جمعہ، 18 مارچ، 2016

ریاستی قوانین

حماقتوں اور غلطیوں کی پشت پناہی میں ہمارے ہاں فاش غلطیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس میں قصور وار کو یوں گلوریفائی کیا جاتا ہے جس طرح کسی زمانے میں ہماری دیسی فلموں کا نام نہاد ھیرو درجنوں کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی شائقین کے دِلوں کی دھڑکن بنا رہتا اور اُسے حق بجانب سمجھتے سینما گھر میں بیٹھے عوام تین گھنٹے تالیاں پیٹا کرتے تھے۔
پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کا قاتل ممتاز قادری موقعہ
ٔ واردات سے آلۂ قتل سمیت گرفتار ہوا۔ قاتل کو اپنے حق میں دلائل و ثبوت پیش کرنے کا آخری موقع تک فراہم کیاگیا۔ملزم نے شروع دن سے صحتِ جرم سے انکار نہ کیا بلکہ سفاکانہ ڈھٹائی کیساتھ اعترافِ جرم کرنے کے ساتھ مقتول کی ذاتی زندگی اور نجی معاملات کو عدالت میں زیرِ بحث لاتا سپریم کورٹ سے ہوتا رحم کی اپیلوں تک گیا۔مجرم تو ریاستی قانون کے تحت اپنے انجام کو پہنچا مگر اٹھارہ روز سے جاری شب و روز کا ہیجان ہے کہ شدت ہی اختیار کیے جاتا ہے۔حیرت مجھے ہر دو جانب کی انتہاؤں کو خاموشی سے دیکھتے ہوتی ہے ۔کسی انسان کی موت پر خوشیاں منانے والے یا ایک قاتل کو ھیرو بنا کر کمائی کا ذریعہ بنانے والوں میں کچھ خاص فرق دکھائی نہیں دیتا۔چار دیواری میں آپ کسی کو مجرم مانیں یا شہید مجھے اِس سے کچھ غرض نہیں ہاں مگر جِس وقت شاہراہیں بند کرکے ریلیوں کے نام پر ریاستی نظام کو زد وکوب کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پر کفر کے فتوے یا جہالت کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے ایک دوسرے کی مسلسل ذلیل کی جائے گی تو ایسی بلیک میلنگ کا ساتھ دینا عجب معلوم ہوتا ہے۔ وہ بھی ہیں جو ناموس لفظ کا مفہوم تک جاننا گوارا نہیں کررہے۔تحظ کیا خاک کریں گے۔اکثر دل کیا کہ بحث بلکہ فتوے جاری کرنے والوں سے دریافت تو کروں کہ کتنے ہیں جنہوں نے ہائی کورٹ کا  چھیاسٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ سکون سے پڑھا اور سپریم کورٹ نے انتالیس صفحات میں جو کچھ درج کیا وہ کتنے لوگوں نے جذب کرنے کی کوشش کی۔۔۔مگر مسئلہ یہاں یہ بھی ہے کہ جِس قابلِ احترام عدلیہ نے قومی زبان میں فیصلے جاری کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا وہیں سے انگریزی زبان اور مشکل اصطلاحات والا اہم فیصلہ آگیا۔اس سے بھی اہم معاملہ ہے کہ قانونِ شہادت سے لے  کر ناموسِ رسالت تک کے ریاستی قوانین بارے عوام کو کِس حد تک آگہی ہے۔

معاملہ
 ۴ جنوری ۲۰۱۱ء  سے کہیں پہلے شروع ہوتا ہے۔۲۰۰۹ء میں جون کا مہینہ،شیخوپورہ کا ایک گاؤں جہاں فالسے کے باغات میں مزدوری کرتی کچھ خواتین آپس میں جھگڑ پڑیں۔ وجہ تھی انتالیس سالہ آسیہ نورین نامی مسیحی خاتون کو ناپاک و نجس سمجھتے کنویں سے پانی پینے نہ دینا۔پاکی پلیدی  کے من گھڑت قصے۔اگرچہ آسیہ کے پاس اپنا گلاس تھا مگر ذاتی عناد میں اصرار تھا کہ کنویں کی رسی پکڑنے سے ہی ناپاکی کا معاملہ ہوجاتا ہے۔بات بڑھتی گئی اور طعنوں سے ہوتی ایک دوسرے کے مذہبی عقائد تک جاپہنچی۔آسیہ کے مطابق حضرت عیسیٰ  کو ماننے والا ناپاک کیسے ہوگیا جو انسانی زندگیاں بچانے والا تھا۔اس سے اگلا جملہ وہ تھا جو آقا دو جہاں  کی شان میں گستاخی تھا۔۔۔ بے شک جب انسان کسی کے دین و عقائد بارے  پڑھتا جانتا نہیں ہے تو جہالت میں ادا کیے جانے والے الفاظ کی سختی بارے بھی نہیں جان پاتا۔اور یہی اس جھگڑے کی بنیاد بنا۔
وقتی طور پر بیچ بچاؤ کروا دیا گیا۔مگر وائے گاؤں کا مولوی سلیم جس نے مسلم خواتین کے استفسار پر فوری فتویٰ (؟) صادر فرما دیا کہ آسیہ نورین نامی مسیحی عورت نبی پاک حضرت محمد
   کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی ہے۔اور گستاخِ رسول  واجب القتل ہے۔منبر سے لاؤڈ اسپیکر پر ایک عام مولوی فتویٰ صادر کیے اعلان کرتا رہا اور عوام کو بھڑکاتا اور قتل پر اکساتا رہا۔ نتیجتاً گاؤں بھر نے آسیہ کو اس کے شوہر اور بچوں سمیت "گستاخ" قرار دے کر ایسی پٹائی کی  کہ اگر پولیس وقت پر نہ پہنچتی تو شاید توھینِ رسالت کے نام پر ایک کوٹ رادھا کشن ۲۰۰۹ء ہی میں ہوجاتا۔ورنہ جوزف کالونی،یوحنا آباد کی مثال یاد کرلیتے ہیں۔نہیں تو رِمشا مسیح کیس اتنا پرانا نہیں ہوا کہ ہم مکمل طور پر بھول چکے ہوں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کاحق اور جینے کا اختیار صرف اپنےمذہب نہیں بلکہ صرف ہم مسلک ہی کو رہ گیا ہے۔
آسیہ
  کیخلاف توھینِ رسالت کا پرچہ کاٹ دیا گیا جبکہ اس کا خاندان گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔سیشن کورٹ شیخوپورہ میں کیس کی سنوائی شروع ہوئی تو گاؤں کا وہی مولوی جتھا لے کر احاطۂ  عدالت کے باہر پھانسی کے فیصلے کیلیے دباؤ ڈالتا رہا۔اسے کارِ سرکار میں مداخلت سمجھا گیا یا نہیں،خبر نہیں۔مگر سیشن جج نے ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کیساتھ پھانسی کی سزا سُنا دی۔
سزا کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی اور وہاں بھی ہر کاروائی کے روز دو مولویوں کی سرپرستی میں احتجاجی مظاہرے کیے جاتے۔سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے ایک صاحب نے آسیہ کو جہنم واصل کرنے والے کیلیے پانچ لاکھ نقد انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔شاید ان مولوی صاحب کا ایمان ایسا مضبوط نہ تھا کہ یہ کارِ خیر خود سرانجام دے دیتے۔ہمارے ہاں ہمیشہ سے دوسروں کے "مُنڈوں" کو بازی لیجانے کیلیے اکسانا روایات سے ثابت ہے۔
ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد گورنر سلمان تاثیر جیل کے دورے پر آسیہ نورین سے مِلے اور واپسی پر ایک ایسے قانون پر تنقید کرنے کی گستاخی کر بیٹھے جسے برطانوی راج کے دوران برصغیر پاک و ھند کی اقلیتیوں کے تحفط کی خاطر نافذ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اُس وقت مسلمان اقلیتی حیثیت میں زندگی بسر کررہے تھے۔اس خطےمیں سب سے پہلے
  ۱۸۶۰ء میں انڈین پینل کوڈ میں سیکشن۲۹۵  ہر مذہب کی عبادت گاہ،عقیدے اور نظریے کو مقدم سمجھتے حفاظتی قانون کے طور پر متعارف کروایا گیا۔سزا جِس کی دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں تھی۔مقصد اِس کا یہی تھا کہ کسی بھی جماعت،فرقے یا مذہبی عقیدے کو نقصان پہنچا کر امن و امان کی صورتحال برباد کرنے والوں کو تنبیہہ ہوجائے۔انسانوں کے بنائے اس قانون میں سب سے پہلی ترمیم ۱۹۲۷ء میں کی گئی۔ ۲۹۵-اے مذہبی جذبات کو ابھارنے کیلیے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کے خلاف تھی۔اس کی سزا دس سال قید یا جرمانہ یا دونوں  تجویز کی گئی۔سیکشن میں دوسری ترمیم ۲۹۵-بی  پاکستان بننے کے پینتیسویں سال یعنی ۱۹۸۲ء میں ایک آمر کی حکومت کے دوران کی گئی اور پہلی بار برصغیر پاک وھِند کی اقلیتوں کے تحفظ کا قانون  مشرف بہ اسلام ہوگیا۔کیونکہ اب مسلمان اکثریت میں تھے۔لفظ بے حرمتی اور قرآنِ پاک کا اضافہ کیا گیا۔جبکہ عُمر قید کی سزا مقرر ہوگئی۔اس سیکشن میں اب تک کا آخری اضافہ/ترمیم ۱۹۸۶ء میں آئی۔ اور "براہِ راست یا بلا واسطہ لکھے یا بولے گئے توھین آمیز کلمات،پیغمبرِ اسلام حضرت محمد کیلیے تضحیک آمیز جملہ اور شکوک و شبہات پیدا کرنا" جیسی اصطلاحات کا اضافہ کیا گیا۔یاد رہے کہ  ۱۹۹۰ء-۱۹۹۱ء میں اس جرم پر سزائے موت اور جرمانے کا اضافہ کیا گیا اور ساتھ میں یہ شرط کہ کیس کی سماعت ایک مسلمان جج کی سرپرستی میں ہوگی۔ یوں برطانوی راج کا بنایا اقلیتوں کے تحفظ کا قانون ایک سو چھپن سالوں میں موجودہ شکل اختیار کرچکا ہے۔
۱۹۵۳ء سے جولائی ۲۰۱۲ء کے دوران چار سو چونتیس کیسز قانونِ تحفظِ رسالت  کے تحت رجسٹر ہوئے۔جن میں نسے دو سو اٹھاون مسلمان، ایک سو اکاون مسیحی ستاون قادیانی اور چار ہندو شامل ہیں۔۱۹۹۰ء سے تقریباً ۵۲ انسان ماورائے عدالت اِس گناہِ کبیرہ کے الزام میں موت کےے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں جن میں سے پچیس مسلمان،پندرہ مسیحی ،پانچچ قادیانی اور ایک بدھ مت اور ہندو ہیں۔۲۰۱۳ء کے بعد کم ازکم پانچ لوگ تو پولیس تحویل میں مرگئے کہ جِن پر گستاخ ہونے کا الزام تھا۔سبحان اللہ۔ کہ مسلمان ہی سب سے زیادہ گستاخ ثابت ہوتے آ رہے ہیں کیا ؟ ۔یہی سقم ہے جس کی جانب اشارہ کیا جاتا رہا ہے۔زیادہ تر کیسز ذاتی عناد،مسلکی عدم برداشت ، جائیداد کے جھگڑے اور حریف کو عدالتی چکروں میں ذلیل کرنے کیلیے اِس قانون کا غلط سہارا لیا جاتا ہے۔ایسے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے الفاظ ہیں کہ انسانوں کے بنائے قانون کو کالا قانون کہنا یا اُس پر تنقید کسی صورت گستاخی کے زمرے میں نہیں آتا۔جبکہ ممتاز قادری کے وکیل عدالت میں ایسا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیے جِس میں مقتول گورنر نبی پاک  کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے ہوں۔ جمہوری ریاست عوام کو حق دیتی ہے کہ وہ کسی بھی قانونی و آئینی شِق بارے اپنی رائے اور سوچ رکھنے میں آزاد ہیں۔
مقتول سلمان تاثیر نے غلطی یہ کی کہ اِس ترامیم شدہ قانون پر تنقید کرکے ایک مخصوص طبقے کو موقع فراہم کردیا بلکہ ہمارے ہاں تو کچھ میڈیا پرسنز بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے پائے گئے۔ کچھ نام نہاد علمائے دین
 بھی منبر چڑھے ڈاکٹر ایم۔ڈی۔تاثیر کو بھول کر ان کے بیٹے سلمان تاثیر  کا مذہبی عقیدہ متنازعہ بناکر لوگوں کے جذبات بھڑکاتے رہے۔ویسے یاد رہے کہ غازی علم دین شہید کے جنازے کی چارپائی کِس گھرانے نے سالوں سے سنبھال رکھی ہے۔تقدیر کا سائیکل کہیں یا کیا۔۔۔
ایک صاحب حنیف قریشی بھی ہیں جنہوں نے خواب میں بشارت والا ازلی حربہ استعمال کیا جس کے جواب میں آج تک کسی نے پلٹ کر ایسے مذہب فروشوں سے سوال نہیں کیا کہ صاحب یہ جنت آپ یا آپ کا بیٹا کیوں نہیں کما لیتے۔یہ وہی شخص ہے جس کے خطاب سے متاثر ہوکر گورنر پنجاب کی حفاظت پر موجود ایلیٹ فورس کا کمانڈو اپنی وردی میں سرکاری ہتھیار کا استعمال کرکے جنت کمانے نکلا تھا۔اور جب بات عدالت میں شہادت کی آئی تو حنیف قریشی، خطاب جِن کا شمشیرِ اعلیٰ  ہے، نے حلفیہ بیان جمع کروا دیا کہ قاتل سے اس کا کوئی واسطہ تعلق نہیں۔یہاں اِسے کوئی بشارت یاد نہ رہی۔یاداشت اِن صاحب کی تب پلٹ کر آئی جب پھانسی کے پھندے سے اتاری میت سرہانے فوٹو سیشن کروانے کا وقت آیا۔ایسے ہی ڈبہ فروشوں نے  اُس وقت کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو بھی اگلے جہاں پہنچا دیا۔
صورتِ احوال یہ ہے کہ ریاستی قانون نے پانچ سال ممتاز قادری کو شہادتیں اور ثبوت عدالت میں پیش کرکے خود کو حق بجانب ثابت کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا۔ جبکہ صاحب کے وکیل اپنا سارا زور مقتول کو شاتم و مرتد کے علاوہ شادیوں،معاشقوں،بچوں کی تعداد اور کھانے پینے کی عادات کے حوالے سے غیر اخلاقی و غیر شرعی سرگرمیوں میں ملوث ثابت کرنے پر لگاتے رہے۔۔کیا پھر بھی ریاستی قانون کسی فردِ واحد کو اجازت دیتا ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر اخلاقی پولیسنگ کرتا پھرے اور سزائیں تجویز کرے؟ نہیں۔
 مجرم نے ابتدائی بیان میں کہا کہ اُس نے جو بھی کیا قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق کیا تاکہ آئیندہ گستاخی کرنے والوں کیلیے سبق رہے کہ ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔یہی وہ بیان ہے جس کے باعث ممتاز قادری پر دھشت گردی کی دفعہ لگائی گئی۔قتلِ عمد میں اسلام آباد کی ایک معروف شخصیت سات کروڑ روپے کی دیت دینے کو تیار تھی۔اور جو مُلک بھر سے کروڑوں کا چندہ اِس مَد میں اکٹھا کیا گیا اُس کا حساب کِس نے دینا ہے وہ الگ سوال ہے۔قطع نظر اِس کے کہ دیت کے باوجود دھشت گردی کی دفعہ کے تحت سزا پھر بھی یہی ہوتی۔ایک بار اِن دفعات کا مطالعہ تو کیجیے کہ ریاستی قانون کیا کہتا ہے۔پھر بحث کیجیے کہ کہاں بہتری و ترمیم کی گنجائش نکلتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اگرچہ دھشت گردی کی دفعہ ہٹا دی تھی جبکہ فیصلے کا متن کہتا ہے کہ " ممتاز قادری نیک و پرھیزگار تو ہوسکتا ہے لیکن قاضی نہیں۔کونسے الفاظ توھین کے زمرے میں آتے ہیں اِس کا تعین عدالت کرے گی۔" ریاست نے سپریم کورٹ میں دھشت گردی کی دفعہ 7-اے کو دوبارہ شامل کروایا۔ ایسا اقدام جو معاشرے میں بےچینی،ھیجان اور ڈر خوف پیدا کرے۔کسی کی جان لے کر اسے دوسروں کیلیے سبق آموز قرار دینا دھشت پھیلانا ہی تو ہے۔ممتاز قادری نے اپنے بیان میں دوبارہ اضافہ کروایا کہ سلمان تاثیر نے اُسے طیش دِلوایا اور مکالمے کے دوران دھکے بھی دیے۔جبکہ چار جنوری کی سہ پہر شیخ وقاص نامی شخص بھی گورنر پنجاب کے ہمراہ تھا نہ تو مجرم کے وکلاء میں اتنی ہمت ہوئی کہ اُسے شہادت کیلیے عدالت بلواتے اور نہ ہی کوئی ایک چوٹ،خراش کا نشان تک دکھایا گیا جِس سے ثابت ہو کہ اُسے طیش دِلوایا گیا جس کے باعث سرکاری وردی میں ملبوس ایک کمانڈو نے سرکاری ھتیار کی اٹھائیس گولیاں سامنے کھڑے اُس شخص پر چلا دیں جِس کی حفاظت کا امین بنا وہ ریاست سے تنخواہ لے رہا تھا۔ اسی نقطے کو عدالتی فیصلے کے متن کے حساب سے آرٹیکل ۱۲۱  کو  اپنے فائدے کیلیے استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور اِس بیان کو من گھڑت،اپنی جان بچانے کیلیے ایک حربہ قرار دیا گیا ہے۔عدات نے ممتاز قادری کے بیانات کو دو حِصوں میں تقسیم کیا ؛ قتل کا حقائق پر مبنی جواز اور قانونی جواز۔۔۔ مگر ہر دو سطح پر اُن کے وکلاء اپنے مؤکل کا مؤقف درست ثابت کرنے میں ناکام رہے۔بطور ثبوت اخباری رپورٹ پیش کی گئی جو کہ قتل کے مہینوں بعد چھاپی گئی اور جس کو عدالت نے رپورٹر کی قیاس آرائی اور فرضی کہانی قرار دیا۔دوسرا اخباری تراشہ اُس رپورٹ کا پیش کیا گیا جس میں سلمان تاثیر کے کسی ٹی۔وی چینل کو دیے گئے انٹرویوکا حوالہ دیا گیا تھا۔مگر نہ تو اس چینل اور پروگرام کا نام بتانے کی زحمت کی گئی۔نہ ہی نشر کیے جانے کی تاریخ ، وقت اور دیگر تفصیلات کا کوئی حوالہ موجود تھا۔مزید یہ کہ رپورٹر نے بھی کلیم نہ کیا تھا کہ اُس نے خود ایسا کوئی بیان سلمان تاثیر کے منہ سے سنا ۔ عدالت میں جمع کروائے گئےتحریری بیان میں سورۃ التوبہ کی آیہ مبارکہ نمبر ۱۲،۱۳،۱۴ اور ۱۵ ، سورۃ المائدہ کی  آیت نمبر ۳۳ ،سورۃۃ الحجرات کی  آیہ مبارکہ نمبر ۲ اور اسی طرح  سورۃ النور،سورۃ  الحزاب، سورۃ النساء ، سورۃ البقراہ ، سورۃ المجادلہ اور سورۃ الانفال کی مختلف آیہ مبارکہ کے علاوہ ۳۰احادیث کے حوالے بھی پیش کیے گئے۔ جن کے جواب میں عدالت نے تحریری فیصلےمیں قتل کے تمام معاملے کو سنی سنائی بات پر بنا تصدیق کے ردِ عمل میں اٹھایا گیا انتہائی قدم قرار دیتے ایسے لوگوں کیلیے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر۶ ، سورۃ النساء کی آیہ مبارکہہ نمبر ۸۳ اور ۹۴ میں دی گئی وعید کا حوالہ دیا ہے۔ 
فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان کو بھلا کر چند واقعات کا حوالہ دینے والے بھول جاتے ہیں کہ اُس لمحے وہ حکم ریاست کے ولی و حاکم کی جانب سے تھا ورنہ گستاخی کرنے اور ہجرت پر مجبور کردینے والوں کی امانتیں لوٹانے کیلیے حضرت علی
ؓ  کو اپنے بستر پر نہ سُلایا جاتا کہ سویرے امانتیں لوٹا کر آئیں۔
ممتاز قادری کے تحریری بیان میں ملک بھر کے نام نہاد مذہبی سکالرز سے قاتل کے حق میں فتووں کے علاوہ یہ بھی درج کروایا گیا کہ گستاخِ
  کی میت کو غسل تو کیا جنازہ تک جائز نہیں۔آپ متشدد اور نفرت بھری سوچ کا اندازہ کیجیے۔پڑھتا جا شرماتا جا۔
۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء  کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔اس کے بعد صدرِ مملکت کو رحم کی اپیل بھجوائی گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ نہ تو مقتول کے ورثاء نے دیت لی یا اللہ واسطے معاف کیا اور نہ ہی آج تک ہمارے ہاں دھشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے والے مجرم کو معافی مِلی ہے۔بہرحال تصور کیا جاسکتا ہے کہ اکتوبر سےاس برس انتیس فروری کی صبح تک ریاست اور حکومتِ وقت کو دباؤ میں رکھنے کی کتنی کوشش کی گئی ہوگی جِس کا سرِعام مظاہرہ پھانسی کی خبر آجانے کے بعد کیا گیا کہ لاہور میں میٹرو بسوں پر پتھراؤ کروایا گیا،شاہراہیں بند کردی گئیں لہذا دفعہ ۱۴۴  نافذ کرنا پڑی۔جبکہ دارالحکومت میں جڑواں شہروں کو ملانے والی اسلام آباد ایکسپریس وے اور فیض آباد پل کے علاوہ بارہ کہو اور روات سے شہر میں آنے والے راستے بند کرکے مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔فیض آباد کے نزدیک میڈیا کے نمائندوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔آخر وہ کونسے منظم عناصر تھے جنہوں نے لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو اشتعال دِلوا کر سڑکوں پر نکالا۔یقیناً کسی انسان کی آخری رسومات میں شرکت کرنے سے ریاست کسی کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتی مگر اِن رسومات کو ریاستی قوانین کو پامال کرنے کا پلیٹ فارم بنا لینا کسی طور جائز نہیں۔اب آپ آئے روز سنیں گے کہ فلاں جگہ مرحوم کی یاد میں مسجد، مدرسہ قائم ہورہا ہے۔چندہ دیجیے۔مگر ایک سبزی فروش کا بیٹا جو ایلیٹ فورس میں کمانڈو کے عہدے پر تھا،جس نے اپنے چار ماہ کے بیٹے کی یتیمی اور جوان بیوی کی بیوگی بارے نہ سوچا ،پہلے کہتا رہا کہ یہ قتل دوسروں کو ایک سبق سکھانے کیلیےقرآن و سنت کی روشنی میں کیا اور پھر جان بچانے کیلیے آرٹیکل ۱۲۱ کا سہارا لینے کی کوشش کرتا رہا۔تو کیا ریاست اور یہہ نام نہاد مذہبی ٹھیکےدار اِس یتیم کی تعلیم و تربیت اور بیوہ کی داد رسیی کے ساتھ بوڑھے والدین کی معاشی و معاشرتی حوالوں سے مدد کریں گے۔

آخر میں مجھے نومبر کے مہینے میں بی۔بی۔سی نیوز میں چھپنے والی ایک خبر یاد آ رہی ہے جِس کے مطابق عاشقِ رسول ممتاز قادری نے اپنے اہلخانہ سے پہلے کی طرح نہ ملوائے جانے پر خودکشی کی دھمکی دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیکیورٹی وجوہات اور خطرناک قیدی ہونے کی وجہ سے قاتل اپنے اہلِ خانہ سے لوہے کی باڑ کے پیچھے سے ملاقات کرسکتا تھا۔ممتاز قادری نے اِس قانون کو بھی ماننے سے انکار کیا اور خودکشی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی (حرام) موت کی ذمہ دار انتظامیہ ہوگی۔جِس کے بعد جیل انتظامیہ نے مجرم کی مرضی سے ملاقات کی اجازت دے دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر دِلبرداشتہ مجرم خود سوزی کرلیتا تو اُس کے حواری کون سی معجون کوٹ پیس کر بازار میں بیچتے ۔

بدھ، 16 مارچ، 2016

شکنجہ

ریلوے اسٹیشن کی قریبی آبادیاں اور ریلوے کالونیوں کے رہائشی بخوبی جانتے ہیں کہ سال میں کونسا موسم ہوتا ہے جب ان کے گھر کے اسٹور رومز،باورچی خانے اور پرانی الماریوں میں چوہوں کی آمد و افزائشِ نسل ہوتی ہے۔لاکھ طرح کے جتن کرلیے جائیں یہ بِن بلائے مہمان ضرور آ دھمکتے ہیں۔ اور زیادہ تر گھرانے انہیں بھگانے ، مارنے یا جان چھڑوانے کے حسبِ استطاعت مہنگے ، سستے اور طویل یا قلیل مدتی انتظامات کرتےضرور ہیں۔اگرچہ کچھ گھرانے ایسے بھی دیکھے ہیں جو میوچل انڈر سٹینڈنگ اپناتے ہوئے پرواہ نہیں کرتے۔حتیٰ کہ مہمانوں کے سامنے شرمندہ ہونے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔
ایک تو ہوتا ہے سفیدی مائل اور سرمئی رنگ کا چھوٹا چوہا جس کیلیے آج بھی ہر شہر کے بڑے بازار کے گول چکر میں ایسی گولیوں اور پاؤڈر کی خرید و فروخت ہوتی ہے جو بیک وقت چھپکلی،لال بیگ اور چوہے سب کےلیے مؤثر کارکردگی کے دعوے کا لیبل لگوائے دستیاب ہے۔اور ایک ہوتا ہے تھوڑا درمیانی صحت و جسامت والا چوہا اس کےلیے شکنجہ ملتا ہے جسے عام زبان میں  کُڑُکّی  کہا جاتا ہے۔ اور ایک اور ہوتا ہے وہ بدبو دار اور کراہت آمیز آواز نکالنے والا بڑا چوہا ۔ رنگ اِس کا سیاہی مائل گندمی ہوا کرتا ہے۔یہ آپ کو لاہور اور پنڈی ریلوے اسٹیشنوں پر شانِ بےنیازی سے گھومتا پھرتا دکھائی دیتا ہے ۔اس سے نبٹنے کے لیے مارکیٹ میں پنجرہ دستیاب ہے۔غرضیکہ ہر قسم کی مصیبت کے لیے ہر طرح کا مال بازار سے بارعایت حاصل کیجیے اور وبال سے جان چھڑوایے (اگر  کراہت آتی ہے اور ارادہ ہے تو)۔
بہرحال جناب قصہ مختصر یہ کہ تھوڑی ہوش سنبھالی تو دادی کو  نیلا تھوتھا نما کوئی سفوف آٹے میں ملا کر گولیاں بناتے اور گھر کے کونے کھدروں میں پھینکتے دیکھا کرتے تھے۔پھر آگیا دور مورٹین ریٹ کِلر کا جو کہ ہم اکثر ہی اپنےجیب خرچ سے منگوا کر موسم شروع ہونے سے قبل ہی گھر میں ڈال لیتے تھے۔فائدہ اِس کا یہ ہوا  کہ چوہے اس فیروزی دوا کو کھاتے اور باہر کھلی فضا میں جا کر مرتے جِس سے گھر میں تعفن پھیلنے اور پھر بھائیوں کا منت ترلہ کرکے اٹھوانے کی کوفت سے نجات مِلی۔ یہ سہولت بھی آخر کب تک رہتی۔درمیانی صحت کے چوہوں کا حملہ ہوا تو شکنجہ لانا پڑا۔۔۔تعداد اتنی بڑھی کہ تین شکنجے گھر کے مختلف کونوں میں رکھے۔ایک میں مکھن لگی روٹی کا ٹکڑا پھنسایا ، دوسرے میں پنیر جبکہ تیسرے میں سیب کا ٹکڑا رکھا(مارنا ہی ہے تو اچھا کِھلا کر قلع قمع کرو)۔آدھی رات کو ٹَھک ٹَھکا ٹَھک کی آوازیں آتیں اور ابا بھاگتے کہ ابھی شکنجہ فارغ کرو تاکہ اگلا شکار پھنسے۔خوب تماشہ رہتا۔
چچا کی پوسٹنگ چنیوٹ تھی اور ہم امتحانات سے فارغ ہوئے چچی کو شرفِ میزبانی بخشے ہوئے تھے۔جب اُن کے اسٹور روم میں دو چوہوں کا قبضہ سننے میں آیا۔ جن کی آوازوں نے دو روز سونے نہیں دیا،تیسرے دن اسٹور کا سب سامان صحن میں منتقل کیا گیا اور ایک موٹا ڈنڈا لیے چچا سٹور میں قابض سے جنگ کرتے پائے گئے۔ہمارے قہقہے پورے گھر میں گونج رہے تھے۔کوئی آدھ گھنٹے بعد دروازہ کھلا۔چچا بنیان تہمد میں ہانپ رہے تھے۔جھانک کر اندر دیکھا تو دھشت گرد چوہے شدید زخمی حالت میں زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے جبکہ چچا کے بچے اپنے ظالم ابا کو کوس رہے تھے جنہوں نے زخمیوں کو مرنے کیلیے کوڑے دان کی نظر کردیا۔خس کم جہاں پاک۔
ابا کی ترقی ہوئی اور ہم بڑے گھر میں منتقل ہوئے تو گھر ریلوے لائنوں سے اتنا قریب ہونے کا پہلا نقصان بڑے والے چوہوں کے خاندان کا ہمیں خوش آمدید کہنا تھا۔ہم سے پہلے جوگھرانہ یہاں آباد تھا ان کے بقول پینتیس سال سے وہ ان سے نجات حاصل نہیں کرپائے تھے۔بلی کے بلونگڑوں کی جسامت والے چوہوں کو شکنجے کیا کہیں جناب۔ بھائی نے پہلا کام جو کیا وہ پنجرہ لانے کا تھا۔اُس کے اندر پہلے روز پنیر رکھا تو چند منٹ میں ایک موٹا پلا پلایا چوہا قید ہوچکا تھا ۔مسئلہ تھا اسے اب مارنے کا۔بڑے بھائی نے ھینڈل کیساتھ رسی باندھی اور گھر کے سامنے نہر کنارے پنجرہ لے گئے۔ آدھے محلے کے بچوں کو ارد گرد اکٹھا کیا اور تماشہ دکھاتے پنجرے کو لگے ڈُبکیاں لگوانے۔ ہم دروازے کی اوٹ سے یہ منظر دیکھ کر کُڑھتے اپنا خون جلاتے رہے جبکہ اماں کے مطابق بھائی بہتر جانتا تھا کہ کیسے نبٹنا ہے۔صاحب بہادر نے پندرہ بیس منٹ یہ سرکس لگائے رکھا اور جب ادھ موئے چوہے میں مزید سہنے کی ہمت دکھائی نہ دی تو پنجرے کا بالائی راستہ کھول کر نہر بُرد کر کے ہاتھ جھاڑتے گھر آگئے۔ آتے ہی سیب کا نیا ٹکڑا پنجرے میں ڈال کر گھر کے اُس دروازے کے پیچھے رکھ دیا جہاں سے اِس مخلوق کا آنا جانا تھا۔ تجربہ کامیاب یوں رہا کہ ہفتے بھر میں ہی ان نہر تماشوں کے دوران گھر سارا پاک ہوچکا تھا۔
کہاوت ہے کہ انسان ہمیشہ چوہوں سے چھ فِٹ سے زیادہ کے فاصلے پر نہیں ہوتا۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کیونکہ ابھی سالوں سے ہمارے اِس نئےگھر میں ایسا کوئی شکار پھنسا نہیں۔وجہ شاید یہ بھی ہے کہ گاہے بگاہے ریٹ کِلرز کا چھڑکاؤ کرتے رہتے ہیں۔اور بچوں کو بھی بتا رکھا ہے کہ یہ کھانے والی گولیاں نہیں ہیں بلکہ بھگانے والی ہیں۔
نوٹ : اِس تحریر کا تعلق کسی قسم کے خاکی چوہوں سے نہیں ہے۔ہر طرح کی مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔

جمعرات، 10 مارچ، 2016

اصل کہانی


اُس کی نانی اور والدہ ریلوے پرائمری سکول میں آیا تھیں۔بارہ سالہ ریحانہ اکثر اپنی نانی کے ساتھ ہمارے گھر آیا کرتی جب اماں سے کچھ رقم ادھار لینی ہوتی۔پھر سنا کہ ریحانہ کے پیٹ سے دس کلو ملپ آپریشن کرکے نکالے گئے ہیں۔کچھ عرصہ بعد جانے کیا سوجھی کہ اماں کے پاس زبردستی شاگردہ بن بیٹھی۔ "بس باجی میں تو آپ سے کٹائی،سلائی سیکھوں گی۔نانی دور نہیں بھیج سکتی۔اور پڑھنا میرے دماغ کا روگ نہیں۔" بہت سمجھایا مگر جیت ریحانہ کی ہوئی۔یونہی کچھ ماہ گزر گئے اور ایک روز چھٹی لینے آگئی کہ گجرات میں ایک مزار سے آنکھوں پر تیل لگا کر نانی کی بصارت واپس مل سکتی ہے ،لہذا اُسے بطور اٹینڈینٹ ساتھ جانا تھا۔

ایک ہفتے بعد ریحانہ کی نانی اکیلی لوٹیں اور کالونی بھر میں بچے بچے کو خبر مل گئی کہ جب نانی دربار کے چراغ سے تیل آنکھوں پر لگائے بیٹھی تھی تو بیت الخلاء گئی ریحانہ واپس ہی نہ آئی۔پرچہ کٹوا دیا گیا۔یہ میاں نوز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کا واقعہ ہے۔اُن دنوں وزیرِ اعظم ہاؤس میں عوام سے ٹیلی فونک رابطہ اور  کھلی کچہری کا چرچا تھا۔ریحانہ کی والدہ ہمارے گھر سے فون ملاتے اپنا پلو بھگوتی رہتیں۔جب کوئی امید دکھائی نہ دی تو کھلی کچہری پہنچ گئیں۔ معاملہ پریس کے سامنے آیا اور وزیرِاعظم نے فوری کاروائی کی یقین دہانی کروا دی۔کچھ ہفتوں میں  وقفوں سے اُس ہی علاقے سے لڑکیاں اغواء کرکے علاقہ غیر بھجوانے والے دو گروہ پکڑے گئے۔مگر ریحانہ نے ملنا تھا نہ ملی۔
سال تھا دو ہزار چار،ابا کی ملازمت میں ترقی کے بعد ہم دوسری کالونی کے بڑے گھر میں منتقل ہو چکے تھے جب پرانی کالونی سے خبر ملی کہ ریحانہ واپس آگئی ہے۔کسی نے بتایا کہ خود آئی ہے ، کوئی کہتا پولیس نے بازیاب کروایا اور چند ایک نے بتایا کہ عرصہ ہوا والدین کو مل چکی تھی مگر باقی بیٹیوں کا گھر بسانے کی خاطر ماموں کے ہاں چھپا رکھا تھا۔غرض کہ جتنے منہ اُتنی کہانیاں۔
ایک روز ریحانہ کی والدہ ہمارے ہاں آئیں اور جو کہانی انہوں نے سنائی اس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ محلے کے ڈیرے دار کو ریلوے ٹریک پر ایک جھَلی سی لڑکی بنا دوپٹے کے بیٹھی مِلی۔جو بار بار کہہ رہی تھی ۔۔۔"امی ، ٹریناں ، گھر  نانی ، میں ریحانہ۔۔۔" ان صاحب نے فوری کڑیاں ملائیں اور ریحانہ کی ماں کو بلوایا (نانی وفات پا چکی تھیں) جس نے بیٹی کو پریشان حال میں پہچان لیا تھا۔
میڈیا اُن دنوں آزادی کا نیا ذائقہ چکھ رہا تھا۔پہلے تھانے میں اطلاع کی گئی اور پھر بچی کو نہلا دھلا کر اچھے لباس اور صاف ستھرے حلیے میں میڈیا کے سامنے لایا گیا ۔اخبار میں اشتہار بھی دے دیا گیا۔تیسرے روز ایک میلا کچیلا بندہ دو بچوں کیساتھ نکاح نامہ پکڑے ریحانہ کے شوہر ہونے کا دعویدار بنا کھڑا تھا۔لاہور سے آیا تھا جِس نے  اپنے حصے کی کہانی بیان کی کہ ظالم بھیڑیے ریحانہ کو مختلف انجیکشنز کے زیرِ اثر  رکھ کر اپنے مقاصد کیلیے استعمال کررہے تھے۔اور دوا کے زیادہ استعمال نے اس کی ذہنی صلاحیتیں بالکل مفلوج کرڈالی تھیں۔ سات آٹھ سال قبل جب چھاپے پڑ رہے تھے تو کس طرح ریحانہ نشے کی حالت میں وہاں سے بھاگی اور اِس شخص کے تندور کے سامنے بیہوش ہوگئی۔یہ شخص لاوارث تھا کچھ مہینوں بعد اہلِ علاقہ نے اس کا نکاح نیم پاگل ریحانہ سے کروادیا۔مگر وہ اکثر اپنے والدین اور گھر کی دھندلی یادوں کو دہراتی دو بچے پیدا کرچکی تھی۔
اس تمام داستان میں درجنوں جھول تھے جو کوئی بھی ذی ہوش تلاش کرسکتا تھا۔پہلا سوال ہی یہ تھا کہ گھر سے آدھا میل دور ریلوے ٹریک تک پہنچی کیسے،کس نے پہنچایا اور اُس سے آگے گھر کا راستہ کیوں نہ یاد آیا۔مگر اماں نے مبارکباد  دی کہ بیٹی مِل گئی اور ہماری دادی کا مشہورِ زمانہ تبصرہ "پُتر موئے دا صبر آجاوندا اے،گواچے دا نئیں۔۔آس بنی رہیندی تے بندہ کُرلاندا ریہندا اے۔" (بیٹا ! مَرے کا صبر آجاتا ہے مگر گُم ہوئے کا نہیں۔آس بندھی رہتی ہے اور زندگی سسکتی رہتی ہے)۔
مقصد اِس آنکھوں دیکھے واقعہ کو بیان کرنے کا صرف یہ ہے کہ آٹھ مارچ کو سابق گورنر پنجاب کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کی چار سال سات ماہ کے بعد اچانک واپسی نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیرِ داخلہ کا انکشاف ،ترجمان بلوچستان حکومت کا بیان ، آئی،ایس،پی،آر کے دعوے (لمحہ بہ لمحہ تصویری حال کے ساتھ)  اور تاثیر خاندان کے مؤقف کے علاوہ ہماری ٹی۔وی سکرینوں پر بیٹھے بقراط ۔۔۔ کسی ایک کا بیانیہ دوسرے سے میل نہیں کھا رہا۔ایسے میں سوشل میڈیا پر سازشی تھیوریز گھڑنے،دائیں اور بائیں بازو کے دعویداروں کا رویہ بھی خاص قابلِ تعریف نہیں۔
عرض فقط یہ  ہے کہ اگر معاملہ صرف تاوان کا تھا تو پانچ پارٹیز کے ہاتھوں مغوی کو بیچا ہی کیوں گیا۔اگر اغواء ہی نہ ہوا تھا تو تشدد زدہ اور ریت میں گردن تک دھنسے شہباز کی تصاویر کِس نے جاری کی تھیں ۔ یو۔ای۔ٹی کا وہ طالب علم کیا ہوا۔اچھا تو داعش کے چنگل سےافغان طالبان کمانڈر نے رہائی دِلوائی۔ٹھیک۔۔۔تو اِس نام نہاد کاروائی میں گرفتاریاں کہاں ہیں نیز اُس طالبان کمانڈر سے ڈیل کِس نے اور کِن شرائط پر کی اور اگر کچلاک (بلوچستان) کے مشہورِ زمانہ السلیم ہوٹل میں بیٹھا شہباز تاثیر جیب میں پڑے ساڑھے تین سو روپوں کے برتے رُوش تناول فرما رہا تھا تو آپریشن،بازیابی،کاروائی جیسی اصطلاحات کے نئے مفہوم سے قوم کو متعارف کروانے پر ہم واقعی مشکور ہیں۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب بڑے نقصان سے کمر ٹوٹی ہو اور ایسے میں دوسری قیمتی شے نقصان کرنے والے کے ہمدردوں کے قبضے میں ہو تو سزا دینے میں تب تک تاخیری حربہ استعمال کرو جب تک اپنی شے تحویل میں نہ آجائے۔اب یہ کامیابی خبر کی صورت کب اور کیسے سامنے لانی ہے مرضی ہے مالکان کی۔بس یہ دھیان رہے کہ اصل کہانی میں ایسا جھول نہ ہو جو جگ ہنسائی کا باعث بنے۔