پشاورکیلیےروانہ کردیا۔

28 تبصرے:

  1. Really a very beautiful blog, congratulations, good work Ma'am.

    جواب دیںحذف کریں
  2. یہ باتیں شاید آپ کے لئے نئی ہوسکتی ہیں ہیں میرے لئے نہیں
    ایک بات سے اعتراض تھا اس سیخ بنانے والے خاتون کا مذاق نہیں بنانا چاہیے تھا
    کہ اسے تصویر بنوانے کا شوق تھا جب کے معاملہ اس کے الٹ ہے .
    دوسری بات تیس روپے کی استری کرنے والے سے پوچھنا تھا کہ وہ بجلی کہاں سے لیتا ہے اور یہاں موبائل چارج کرنے کی بھی سہولت موجود ہے بلکل فری جہاں ایک وقت میں سو دو سو موبائل چارج ہوتے ہیں اس کیلئے بھی چوری بجلی کا بھی انتظام ہے
    تیسری بات وہ جو آپ نے خواتین کا بیت الخلا دیکھا تھا جس کنٹینر میں وہ آباد ہے یہ وہ ہی کنٹینر ہے جو پچھلے یعنی زرداری حکومت میں قبلہ کے استمعال میں تھا
    چوتھی بات قبلہ کے کنٹینر سے زرہ آگے ایک قدرتی شاور بھی ہے جہاں انقلابی غسل فرماتے ہیں شاید بوجھ شرم آپ کی نظر نہیں جا سکی وہاں ایک پائپ پارلیمنٹ کے اندر سے بھی آرہا ہے پتا نہیں وہ اندر سے کس نے دیا ہے ان کو .
    پانچوی اور آخری بات قبلہ کے کنٹینر کے پیچھے کچھ ہی فاصلے پر پی ٹی وی چوک ہے جس پر پاقائدہ چوکی بنی ہوئی ہے جو تلاشی کی بنا اندر داخل نہیں ہونے دیتی چاہے وہ کوئی بھی ہو ساتھ ہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں ایک سور کو گو نواز گو لیکھ کر نہایت بیدردی سے موت کے گھات اتارا گیا تھا .

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت شکریہ اتنے اچھے کمنٹس کیلیے۔۔۔۔۔ اس تمام تناظرمیں 2 مزید بلاگس آرھے ھیں۔۔۔یہ صرف ابھی ایک جھلک ھے۔

      حذف کریں
  3. Really really nice. Wish to write like u. U did a rational review by personal experience. I really appreciate ur effort. @tsbabar
    http://tsbabur.blogspot.com/

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہت خوبصورتی سے لکھتی ہیں آپ..اللہ کرے زورے قلم اور زیادہ ..

    جواب دیںحذف کریں
  5. انقلاب اور آزادی کا بہت عمدہ پوسٹمارٹم ہے،

    جواب دیںحذف کریں
  6. ایک لفظ میں اگر بیان کروں تو یہ "بالجبر" کردیا ہے انقلاب کا آپ نے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. استغفرللہ! فتویٰ لگوایےگا مجھ غریب پر کیا؟

      حذف کریں
  7. Very good read. Not surprised at all at you being harassed for taking pictures. Fascism is written all over this so-called movement. People you met were from the future Gestapo of Naya Pakistan.

    Keep posting.

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپ کے کمنٹس میرے لیے اعزاز۔۔۔۔۔ جزاک اللہ! دعائیں درکار۔ :-)
      آشیرباد دیجیے اچھے اساتذہ کی طرح۔

      حذف کریں
  8. Thank u for documenting "The Inqalab 2014 Version" ! Blog is Zaberdast as usual !!! keep up the good work !

    جواب دیںحذف کریں
  9. vary good effort..its looks there is hours of research and hard work behind this..pictures are speaking every thing..its teken like a proffesional photographer..well done keep it up

    جواب دیںحذف کریں
  10. It is really wonderful . You covered all aspects beautifully. I have learnt one thing from your blog. " How to handle your relations". I really miss this element in my life. If I were there in place of you, I didn't entertain my guests. I usually avoid discussing conflicts points with my family & Friends. About your Blog: You remind me of Mufti Taqi Usmani sahab. Your narration is awesome. If you have not read two Safar naama of Mufti sahab ( I am sure you must have gone through it already).
    Dunaya Meray Aagay &
    Jahaan e Deeda
    You kept your reader awakes during the course of reading .
    Once again . Thanks for posting such blog.

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اوہ۔۔۔۔۔۔ جزاک اللہ الخیر! اتنے عمدہ تجزیہ کیلیے شکریہ۔۔۔۔۔ رشتوں کو نبھانا بھی آنا چاھیے۔۔۔:-)
      پہلے نہیں پڑھا تھا۔۔۔اب تلاش کرتی ھوں ان سفرناموں کو۔ شکریہ۔

      حذف کریں
  11. Manzir ki apnay alfaz mai manzar kashi bht pyary andaz sy krti han keep it up

    جواب دیںحذف کریں
  12. Very nice description and courageous reporting.Be careful in future .They are short tempered and can not tolerate any criticism

    جواب دیںحذف کریں
  13. انقلابیوں کے هاتهوں هم پولیس والوں کی جو درگت بنتی رهی کیونکہ پولیس کو بالکل غیر مسلحہ کر کے اور همارے مجمہ خلاف قانون کو منتشر کرنے کے تمام جائز اور قانونی اختیار سلب کر کے حکومت نے پولیس کو قربانی کا بکرا بنایا اس پر تو آپ نے کوئی تبصرہ کیا ہی نہیں ہے
    پاک فوج زنده باد
    پولیس مرده باد
    اس نعره کا همارے معشارے پر کیا اثر هوا هے اور مستقبل میں اسکے کیا اثرات مرتب هوںگے

    جواب دیںحذف کریں