ہفتہ، 21 مئی، 2016

جھگڑا

آج پھر یونہی کسی نے ہنستے ہوئے کہا تھا "جانے دو بھئی۔۔۔سوا دو سال میں کبھی کوئی جھگڑا ہی نہ ہوا ہو۔ایسا ممکن نہیں۔اور اگر ایسا ہے تومان لو کہ وہ رشتہ کسی طور نارمل تھا ہی نہیں۔"
وہ چونکی تھی اور تنبیہہ کے انداز میں شہادت کی انگلی اٹھائے،ماتھے پر تین بل سمیٹے تصحیح کررہی تھی ، "دو سال، چار مہینے ، ایک دِن۔۔۔ اور جھگڑے کی فرصت و گنجائش کبھی میسر نہیں آئی تو اس میں ایبنارمل کیا ہے ؟"
بات کچھ ایسی نہ تھی لیکن محفل سے دِل اُچاٹ ہوچکا تھا۔آخروہ کیوں اس کی بات کا ایک ہی بار یقین نہیں کرلیتے۔کیا لوگ اپنی نجی زندگیوں میں اتنے جھگڑالو تھے یا پھر وہ خود ہی آئیڈل قسم کا نمونہ پیش کرتے کوئی کھردرا سرا "کوئی بات نہیں۔اِٹ ھیپنز۔۔۔"  کے زمرے میں جان بوجھ کر کہیں رکھ کر بھول بیٹھی تھی۔واپسی پر غائب دماغی سے وہ کوئی کڑواہٹ یاد کرتے ، بے ہنگم ٹریفک کو گھورتے  قرینے سے سجائے ماضی میں سے بے ترتیبی کھنگالتی  رہی۔
کافی کب کی ٹھنڈی ہوچکی تھی جبکہ کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتے وہ آج پھر رفو شدہ یاداشت کو لیرو لیر کرنے میں مصروف تھی ۔نئے س
ِِِرے سے بچی کھچی راکھ کریدتےوہ  کسی لڑائی اور بدمزگی کی چنگاری کی تلاش میں ہلکان ہو چکی تھی۔ "شاید اُنہیں  خفگی اور غصے میں میری گہری خاموشی سے ڈر لگتا ہو۔یا شاید مجھے اُن کے غضبناک لہجے کو سن لینے کی تاب نہیں تھی۔شاید ہم دونوں اذیت پسندی سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔" ہمیشہ کا اخذ کردہ نتیجہ دہراتے مگ کے کناروں پر انگلی گھماتے اسے اچانک اِس پُر مغز تحقیق میں کچھ اضافہ میسر آگیا تھا۔۔۔ "یا شاید ایک دوسرے کو مرکزِ ثقل مانے ہم دونوں اک دوجے کے طواف میں مگن رہتے تھے۔" کیا تھا، کیوں تھا اور ایسا ہی کیوں تھا۔ہر بار یہ گُتھی سلجھنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔
"جھگڑے اور پیار بھری ڈانٹ میں بہت فرق ہوتا ہے ۔اچھے دوست فکر کرتے ہیں ۔لہذا مان کے ساتھ ڈانٹ پِلانے کا حق رکھتے ہیں۔آپ کی جانب سے بھی تو ڈانٹ کی بجائے چند سیکنڈز  کی خفگی کا شاندار مظاہرہ ہو ہی جاتا ہے نا۔" کسی کونے میں چھپی کھنکتی سرگوشی ہر بار اس کے پیر جکڑ کر آنکھیں نم کرنے کا سامان کرلیتی تھی۔
انگلیوں کی پوروں پر حساب کے کچے طالب علم کی طرح وہ شمار کرنے لگی تھی۔
ڈھنگ سے نہ کھانے پر۔۔۔اوں ہوں! وہ تو خفگی تھی۔فکر تھی۔ اچھا چلو ! ظہر کی جماعت سے قبل فون کال نہ اٹھانے پر۔۔۔کہاں جی، وہ بھی پریشانی کی علامت ہی ٹہری تھی۔یاد آیا وہ ایک بار ڈیڑھ دِن ، پورے پینتیس گھنٹے بات نہیں کی تھی۔کیا وجہ تھی۔۔کیا وجہ تھی بھئی۔۔۔ہاں ! پانی کی بوتل خود اسٹینڈ پر لگائی تھی۔لیکن یہ تو ڈر تھا جو ایک بار کسی نعمت کے چِھن جانے پر ذہن پر قابض ہوگیا تھا۔
بارش میں نہانے کی ضد پر بھی تو ڈانٹا تھا۔۔۔لیکن وہ تو بخار آگیا تھا تو بوکھلاہٹ تھی۔
کھانے کے نمک مرچ پر یا مہمانوں کی تواضع ڈھنگ سے نہ کرنے پر۔۔۔۔ارے یہ کیا۔عجیب انسان تھے کہ جنہیں ایسے مروجہ اصول پر جھگڑنے کا کوئی موقع ہی میسر نہ آیا تھا۔
لوگ چٹخارے لے کر اپنی روداد سناتے ہیں کہ شاپنگ نہ کروانے،کھانا باہر نہ کھانے، بچوں کو سنبھالنے ، نمک مرچ کی مقدار کو لے کر اور ایک دوسرے کے خاندانی معاملات پر کتنے مزے کے جھگڑے اور گلے شکوے ہوتے ہیں۔روٹھنا منانا۔۔۔آہ کیسا ہوتا ہے یہ تجربہ۔معاشرتی اور سماجی اعتبار سے بھرپور اور مکمل طور پر نارمل رشتہ۔ تو کیا واقعی وہ ایک ایبنارمل رشتے میں باندھ دیے گئے تھے۔یہ جملہ ذہن میں کہیں اٹک گیا تھا ۔
وہ کرخت طبیعت کے باعث خاندان بھر میں مشہور تھی۔ سماعتوں میں ایک ہی سوچ اور لہجے مختلف الفاظ کے پیرہن کے ساتھ ٹکراتے رہتے۔۔۔ "کہے دیتے ہیں یہ تیور گھر بسانے والی بچیوں کے نہیں ہوتے۔گز بھر لمبی زبان۔توبہ ہےقینچی کی طرح چلتی ہے۔ہر موضوع پر رائے زنی کرتی بہو بیویاں کسی کو نہیں بھاتیں۔تربیت ڈھنگ سے کی ہوتی تو آج رشتوں کی لمبی قطار ہوتی۔اپنے مارتے بھی ہیں تو چھاؤں میں بٹھاتےہیں۔ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھتے۔(اور اس کا جذب جواب دیتا تو پلٹ کر ضرور پوچھتی۔۔۔تو یعنی "چھالے" ہی بنا کر رکھنا مقصود ہے؟) اوپر سے پڑھ لکھ کر دماغ خشکی میں ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے۔کرلو بھئی شوق پورے اور دیکھ لیں گے ہم بھی کہ اتنا پڑھا لکھا بندہ کب چُٹیا سے پکڑ کر باہر کا راستہ دکھائے گا۔ ایسی آزاد منش لڑکیاں تین مہینے سے زیادہ چاؤ چونچلے اٹھواتے گھر نہیں بسا سکتیں ۔ہونہہ۔"
لیکن یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ تھا۔مباحثے کا حصہ نہ بننے پر آنکھیں دکھائی جاتیں۔کتاب نہ پڑھنے پر استفسار کیا جاتا اور فوری کسی حجت کو مان لینے پر طبیعت کی ناسازی سے جوڑ دیا جاتا۔لیکن جھگڑا۔۔۔لڑائی۔۔۔اس سارے فلیش بیک میں ایسا تلخ ذائقہ تو پھر بھی چکھنے کو نہ ملا۔کیا فائدہ ہوا کھرنڈ چھیلنے کا۔رستے بہتے زخم کو دیکھ کر کیسی لذت اور اطمینان ۔۔۔خود اذیتی سے نفرت کی حد تک کنارہ کشی اور پھر یہ سب پھیلاوے کی اچانک ضرورت کیا آن پڑی۔
ضرورت تو تھی نا۔صبح اُن تمام جھگڑوں اور تلخ شکوے شکایات کا دِن تھا جو سال میں ایک ہی بار تو ملتا تھا۔۔۔ بِنا بتائے نئے سفر پر تنہا جانے کا شکوہ ، جھگڑا اُس
آخری پرسکون مسکراہٹ کا ، شکایت آبلہ پائی کی ، بحث آنسوؤں کے سود بیاج کی ، حساب کتاب زندگی کے نفع نقصان کا اور  غصہ لوٹ کر گھر نہ آنے کا ۔۔۔ استہزایہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے خود کو کامیاب اداکاری پر خیالی تھپکی دی تھی۔"شاباش! تین برسوں میں اِن جھگڑوں کی کسی کو بھنک تک نہیں پڑنے دی۔گھر کی بات باہر کرنا عقل مندی نہیں ہوتی۔"

منگل، 17 مئی، 2016

خونِ ناحق

 ابھی کچھ دن بیت چکے ہیں۔ ایک اور خونِ ناحق پس پردہ جانے کی تیاری پکڑ رہا ہے۔مزید کچھ روز گزر جائیں گے تو چونکہ زخم صرف مقتول کے ورثاء کو ہی آیا کرتے ہیں لہذا ہرے رکھنے کی فرصت بھی اُنہی کو میسر رہے گی۔باقی  تو فلاں تنظیم ، ڈھمکاں ادارہ ، یہ سوسائٹی اور وہ مکتبۂ فکر سب ہی کو نیا ایشو اور نئی پیکنگ میں ملفوف نویلا مال مصالحہ روزانہ کی بنیاد پر ملتا رہتا ہے۔زندگی یونہی تمام ہوجایا کرتی ہے۔والدین کے آنسو، بیوہ کی سسکیاں اور یتیموں کی محرومی بارے فکر کرنے اور با عزت گزر بسر کا سامان کرنے کا فریضہ معاشرے میں چند ہی کو یاد رہتا ہے۔
خرم ذکی بھی ایک ایسا ہی نام ہےجو اپنے مسلک و قبیلے کو آزادی سے زندگی جینے کا حق دلوانا چاہتا تھا۔وہ شخص جہاد کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلنے والے ظالموں کے خلاف بولتا تھا۔کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر کھل کر بات کرتا تھا۔نام نہاد جہادی گروہوں کے گھناؤنے چہرے سے نقاب نوچنا جانتا تھا۔معصوم اذہان کو متشدد سوچ کی آبیاری کرنے والے کچھ مدارس پر تنقید کرتا تھا اور تھانوں میں ایف۔آئی۔آر درج کرواتا پھرتا تھا۔تو کیا یہ ایسا جرم ہے جس کی پاداش میں معصوم بچوں سے ان کے باپ کی شفقت ہمیشہ کے لیے چھین لی جائے۔ اس کا عقیدہ اور نظریاتی بنیادیں اگر کسی سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں تو بھی ۔۔۔تو بھی کِس نے اختیار دیا کہ خون میں نہلا دیا جائے۔نظریاتی اختلاف کا جواب بندوق کی گولی نہیں ہے۔مذہبی یا مسلکی تضاد حتیٰ کہ  کسی کے نجی معاملاتِ زندگی سے غیر متفق ہونے کی صورت میں ابدی نیند سلادینا انسانیت کی توہین ہے۔
ریاست کی ذمہ داری بارے کیا لکھوں۔ اس کا تو اولین فرض یہ ہونا چاہیے تھا کہ باہمی ہم آہنگی اور تضاد میں برداشت کو فروغ دینے کے مواقع تراشتی۔ایسے حالات ایک رات میں پیدا نہیں ہوا کرتے جب اختلافِ رائے پر انسانوں سے جینے کا حق چھیننا روایت بن جائے۔برسوں پرورش و آبیاری ہوتی ہے تب جاکر عدم برداشت اور غیرمتوازن رویے پنپ کر تناور درخت بنتے ہیں۔ریاست اگر واقعی ماں ہے تو غفلت میں کیسے سوتی رہی۔جب کہ اُس کے بچے نفرت انگیز اور گمراہ کُن جھوٹ و فتوے ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے کے واسطےمختلف پلیٹ فورمز پر
  پھیلاتے چلے گئے۔کسی شہری کو اُس کے خیالات اور اظہارِ رائے کی آزادی پر جان کا خطرہ تھا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں  کے ہاں کب،کیوں اور کیسے کا سوال کیونکر نہ اُبھرا ۔ شہری کی اصطلاح اس لیے استعمال کی ہے کہ سماجی کارکن والی بحث طویل ہوجائے گی۔اِس ضمن میں بہرحال اساتذہ کا بتایا پہلا اصول یہی سیکھا تھا کہ سماج کے لیے کام کرنے والے  کسی مخصوص گروہ کی راہ سنوارتے اجنبیوں اور بِنا ثبوت و تصدیق دوسروں کے لیے کانٹے بچھا کر کسی بھی رنگ نسل یا عقیدے سے تعلق رکھنے والے انسان پر زندگی تنگ نہیں کیا کرتے۔دوسروں  کے کردار ، افکار یا افعال و اعمال پر اخلاقی پولیس کا کردار نبھانا لبرلزم کا حصہ کب سے ہوا یہ تحقیق بھی فی الحال جاری ہے۔
خرم ذکی سے میرا پہلا تعارف مارچ
 ۲۰۱۵ء میں ہوا تھا۔توسط اگرچہ نہایت کڑواہت بھرا تھا۔مرحوم "تعمیرِ وطن" یا ایل۔یو۔بی۔پی کے نام سے چلتے ایک آن لائن پیج کے مدیر تھے۔جہاں سے گیسٹ پوسٹ (ہمارے ایک دوست کے بقول بھوتیا ٹوپی ڈرامہ) کے طور پر شائع کردہ ایک تحریر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر موجود کچھ لوگوں کے نام "لشکرِ جھنگوی اور داعش کے سائبر جہادی، القاعدہ ، طالبان ، کالعدم تکفیری دھشت گرد ، خارجی۔۔۔" وغیرہ کے طور پر سامنے لائے گئے۔مرے پر سو درے کہ ان لوگوں کا ایک سیاسی (مذہبی) جماعت سے تعلق بھی جوڑ دیا گیا۔لکھنے والے نے ایک مسلک کو لتاڑتے مسلسل بیان کیا کہ کیسے یہ سب لوگ "فرقہ واریت" پھیلا رہے ہیں۔معاملہ ہنسی میں اڑا دیا گیا کیونکہ بات میں کچھ صداقت تھی ہی نہیں۔
دوسری گیسٹ پوسٹ مئی
 ۲۰۱۵ء میں اس وقت شائع ہوئی جب سبین محمود جیسی زندگی سے پیار کرنے والی خاتون کو آئی۔بی۔اے گریجویٹ سعد عزیز نے قتل کردیا۔اِس بار نہایت عجیب منطق کے ساتھ دوبارہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے کچھ نام اٹھائے گئے اور تاثر دیا گیا کہ وہ سب دیوبند خوارج ہیں اور حساس اداروں نے ان اکاؤنٹس پر نگاہ رکھی ہوئی ہے۔(حوالہ جات بہرحال اس بار بھی ہوائی تیر ہی تھے)۔اور تو اور "الراشدین" نامی میگزین سے بھی تعلق جوڑ دیا گیا۔ایک دو روز مجھ سمیت اس فہرست میں موجود افراد نے  بے سروپا الزامات کا ٹھٹھا اڑایا اور بھول گئے۔
تیسری تحریر جون
 ۲۰۱۵ء  میں آئی جِس میں ایک بار پھر وہی گھٹیا اور بے بنیاد الزامات کا پلندہ تھا۔ سعد عزیز کیس سے بے تُکی کڑیاں ملا کر لوگوں کو ذہنی طور پر ہراساں کرنے کی باقاعدہ کوشش کی گئی۔
یہ تینوں تحاریر پڑھنے پر عقل کا اندھا بھی بتا سکتا ہے کہ لوگوں کے نام اِدھر اُدھر سے اٹھا کر اُن کی دو تین باتوں کو سیاق و سباق سے ھٹ کر دیکھا اور پیش کیا گیا۔سچ کہوں تو ایک بار دِل میں خوف ضرور پیدا ہوا تھا کہ جس طرز و اسلوب سے پڑھنے والوں کو اُکسایا گیا ہے کل اگر کوئی اُٹھ کر تحقیقاتی مقالے کے اس انمول خزانے کو سچ مان لے اور جنت کی تلاش میں مجھے گولی مار جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔جواب ایک ہی تھا۔۔۔میری ذات اور ریاست۔ جی ہاں! اولین ذمہ داری میں نے خود نہیں نباہی۔بطور شہری میرا فرض تھا کہ قانون کے مطابق نفرت انگیز مواد اور لوگوں کو اکسانے والی تحریر اور پلیٹ فورم  کے خلاف رپورٹ درج کرواتی۔یہ الگ سوال ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسا کوئی سائبر کرائم قانون موجود تھا ۔ مجھے لیکن آواز اٹھانی چاہیے تھی کہ بغیر ثبوت غداری کے سرٹیفکیٹ اور میرا عقیدہ جانے بِنا (جو کہ میرا نجی معاملہ ہے) کسی ایک گروہ سے تعلق ظاہر کرکے دھشتگرد مشہور کیا جارہا ہے۔افسوس کہ میں بھی باقی بیس بائیس کروڑ شہریوں کی طرح اپنے قانونی حقوق و فرائض سے نابلد ہوں۔یوں بھی کوئی وزیر مشیر تو ہوں نہیں کہ جو ہتکِ عزت کی مَد میں کروڑوں اربوں روپے ہرجانے کا دعویٰ کر بیٹھتی۔لہذا خاموشی سے کچھ موضوعات سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی مناسب جانا اور اساتذہ نے بھی انگریزی والا
  وُوکل  بننے سے پرہیز ہی بتایا۔یوں میرا نام  کبھی اُس فہرست میں نہیں آ سکتا جو "حق کی آواز" بلند کیے سچ کا علم تھامے سماجی کارکن بن جاتے ہیں۔مجھے زندگی عزیز ہے اور فی زمانہ سنا ہے کہ اپنی اور اپنے سے وابستہ رشتوں کی جان مصیبت میں نہ ڈالنا بھی جہاد ہے۔ جبکہ بہت محنت کے بعد ایک اصول اپنایا ہے کہ جِس وقت کوئی غول یا فردِ واحد آپ کو تَپا کر اپنی مرضی کا ایسا ردِ عمل چاہ رہا ہو جِس کی بنیاد پر سوشل میڈیا یا عام زندگی میں غیر ضروری توجہ بٹور کر کسی مردہ ہوتے موضوع کو زندگی کی  کچھ مہلت مزید دِلوا سکیں تو ایسے سوالی کی جھولی کبھی مت بھریں۔
مبینہ قتل کی صورت میں میری ذات کے علاوہ ذمہ داری آتی ریاست پر۔وہ ریاست جسے یہ ہوش نہیں کہ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر کون لوگ مختلف معاملات میں دوسروں کے لیے مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔کیسی نفرت کی تشہیر اور کیسے تعصب کی یلغار بکھری پڑی ہے۔آزادئ اظہار کے نام پر معاشرے میں کتنے جنت کے متلاشی اذہان تیار کیے جارہے ہیں۔جنسی طور پر ہراساں کرنے کا قانون ٹھوکروں میں پڑا ہے تو ذہنی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ کہاں زیرِ غور آئے گا۔
تو جو معاملہ اتنے روز سے مشاھدے میں آیا اس کی بنیاد پر ذہن میں ایک بات  گھر کرنے لگی ہے کہ جناب اگر اہم حلقوں میں مقام اور اپنی ناگہانی موت یا
  قتل ہونے کے بعد نام بنانا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی وقتی فائدہ دینے کا اجر کمانا مقصود ہے تو کسی نہ کسی قسم کا دُم چھلا اپنے نام ، پروفائل اور تعارف میں لگانا لازم ہے۔کوئی وڈا پنگا لیے رکھیں۔کچھ مسلکی وابستگی ، کسی طرح کا نسلی و علاقائی حوالہ ، سیاسی جماعت کا گرجتا برستا نام، اور چند مشہور سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات کے ساتھ تصاویر تو لازمی بنوا لینی چاہییں۔تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ 
معاشرے میں اجتماعی رویے کے نام پر بھی ایک ہڑ بونگ مچا رکھی ہے۔ یعنی سچ کی جنگ صرف میرا ہم مسلک لڑ رہا ہے۔ کُل کائنات غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرتی ہے.اِک بس ہم نےحق کا علم تھام رکھا ہے۔ سازشوں کا شکار بھی صرف میرا فرقہ و قبیلہ ہے۔ مجھے، میرے ہم مسلک اورہمارے "وڈے" مولوی کو اختیار حاصل ہے کہ نظریاتی اختلاف رکھنے والےکو کافر،ایجنٹ، واجب القتل کے فتوے بانٹیں لیکن دوسرایہ کام کرےتومذہبی منافرت ہوگی۔ ہم کریں توحق کی آواز،دوسرا کرے تو نفرت کا بیوپار۔ہمارا مرے تو شہید، تمہارا مرا توجہاں پاک۔میرے ہم مسلک کےقتل پر ہمارے حساب کتاب سے سوگ نہیں جتلایا گیا تو دوسرے مسالک والوں کا خون بہنے پر دانت نکوسنا فرض ٹہرا۔
ایک بھیڑ چال ہے کہ جہاں کسی شخص کی انفرادی و ذاتی رائے پر واویلا مچا کر عمل سے بڑھ کر سود کے ساتھ ردِ عمل دیتے چلے جاتے ہیں اور جان بوجھ کر حقائق کی بانہیں مروڑ کر مخالف رائے رکھنے والے سے وہ من گھڑت باتیں بھی منسوب کرتے ہیں جو اکثریت کی توجہ بٹور سکیں ۔معمولی اختلاف کو شیطان کی آنت بنا کر ایسے چشم کشاہ انکشافات اور نتائج برآمد کیے جاتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے۔ہمارے ہاں
  کسی قاتل کو ھیرو بنا کر تعظیم و تکریم ہوتی ہے یا پھر خونِ ناحق کو زبردستی قربانی کا نام دیے کسی ایک گروہ سے جوڑ کر عظمت بیان کی جاتی ہے۔مقتول میں ایسے ایسے جواہر اور خوبیاں تلاش کرلی جاتی ہیں کہ فرشتے گنگ ہوجائیں۔اعتدال نامی شے نایاب ہے۔انسانی موت کو اس کی وابستگیوں کے دنیاوی فائدے اور شہہ سرخیوں میں رہنے کے لیے استعمال کرنا سفاکیت ہی کے زمرے میں آتا ہے۔

کبھی آرمی پبلک سکول تو کبھی لاہور گلشن پارک۔۔۔ کھلکھلاتے چہرے زندگی کی علامت تھے۔انہیں والدین نے زبردستی کے طاری کردہ جذبۂ شہادت کیلیے پیدا نہیں کیا تھا۔یونہی بہتے لہو کو قربانیوں کا نام دے کر سینہ پھلاتے ہم لوگ بھول جاتے ہیں کہ سرحدوں پر کھڑے محافظ کسی کے باپ ،بیٹے،بھائی اور شوہر بھی ہیں۔ان کی معذوری اور شہادت پر فخر ضرور کیجیے لیکن معذور غازی کی کٹھن زندگی اور شہید کے لواحقین کی ویران آنکھوں میں جھانکنے کی فرصت بھی نکالیے۔امن چاہیے تو امن و سکون پر فخر کرنا سیکھیے۔جنگ یا لڑائی کیسی ہی ہو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اختلاف کے احترام پر ہی حل ہوا کرتی ہے۔زندگیاں چھین لینے سے صرف کھوکھلے دعوے اور سالانہ بنیادوں پر لڑھکتے نعرے ہی بچتے ہیں۔
خرم ذکی سے شکوہ ان کی زندگی میں بنتا تھا۔ان کی فیس بک پوسٹس دیکھ کر اختلافات اور تحفظات بھی ہو سکتے ہیں لیکن ان تضادات کی بنیاد پر موت کی وادی میں پھینک دیا جانا ناقابلِ قبول فعل ہے۔خونِ ناحق ہر حال میں قابلِ مذمت تھا،ہے اور رہے گا۔ دوسری جانب  قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا فخریہ اعلان اور انفرادی حیثیت میں کچھ مسرت کا اظہار۔۔۔بےحس معاشرے، سماجی رویوں، ریاستی اداروں اور حکومت کے کچھ دعووں کا پول کھولتا ہے۔یونہی ریاستی آئین و قوانین کو پسِ پشت ڈال کر لوگ انفرادی حیثیت میں خود ہی منصف اور مظلوم بنیں گے تو دوسرے کو ظالم اور ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی روایت اپنا کر بیمار معاشرے کو لاعلاج بنانے میں مصروف رہیں گے۔
آوازیں دبانے سے طوفان کبھی نہیں رُکتے۔پردے ڈالنے پر خون کے چھینٹےآپ کے دامن تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لیتے۔تاریخ سفاک اور بے رحم ہوا کرتی ہے۔لکھتی چلی جاتی ہے کیونکہ اس کی میز تلے کوئی ردی کی ٹوکری نہیں ہوتی کہ کچھ غلط لکھا گیا تو پھاڑ کر پھینک دو اور نئے سرے سے فلاں مضمون کو کچھ تحریف کے ساتھ لکھ کر گزشتہ سے پیوستہ کردو۔تاریخ کو رفو گری سے کچھ مطلب نہیں۔

پیر، 25 اپریل، 2016

نا محرم زندگی


"فاطمہ جی دُنیا بہت گندی ہے۔آپ نہیں جانتیں۔"
"مجھے جاننا بھی نہیں ہے۔کبھی نہیں جاننا چاہتی۔آپ ہیں نا  میرے لائف گارڈ۔"
اور پھر وہ لائف گارڈ  ایک روز  فاطمہ  کو  چھوڑ کر چپکے سے  نئے سفر پر روانہ ہوگیا۔شاید اسے یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ اتنی مضبوط ہوگئی ہے جو تنہا اپنی زندگی کا خراج ادا کرلے گی۔
زندگی اور دنیا اُس کے لیے نامحرم ٹہر چکی تھیں۔دفتری ریکارڈ سے جانشینی
 (Next of kin) کا سرٹیفکیٹ غائب تھا۔اور پہلی بار احساس کروایا گیا تھا کہ سر کے سائیں اور اولاد کے بِنا اِس معاشرے میں اس کا مقام بلکہ اوقات  کیا ہے۔ ڈیڑھ سال بعد جب اس نے پینشن کا پہلا کراس چیک وصول کیا تھا تو جانے کتنی نشانیاں آنکھوں کے سامنے لہرا گئی تھیں جو اِس عرصے میں  زندگی کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش میں بیچ دی تھیں۔ہاتھ پھیلانے کی عادت والدین نے کبھی جیب خرچ کے نام پر بھی پنپنے نہ دی تھی تو اب کیسے اور کیونکر کسی کو پکارتی کہ "ابا یہ دوا نہیں کھاؤں گی تو نیند نہیں آئے گی۔بھیا بجلی کا بِل ادا نہ کیا تو میٹر کٹ جائے گا۔" کچن کیبنٹس سے لے کر گھر کے ہر کونے میں پڑے خشک میوہ جات کے فینسی مرتبانوں تک ، ڈیپ فریزر میں دھرے امپورٹڈ جوس کے ڈبوں سے لے کر منوں پھل سبزیوں تک سب کچھ یکسر فراموش ہوچکا تھا۔دلچسپی اور ضروریات محدود سے محدود تر ہوتی چلی گئی تھیں۔اُس نے دنیا کا وہ چہرہ دیکھ لیا تھا جو کبھی نہ دیکھنے پر اِترایا کرتی تھی۔ایک رشتہ جہان سے چلے جانے پر اس سے جُڑے رشتوں کو بدلتے دیکھ بیٹھی تھی اور رویوں کے بے نقاب مکروہ چہروں سے گِھن کے سوا کوئی جذبہ باقی نہ تھا۔ایک بے حسی تھی جِس کو چادر کی طرح اپنے وجود پر تان کر وہ لاپرواہ بنی صرف گُتھی سلجھایا کرتی کہ زندگی اُس پر بیت گئی ہے یا وہ اِس پر بیت رہی تھی۔

اگلے ماہ تیسری برسی تھی اور ڈیڑھ سال میں پینشن تیسری بار روک لی گئی تھی۔پہلی بار دفتر حاضری کروائی گئی تھی صرف یہ ثابت کرنے کو کہ وہ حیات ہے اور اِن گِدھوں کا سامنا کرنے کی ہمت ہے۔بیانِ حلفی جمع کروا کر دوسری بار دفتر سے نکلی تو شیشم کے پیڑ کے نیچے سانس بحال کرنے کو کھڑی ہوگئی۔کانوں میں کہیں سے ایک سرگوشی ہوئی "دنیا بہت گندی ہے۔۔۔" آنسوؤں کو بے حسی سے پلکیں جھپکاتے پی کر طنزیہ مسکرائی " ہونہہ ! آپ کو بھی خبر نہیں تھی کہ کتنی گندی۔۔۔ورنہ یوں نہیں جاتے۔" کسی نے بغیر ثبوت شک کا اظہار کیا تھا کہ وہ شادی رچا چکی ہے اور بدلے میں اُسے عدالت میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروانا پڑا تھا۔تیسری بار ایک نئی گیم ڈالی گئی تھی۔بیانِ حلفی نہیں بلکہ دفتر کی ویب سائٹس سے سرٹیفکیٹس کا پرنٹ آؤٹ لے کر کم از کم سترہ گریڈ کے سرکاری ملازم سے اپنے حیات ہونے اور ابھی تک وفا نباہتے دوسری شادی نہ کرنے کی تصدیق کروائے۔اب کی بار  فون کالز اور دفتری مراسلے کے جھوٹے ثبوت بھی ریکارڈ کا حصہ تھے جِن کے مطابق وہ پانچ ماہ سے جان بوجھ کر دفتر کے رابطہ کرنے کے باوجود کوئی بیانِ حلفی جمع نہیں کروا رہی تھی۔
قریبی انٹرنیٹ کیفے میں کانپتے دل کے ساتھ بظاہر کرخت اور جھگڑالو صورت بنائے مطلوبہ سرٹیفکیٹس کا پرنٹ نکلوانے میں اسے دس منٹ لگے تھے ۔گلی کی نکڑ پر ہی تو تھا وہ گریڈ سترہ کا سرکاری ملازم جو اُس کے بچھڑے محرم سے کبھی اپنے کاغذات پر تصدیقی مہر اور دستخط کروانے آیا کرتا تھا۔برقی گھنٹی بجانے پر وہی باہر نکلا تھا اور لمحہ بھر کو اسے آنکھوں میں جانچ کر مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی جب آمد کا مقصد بیان ہوا تھا۔"دیکھیں جی،ایک تو آپ نے محلے میں کسی کے ہاں اتنا آنا جانا ہی نہیں رکھا کہ حالات سے آگاہی ہو۔عید تہوار پر ہی بندہ دکھائی دے جائے۔لیکن آپ تو پردہ ہی فرما گئیں صاحب کے جانے کے بعد۔دوسرا آپ بھی سمجھدار ہیں۔بڑی مشکل سے مجھے ترقی ملی ہے اور ایسے میں کوئی رِسک نہیں لینا چاہتا۔لائف سرٹیفکیٹ دیجیے تصدیق کیے دیتا ہوں۔اب مجھے کیا علم کہ پسِ پردہ کیا معاملاتِ زندگی ہیں آپ کے۔یوں بھی اب آپ کو احساس ہورہا ہوگا کہ ہم جیسے اہلِ محلہ سے بنا کر رکھنی پڑتی ہے جناب۔" بحث فضول تھی۔وہ خاموشی سے خود کو وہاں سے گھسیٹ کر پچھلی گلی کی جانب بڑھ گئی۔دو سرکاری افسروں کی مِنتیں کرتے وہ انا کچلتے،عزتِ نفس کو تھپکیاں دیتے یقین دِلوانے میں ناکام رہی کہ ابھی تک رنگ اس کے لیے نامحرم ہی تھے۔
رات زیادہ بڑھ رہی تھی۔وہ گھر لوٹ آئی ۔صبح ایک نئی امید کے ساتھ ایونِ صدر میں ملازم اُن بھائی صاحب کے گیراج میں کھڑی تھی جو کبھی اُس کے شوہر کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد دنیا جہان کی گُتھیاں سلجھایا کرتے تھے۔"دیکھو بی۔بی ایک تو مجھے تمہارے مسلک کا علم نہیں۔کون جانےتین سال سے کیا کررہی ہو ۔پھر کل کلاں کو تمہاری خفیہ سرگرمیاں سامنے آجائیں تو میری نوکری تو گئی نا۔نہ بابا نہ۔باز آئے ہم ایسی بھلائی سے۔تصدیق کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔اولاد تمہاری ہے نہیں۔کیا معلوم آزادی کیسے گزارتی ہو۔یا پھر گلی سے اپنے کردار کی کوئی گواہی لے آؤ  تو میں سوچتا ہوں۔" فاطمہ نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھا۔وقت تو کب سے رُک چکا تھا۔۔۔شاید ہمیشہ کیلیے۔کچھ منٹوں بعد وہ پڑوس کی خاتون کونسلر کو اپنے موبائل فون سے نمبر مِلا کر دے رہی تھی کہ بھائی صاحب کو بتائیں "میں باکردار بیوہ ہوں۔"۔
"جی شاکر صاحب! یہ فاطمہ کا کام کردیں نا۔میں کہہ رہی ہوں۔" اور موبائل سے گونجتی دوسری جانب کی آواز اس کی سماعتوں پر گولہ باری کررہی تھی "میں نے تو ٹرخا دیا تھا۔کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ ایسی عورتوں کی گواہی کا مطلب جانتی ہو؟ کل کو تمہاری جوان بیٹیوں کی شادی ہونی ہے۔جان چھڑواؤ بھئی۔"  کم بخت آنسو تو اچھے وقتوں میں خشک سالی کا شکار ہوچکے تھے۔بھرم قائم رہا۔
دفتر فون کرنے پر ناگ سی پھنکارتی پچکارتی آواز میں نیا راستہ دِکھایا جارہا تھا کہ بی۔بی کوئی افسر تصدیق نہیں کرے گا ۔ہمارے دفتر نہیں آنا چاہتی تو یونین کونسل کے دفتر سے تصدیق کروا لو۔اور دو روز میں مصدقہ نقول نہ پہنچیں تو پھر عدالت کا راستہ ہی دیکھنا ہوگا۔
وائے ری قسمت۔یونین کونسل سیکریٹری کو تمام داستان سننے کے بعد خیال آیا کہ علاقے کے نکاح خواں رجسٹرار سے تصدیق کروائے بِنا وہ بھی مہر نہیں لگائے گا۔
جمعہ کا دِن تھا۔وہ مسجد کے دروازے پر کھڑی تھی اور مدرسہ کے لڑکے مٹی سے اٹی دریاں اور غالیچے جھاڑو سے صاف کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھے۔نگاہ اُس پر پڑی تو خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ایک لڑکا آگے بڑھا "او بی۔بی! یہ مسجد ہے۔پاکی ناپاکی کے معاملوں سے بےخبر تم لوگ منہ اٹھائے چلی آتی ہو۔کیا کام ہے ؟"
فاطمہ نے چادر کو ماتھے سے کھینچ کر آنکھوں سے بھی آگے سرکایا اور گویا ہوئی ، " قاری فراست صاحب سے ملنا ہے۔یونین کونسل دفتر نے بھجوایا ہے۔" لڑکے نے ہنکارا بھرا "یہیں کھڑی رہو۔اندر قدم مت رکھنا۔" اور  بھاگ گیا۔ کچھ توقف سے لوٹا "قاری صاحب  پوچھ رہے ہیں نکاح کے سلسلے میں مِلنا ہے ؟" فاطمہ نے ہتھیلوں پر آیا پسینہ چادر میں جذب کیا اور خشک گلے سے آواز نکلی "ہاں۔۔۔"  لڑکا مُسکرایا "وضو کرو اور میرے پیچھے آؤ۔یہ جوتی یہیں مسجد سے باہر اُتارو۔" فاطمہ نے یقین دِلوایا "بیٹا آج جمعہ ہے۔میں وضو گھر سے کرکے ہی نکلی تھی۔" لڑکے نے استہزائیہ سر ہلایا اور انگلی سے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔فاطمہ مٹی سے اٹے سنگِ مرمر کے فرش پر آدھے پیروں سے چلتے، راہداریوں سے گزرتے سیڑھیاں چڑھ گئی۔
قاری فراست قالین،گاؤ تکیوں اور نرم گدوں سے مزین اِس کشادہ کمرے میں بادشاہ کی مانند دربار سجائے بیٹھا تھا۔"آؤ بی۔بی۔۔۔" اور آنکھ سے طلباء کو جانے کا اشارہ کردیا۔فاطمہ نے سارا ماجرہ مختصر الفاط میں بیان کر کے کاغذات سامنے رکھے تو مانو "منکر نکیر" قبر سے پہلے ہی برپا ہوگیا۔
"کیا مسلک ہے بی۔بی آپ کا ؟ شوہر کو کیا ہوا تھا ؟ اولاد ہے ؟ کِس کے ساتھ رہ رہی ہو ؟ گھر کِس کے نام ہے ؟ کوئی نوکری کیوں نہیں کرتی ؟ ایک تو بیوہ ہو اور اوپر سے بے اولاد ،اپنا حلیہ درست کرو۔حجاب کرو اور یہ بن سنور کر مسجد میں آنے کا مقصد کیا ہے؟"
سوالات کا لامتناہی سلسلہ تھا ۔ جِبکہ فاطمہ چادر سے منہ ڈھانپے کپکپاتی آواز کے ساتھ جواب دینے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔بالآخر مضبوط لہجے میں گویا ہوئی "قاری صاحب آپ ہر دوسرے ماہ میرے شوہر سے مدرسہ کی کتب خریدنے کے واسطے ہدیہ وصول کرنے گھر آتے تھے۔آپ کو تو وہ یاد ہوں گے ۔"
قاری صاحب جو ڈائری میں اس کا شناختی کارڈ نمبر درج کررہے تھے۔ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر بولے، "بی۔بی آپ کا تو شناختی کارڈ ہی شوہر کے نام پر نہیں ہے۔نام کیوں نہ تبدیل کیا؟ دِل میں بال ہو تو عورتیں ایسے ہی حربے استعمال کرتی ہیں۔اور یہ انگریزی میں کیوں بنوایا ہے؟"
فاطمہ کے لہجے کی ہچکچاہٹ اچانک کہیں اڑن چھو ہوچکی تھی "قاری صاحب میرے شوہر کو پسند نہ تھا کہ میرے والدِ گرامی کا نام ہٹا کر اپنا لگاتے اور پھر تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کے ڈھیر میں بھی تبدیلی کی درخواستیں دیتے۔یوں بھی لازمی تو نہیں کہ عورت شادی کے بعد نام تبدیل کرے۔نیچے زوجیت میں شوہر کا نام درج ہے ۔یہ اُن کا شناختی کارڈ ہے دیکھ لیجیے ہمارے پتے بھی ایک ہی ہیں۔"
قاری صاحب نے سنی ان سنی کرتے رابطہ نمبر پوچھا اور ڈائری میں درج کرکے کاغذات اٹھا کر دراز میں رکھ لیے۔"ٹھیک ہے بی۔بی چار روز بعد آنا۔تب تک تمہارے کریکٹر بارے اہلِ محلہ سے چھان بین کروں گا۔پھر ہی تصدیق ہوگی۔ابھی جمعہ پڑھوانے کا وقت ہورہا ہے۔"
فاطمہ کا صبر جواب دے چکا تھا ، "قاری صاحب میں آپ سے کردار کی تصدیق کروانے نہیں آئی۔۔۔ابھی ساڑھے دس ہوئے ہیں۔"
"دیکھو بی۔بی ایک تو تمہارے پیر میں اولاد کی زنجیر نہیں۔دوسرا بے پردہ عورتوں کا اعتبار کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ہمیں کیا پتہ کھلا چہرہ لیےکہاں کہاں منہ مارتی پھرتی ہیں۔تم تو آزاد پنچھی ہو۔جہاں مرضی جو چاہو کرتی پھرو۔ہمیں حکومتِ پاکستان نے اختیارات کچھ سوچ کر ہی دیے ہیں۔اور تم تو پہلے اپنا حلیہ درست کرو۔موزے پہنا کرو،یہ ننگے پیر نامحرموں کو دکھاتے دوزخ کما رہی ہو۔۔۔یہ بتاؤ کہ ملک صاحب تمہارے پڑوسی ہیں ؟"
فاطمہ کو کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہو رہا تھا۔صرف ہاں میں سر ہلا پائی۔۔
"ہاں تو خاص نشانی کیا ہے اُس گھر کی ؟"
فاطمہ جلدی سے بولی "ان کا جوان بیٹا کچھ سال قبل کار حادثے میں چل بسا تھا۔"
قاری فراست نے گہری نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھا "نام کیا تھا لڑکے کا ؟"
فاطمہ بولی "مجھے صرف اپنے شوہر کا نام پتہ ہے،دوسروں کے بیٹوں کے ناموں سے آگہی نہیں۔آپ ملک انکل سے فون کرکے تصدیق کرلیجیے اور پلیز اِن کاغذات پر مہر لگا دیں ۔پینشن دو ماہ سے رُکی ہوئی ہے۔"
قاری صاحب فاتحانہ انداز  میں پھنکارے ، "تمہارے کہنے پر میں کسی سے تصدیق کیوں کروں ؟ میرا اپنا طریقہ ہے "پُچھ پڑچھیت" کا۔۔۔عالمِ دین ہونے کے ناطے مشورہ ہے کہ جوان بیوہ کو حق کرلینا چاہیے۔اِس طرح ماری ماری پھرنے سے بہتر ہے کہ اپنا دین ایمان سنوارو اور آخرت کی فکر کرو ۔پڑھی لکھی ہو تو کسی مدرسے سے منسلک ہو کر اپنی دینی جہالت دور کرو اور وہاں کی بچیوں کو دنیاوی تعلیم دو ۔ہم حاضر ہیں بھلائی کے اِس کام کے واسطے۔"
فاطمہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوچکی تھی "دیکھ بھائی ایک منٹ سے پہلے دراز سے کاغذات نکال اور واپس کر۔ورنہ تیری علمی جہالت کا جنازہ اس مدرسے کی دیواروں سے نکال کر باہر چوراہے میں تدفین کرواؤں گی۔"
قاری فراست اپنی توند سنبھالے دیوار کا سہارا لیے کھڑا ہوچکا تھا اور  شلوار درست کرتا دبی آواز میں دھمکا رہا تھا ، "اپنا لہجہ درست کر حرافہ۔آدھ گھنٹے میں اِس محلے سے ذلیل کروا کر نکلوا سکتا ہوں۔ایک تو تجھے راہِ مستقیم دِکھا رہا ہوں اور تو مجھے دھمکیاں لگائے گی۔لے جا کاغذات اور یاد رکھ اس کالونی میں کوئی عزت دار شخص ان پر تھوکے گا بھی نہیں۔ناقص العقل عورت دین داروں کی پناہ سے افضل کچھ نہیں ہوتا۔" یہ کہتے ہوئے کاغذات زمین پر پٹخ دیے۔
فاطمہ نے کاغذات سمیٹے اور نفرت  بھرے کرخت لہجے میں بولی ، "میرے کردار کی تصدیق کروا لینا لیکن پہلے پڑھ لینا کہ نامحرم عورت پر کتنی گہری نظروں کی اجازت تمہارا دین دیتا ہے۔"
فاطمہ بھاگتے ہوئے سیڑھیاں اترتے مسجد سے باہر آچکی تھی۔آج اس کے لیے ریاست ،  اعلی تعلیم یافتہ ریاستی ملازمین اور انسانوں کے چندے پر بنے اللہ کے اِس گھر میں کہیں کوئی "ریاست کی ماں جیسی آغوش" نہ تھی۔ سب ہی اپنے اپنے دائروں میں خدائی دعویدار تھے۔عورت کے کردار کو جانچنے کا پیمانہ کم وبیش سب کا ایک ہی تھا۔ رال ٹپکاتے اِس معاشرے میں اپنی بے توقیری کا نوحہ اس نے پانی کے ایک گھونٹ سے نگل لیا تھا۔
اگلے چند گھنٹوں میں ذاتی جان پہچان کے ایک نامحرم سرکاری افسر نے انتہائی عزت و احترام کے ساتھ اس کے تمام کاغذات پر تصدیقی مہر ثبت کردی تھی۔لیکن شکست و ریخت کا جو سلسلہ اُس کے دل و دماغ میں شروع ہوچکا تھا اب اس کو ایک بار پھر  "گندی دُنیا۔۔" کے رویوں پر دواؤں کے سہارے لاپرواہی اور بے حسی کا لبادہ اوڑھنے میں کچھ ہفتے درکار تھے۔

جمعہ، 15 اپریل، 2016

شرمندگی کیسی اور کیوں ؟


گزشتہ برس دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے کچھ طلباء نے جنسی زیادتی اور جنسی تعصب و تفریق پر شعور اجاگر کرنے کےلیے تمام کیمپس میں سینیٹری پیڈز مختصر پیغامات لکھ کر آویزاں کردیے۔یہ خیال جرمن خاتون آرٹسٹ ایلن سے مستعار لیا گیا تھا۔ایلن نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اسے متعارف کروایا تھا۔اِس برس ہمارے ہاں کچھ بچوں نے اِس آئیڈیا کو اپنی یونیورسٹی میں پچیس عدد پیڈز آویزاں کرکے استعمال کیا۔جبکہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اِن کا مقصد حیض سے جڑے نام نہاد "سٹگما" اور "شرمندگی" پر احتجاج ریکارڈ کروانا تھا ۔یہ اُن کے ایک پراجیکٹ کا حصہ تھا۔تعلیمی پراجیکٹ ۔۔۔ جبکہ ہمارے ہاں سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس پر بیٹھے دو انتہاؤں کے مسافر اس معاملے کو کسی اور ہی درجے پر لے گئے ہیں۔الفاظ اور ذاتی حملوں کی اس جنگ میں وہ طلباء بھی کود گئے جن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سرکل میں آگہی پیدا کرنا چاہتے ہیں "حیض پر گفتگو کرنا کسی طور شرمندگی کا باعث نہیں،یہ روزمرہ معمولات میں سے ایک معاملہ ہے جِس کو مکروہ راز بنانے یا سمجھنے کی ضرورت نہیں۔"
جب آپ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ معاشرے کے ایک مخصوص گروہ نے صرف اِس لیے اٹھایا کیونکہ انہیں اس تکلیف کا سامنا زیادہ ہوتا ہے جبکہ لوئر مڈل کلاس کی عورت کو پرواہ نہیں تو یہیں آپ کا تعصب جھلکنے لگتا ہے۔شعور اجاگر کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے نا کہ مختلف تدریسی پراجیکٹس کے ذریعے اہداف حاصل کیے جاتے ہیں۔جبکہ طلباء میں سے ایک کا کہنا تھا "یہ کوئی مہم نہیں بلکہ کلاس پراجیکٹ پر مبنی ایک احتجاج ہے۔کیونکہ ہماری رائے میں مخصوص ایام کےلیے خواتین کو شرمندگی اور ٹھٹھے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگرچہ یہ کوئی قصور یا گناہ نہیں۔"
یونہی جب دوسرا گروہ اِس معاملے پر بحث کرتے تیزاب گردی یا غیرت کے نام پر قتل کو زیادہ اہم سمجھتا ہے تو انہیں بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ بچیاں مناسب دیکھ بھال اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہوکر وقتی لوکل انفیکشنز سے لے کر دائمی اندرونی مسائل تک کا شکار ہوجاتی ہیں۔جِس میں بعض اوقات بانجھ پن تک دیکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دہلی کی درسگاہ انتظامیہ نے بِنا اجازت یہ کام کرنے پر طلباء کو تنبیہہ کرکے کیمپس سے سب کچھ ہٹا دیا تھا۔پھر یہ بچے گلیوں  چوراہوں تک پیغام لے کر گئے۔اس علاقے کے رہائشی ایک دوست کی رائے جاننی چاہیے تو شکیل صاحب کا کہنا تھا کہ " دہلی مصروف،پروفیشنل اور سیاسی طور پر باشعور لوگوں کا شہر ہے۔انہیں کسی تعلیمی پراجیکٹ سے نہ تو مسئلہ ہے اور نہ ہی اس میں حصہ لینے کی فرصت ہے۔یہاں کے عوام کو ملکی اور بین الاقوامی سیاسی افق پر غور کرنے سے فراغت نہیں۔" اب میں انہیں کیا بتاتی کہ ہمارے ہاں تو ہر معاملے میں انتہائی پوزیشنز لیے بغیر لوگوں کا گزر بسر ممکن نہیں ہو پاتا۔
ایک گروہ دوسرے کی نظر میں جاہل ہے تو دوسرا پہلے والے کو ننگی تشہیر کے طعنوں سے تسکین حاصل کررہا ہے۔اگرچہ آپ دونوں ہی کو اپنے رویوں کی کرختگی اور قطعیت پر ہنگامی بنیادوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آگے بڑھتے ہیں۔طلباء نے درست کیا یا غلط وہ بحث تو اب رہی نہیں ۔مجھے یاد ہے کہ بی۔ایڈ کے فائنل لیکچر میں نظامِ اخراج میرا منتخب کردہ موضوع تھا۔اس کے لیے تین روز کی محنت سے قدِ آدم ماڈل تیار کیا اور سکول پہنچنے پر آدھ درجن ہم جماعتوں کا سوال صرف یہ تھا کہ اس ماڈل کو "ننگا" ہی اٹھا لائی۔انہیں حیرت تھی کہ مجھےگھر سے امتحانی مرکز تک کے راستے میں شرم کیوں نہیں آئی۔اور یہ کہ مرد ایگزامنر کے سامنے لیکچر دیتے عجیب محسوس نہیں ہوا اور ایسے ہی اصل موضوع سے غیر متعلقہ سوالات کی ایک بوچھاڑ تھی۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ اذہان پر لگی کچھ معاشرتی گرہیں تدریسی نظام یا ڈگریوں سے بھی نہیں کُھلا کرتیں۔
بات اب طلباء کے تدریسی پراجیکٹ کو چھوڑ کر ان کے لیے منطق سے عاری دلائل یا ان کیخلاف زہر اگلنے والوں پر کرلینی چاہیے۔
پاکستانی معاشرہ بہت سے طبقات میں منقسم ہے۔یہ تو جان لیجیے کہ ہر طبقے کی عورت اپنے مخصوص ایام سے کِس طور نبٹتی ہے۔معاشی طور پر غیر مستحکم طبقے کی عورت کسی سپر سٹور پر جا کر خوشبودار اور شب و روز کے حساب سے انواع واقسام کے سینیٹری نیپکنز نہیں خریدتی۔وہ پرانے نرم کپڑے بار بار دھو کر استعمال کرتی ہیں۔بیکٹیریاز اور انفیکشنز کو دعوتِ عام ہے ۔ یہ لوگ آدھ پاؤ کھلا گھی روزانہ خریدتےہیں۔اُن کیلیے اصل ضرورت پیٹ کی آگ بجھانا ہے۔ان کے پاس کوئی سوشل میڈیا نہیں جہاں پر بہتے شعور کے دریا سے سیر ہو سکیں۔اور عقل کی بہتی امبردھارا میں بھیگ سکیں۔یہاں بچیوں ہی نہیں بیٹوں کو بھی ہارمونز میں آتی تبدیلی سے نبٹنے کیلیے تنہا چھوڑ دیا جاتاہے۔جسمانی تبدیلیوں بارے وقت سے پہلے آگہی متعلق والدین تو کیا کوئی بڑا بہن،بھائی تک ذمہ داری نہیں نباہتا۔بچہ یہاں لڑکپن کی نفسیاتی شکست و ریخت اور جسمانی تبدیلوں سے پریشان اکیلا لڑتا رہتا ہے۔مدد کیلیے نہ تو گھر اور نہ ہی معاشرہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
ہمارے ہاں فیمینیزم کے نام پر جس قسم کا دیسی مال تھوک اور پرچون میں بِک رہا ہے اس کے تو کیا ہی کہنے۔آپ کو براؤن لفافے میں قیمتی سینیٹری نیپکنز نہیں رکھنے تو مت رکھیے جناب۔مگر یقین مانیے اِس کا تعلق "شرمندگی" سے بالکل نہیں ہے۔لحاظ سے ہے جو ذاتی پسند نا پسند سے مشروط ہوا کرتا ہے۔سینیٹری نیپکنز آویزاں کرنے کے حق میں نعرے بلند کرنے والوں میں سے کتنے ہیں جنہیں علم ہو کہ "میکسی، الٹرا، نائٹ، ڈے، ایکسٹرا لانگ ،تِھک ،تِھن۔۔۔۔" جیسی وسیع رینج کا ایک پیکٹ کتنے میں بِکتا ہے۔فی پیڈ کا نرخ کیا ہے۔ملتان اندرون شہر کی تنگ گلیوں میں ایک بین الاقوامی کمپنی کے پیڈز کی نقالی کِس ہوشیاری سے کی جارہی ہے۔ہر گلی محلے کے کریانہ سٹور پر ان کی خرید و فروخت جاری ہے۔عام میڈیکل سٹورز پر دستیاب ہیں۔پہلی تو کیا تیسری نظر میں بھی آپ پیکنگ سے اِس کے جعلی ہونے کا اندازہ نہیں لگاسکتے۔ریاستی اداروں ، سول سوسائٹی یا کسی پڑھے لکھے گروہ کو فرصت نہیں کہ ان دو نمبر سینیٹری نیپکنز کے بنانے میں استعمال ہونے والا مواد ہی جانچ لیں۔کون شعور دے گا کہ جعلی ادویات کی طرح جعلی سینیٹری نیپکنز میں لگی جیل اور چپکانے کا مواد کِس قدر خطرناک ہوسکتا ہے۔
سینیٹری پروٹیکشن کے لیے استعمال کیا جانے والا مواد اور طریقے کا انتخاب ایک انتہائی نجی معاملہ ہوتا ہے جو کہ عموماً بچیوں کے ارد گرد کے ماحول ، ثقافت ، معاشی حالت  حتیٰ  کہ پانی کی دستیابی اور کچھ روایات سے مشروط ہوتا ہے۔اب اِس نجی معاملے میں اگر کوئی بیرونی دخل اندازی ہوسکتی ہے تو صرف اِس حد تک کہ  انہیں مناسب رویے کے ساتھ درست اور صحت مندانہ راہ دکھائی جائے۔ماہواری کوئی بیماری نہیں لیکن اِس قدرتی عمل کو نبٹانے کے غیر مناسب طرائق بہرحال کچھ بیماریوں کو دعوت دے سکتے ہیں۔
 بات کرنا گناہ نہیں۔بات کرنے کا ڈھنگ بہرحال مناسب رکھیے اور دیکھیے کہ بنیادی معاملات کو کِس حد تک آپ کی توجہ حاصل ہے۔لگی لپٹی رکھے بِنا سب کچھ کہہ دینا ہی جرأت اور جِدت پسندی نہیں۔نازک معاملات میں الفاظ اور اسلوب کا چناؤ ہی اصل امتحان ہوا کرتا ہے۔آپ لباس پر جعلی خون کے دھبے لگائے کیمپس میں کھڑے رہیں یا پبلک ٹرانسپورٹ اصل داغوں میں گھومتے رہیں،کسی کو کیا مسئلہ ہوسکتا ہے۔لیکن اِن کو سراہنے والے یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ ہیپاٹئٹس اور ایچ۔آئی۔وی وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات میں یہ معاملہ کہاں کھڑا ہوگا۔سینیٹری نیپکنز کو اچھے سے تلف کرنا کہ نہ تو گٹروں کو بند کرے اور نہ ہی نہروں،جوہڑوں کو مزید آلودہ کرے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک طبقہ وہ بھی ہے جو استعمال شدہ نیپکنز کو گھر کی چھت پر لے جا کر نذرِ آتش کرتا ہے۔جو ماحول اور فضاء کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس بارے کوئی رائے دینا پسند کریں گے۔
عوامی شعور کی مہم چلانی ہو تو حکومت فنڈز جاری کرتی ہے اور اس سے کہیں پہلے منصوبہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے کہ کونسی بنیادی معلومات اور حفظانِ صحت کے معاملات پر شعور اجاگر کرکے بچیوں کو ممکنہ بیماریوں اور صحت کے مسائل سے بچانا ہے نیز ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہے۔پاکستان میں کتنے اسکولوں میں سِرے سے ٹوائلٹس ہی نہیں ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق ہماری آبادی کا ۱۳ فیصد آج بھی بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔
معاشرے میں رہنے کا ڈھنگ سیکھیے اور سِکھایے ورنہ تو یوں ہے کہ حضرات کے ہاں بھی "شرمندگی" کے کچھ پوشیدہ معاملات ہوں گے۔کیا ان کے زیرِ جامہ اُلٹے لٹکانے پر تالیاں پیٹیے گا۔یہ جو سرِ عام دیواروں کی جانب رُخ پھیرے رفع حاجت کی جاتی ہے اِس پر تنقید کیوں۔جبکہ عین اوپر عبارت بھی درج ہوتی ہے کہ فلاں کا بچہ پیشاب کررہا ہے۔شعور اور تربیت کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے۔ہمارے ہاں نصاب میں چھوٹی عمر سے لڑکے لڑکیوں کو کہیں سمجھایا نہیں  جاتا کہ مختلف جسمانی و نفسیاتی تبدیلوں سے کیونکر نبٹنا ہے۔حفظانِ صحت کے اصولوں کو زندگی کے ہر میدان میں لاگو کرنا کونسی درسی کتب میں سکھایا جارہا ہے۔ابتداء یہاں سے ہی کرلیجیے۔
کسی بھی معاشرے بارے آپ کی رائے کا مستند و حتمی ہونا اِس امر سے مشروط ہے کہ آپ کی جڑیں کہاں اور کِس حد تک پیوست ہیں۔یاد رہے جڑیں پیڑوں کی ہوا کرتی ہیں آکاس بیلوں کی نہیں۔

پیر، 4 اپریل، 2016

چوہا مار مہم

"آپریشن آخری چوہے کے مرنے تک جاری رہے گا ۔"
"وزیرِ اعظم دھشت گردوں کو مار رہے ہیں جبکہ خان صاحب چوہا مار مہم چلا رہے ہیں۔"
"خیبر پختونخواہ میں چوہوں کے سر کی قیمت مقرر ۔۔۔۔"
یہ اور ایسے کئی بیانات کچھ روز سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سننے پڑھنے کو مِل رہے ہیں۔ہر دو جانب ایک ہیجان ہے جو کہ پہلے پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈینگی مُکاؤ مہم کے سلسلے میں دکھائی دیتا تھا اور آج کل خیبر پختونخواہ حکومت کی طرف سے پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی چوہا مار مہم کے جواب میں دکھائی دےرہا ہے۔اِن معاملات میں کسی ایک گروہ کا بِنا مطلب کی لعن طعن اور جملہ بازی جبکہ دوسرے گروہ کی جانب سے آئیں بائیں شائیں دراصل مسئلے کی سنگینی سے نابلد ہونے کا مظہر ہے۔
کچھ ہی روز میں بچوں سمیت پانچ افراد چوہوں کے کاٹنے سے 
لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ بچوں کو چوہوں کے کاٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہورہے ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرین کو ریبیز سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔اِن چوہوں کے جسم پر پلتے پِسو نہ صرف انسانوں بلکہ گھر آنگن میں پلتے پرندوں اور جانوروں کی جان کے لیے بھی خطرہ ہوتے ہیں۔مرغیوں اور پالتو جانوروں کی ہلاکتوں اور بیماری بارے کوئی رپورٹ نہیں کررہا کہ اُن کی تعداد کتنی ہے۔
جب پورے شہر میں ۲۲ سے ۳۰ سینٹی میٹر جسامت کے چوہے دندنا رہے ہوں تو چھٹکارے یا نجات کے لیے چلائی مہم کو پھبتیوں اور طعنوں کی نظر کرنے کے بجائے مسئلے کو سمجھیے۔ قابلِ شرم بات اِس مہم کا آغاز نہیں ہے۔ دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ عوام کو صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے درست سمت میں آگاہی نہیں دی جا رہی۔دوسرا کچھ خود بھی ایسی لاپرواہی کی روایت پائی جاتی ہے کہ صفائی کیلیے حکومت انعامی رقم کا لالچ دینے پر مجبور ہوئی ہے۔کبھی ۲۵ تو کبھی ۳۰ روپے فی چوہا۔پھر کسی مخصوص علاقے  کے واسطے ۳۰۰ روپے فی چوہا اور پھر اگلے روز اپنا ہی جاری کردہ نوٹس تردید یا واپسی لیے منہ چڑھاتا ہوا۔ نا اہلی اور حماقتوں کا ناختم ہونے والا سلسلہ۔قابلِ گرفت ہے انتظامیہ جو  آج اِس مہم کو کیش کروانے کی کوشش میں ہے جبکہ پشاور کے علاقہ زریاب کا رہائشی نصیر احمد ۵ جنوری ۲۰۱۵ء کو مختلف اخبارات کی زینت بنا ۔وجہ تھی اُس کی رضاکارانہ چوہا مار مہم ۔اس کا ایک ساتھی اپنے بھتیجے کو چوہے کے کاٹنے سے کھو چکا تھا اور ایک دوست اسی مسئلے کے باعث اپنی بیوی کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ کر چکا تھا۔وہ عام شہری جسے آپ عقل و شعور سے عاری گردانتے ہیں اگر اسے اپنے علاقے میں مُرغیاں اور پالتو جانوروں کی ہلاکت یا بیماری نے سوچنے پر مجبور کیا اور خود ہی خاص طرح کا زہر تیار کرکے سینکڑوں چوہوں کو مارتا رہا تو حکومت  کِن معاملات میں الجھی اِس جانب سے آنکھ بند کیے بیٹھی تھی۔ 
میں نے پہلی بار ۲۰۱۱ء  میں پشاور کے صدر بازار میں بڑی جسامت کے چوہے دیکھے تھے ۔اُس وقت بہت سے پرانے دکانداروں کا بیان ملتا جلتا ہی تھا کہ  "ڈیڑھ دو سال سے تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔سیلابوں کے بعد انتظامیہ نے اِس جانب توجہ نہیں دی۔" اور آج  چند لوگ اُٹھ کر بیرون ملک سے آئے مخصوص کنٹینرز کے ساتھ اِن چوہوں کی آمد نتھی کرکے بری ذمہ ہونے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ سیلاب چوہوں کی ہجرت کا سبب ہوتےہیں۔ سوال بلدیہ عظمیٰ سےکریں کہ گرانٹ کہاں جاتی رہی ۔کیوں بروقت سدِباب نہ کیا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ چوہا مار مہم چار ماہ جاری رہے گی اور کہا جا رہا ہے کہ ہر پندرہ ماہ بعد حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔مخصوص زہر تیار کرکے نالیوں ، گٹروں اور بازاروں میں پھینکا جارہا ہے۔عوام کو بھی سمجھایا جا رہا ہے کہ کھانا ضائع نہ کریں،رات کو گندے برتن سنک میں نہ چھوڑیں اور کچرہ ڈھانپ کر رکھیں۔جسے روزانہ کی بنیاد پر انتظامی عملہ اٹھا کر ڈھنگ کے طریقے سے ٹھکانے لگائے گا۔
درخواست صرف اتنی سی ہے کہ خدانخواستہ طاعون پھیل جائےتویہ صوبائی سرحدیں نہیں دیکھے گا۔لہذا ڈینگی مُکاؤ مہم کے ردِ عمل کی یاد میں اِس معاملے کو سیاست اور اختلافات کی بھینٹ مت چڑھایے۔

ہفتہ، 2 اپریل، 2016

پنجاب اسمبلی کا تحفظِ نِسواں بِل

ایک ماہ سے جاری لاحاصل بحث کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔تحفظِ نسواں بِل کو ایک مکتبۂ فکر نے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ٹی۔وی سکرینوں پر سات سے بارہ بجے تک وہ رونق لگا رکھی ہے کہ رہے نام اللہ کا۔یاد رہے کہ یہ وہی کیمرے اور مائیکس ہیں جو کبھی حرام اور ان کے تشریحاتی دینِ اسلام کے منافی رہےہیں۔وقت کے ساتھ اب "بذریعہ اجتہاد" سب حلال ہے۔
آئینِ پاکستان میں اٹھارھویں ترمیم کے بعد صوبائی اسمبلیوں نے صحت ، تعلیم ، روزگار اور بنیادی حقوق جیسے معاملات میں قانون سازی کا جو آغاز کیا ہے اِس ضمن میں اہم سنگِ میل گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظِ نسواں بِل کی صورت میں عبور کیا گیا ہے۔سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں قانون سازی عمل میں آچکی ہے جبکہ خیبر پختونخواہ نے گھریلو تشدد سے بچاؤ اور روک تھام کا بِل
۲۰۱۴ء  آرٹیکل ۲۲۹ کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کو نظرِ ثانی کے لیے طویل عرصہ سے بھجوا رکھا ہے۔جس کا مستقبل فی الحال تو دھندلا ہی دکھائی دیتا ہے۔ 
سندھ اسمبلی نے گھریلو تشدد سے بچاؤ اور روک تھام کا بِل مارچ ۲۰۱۳ء میں پاس کیا تھا۔ جِس میں متاثرہ شخص کوئی مرد ،خاتون اور بچہ ہوسکتےہیں۔ جبکہ بلوچستان اسمبلی سے ایسا ہی بل فروری ۲۰۱۴ء میں پاس ہو کر صوبائی گورنر کے دستخط کے بعد سے نافذ العمل ہے۔یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن پنجاب اسمبلی فائزہ ملک  ۲۰۱۲ء میں ایک قرارداد لائی تھیں جسے اُس وقت ن لیگ کے اراکین نے اختلافات کے باعث پاس ہونے نہیں دیا تھا۔لیکن وہ قرارداد تحفظِ نسواں کی تعریف پر پوری یوں نہیں اترتی کہ اُس میں ایک ہی چھت تلے رہنے والے ملازمین، بچے ، خواتین اور بزرگ سب شامل تھے۔یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن ، چائلڈ میرج اور سوشل پروٹیکشن ، فیملی کورٹس اور مسلم فیملی لاء کے حوالوں سے الگ الگ قوانین یا ترامیم پاس ہو چکی ہیں۔
متعلقہ شعبہ جات اور سول سوسائٹی کی مدد سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے سینئر ممبر سپیشل مانیٹرنگ یونٹ برائے امن و امان سلمان صوفی کا ڈرافٹ کردہ تحفظِ نسواں بِل مئی ۲۰۱۵ء سے التواء کا شکار تھا اور چوبیس مارچ ۲۰۱۶ء کو جِس وقت اسے پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے منظور کیا تو ۳۷۱ میں سے کُل ۱۹۳ اراکینِ اسمبلی حاضر تھے۔جبکہ ۷۶ خواتین اراکینِ اسمبلی میں سے ۴۴ موجود تھیں۔جِس وقت آپ ایک مخصوص طبقے کے تحفظات اور اکتیس نکات پر مشتمل اِس بِل کو پڑھے بِنا بحث کرنے پر انگلیاں اٹھاتےہیں تو کیا ہی مناسب ہو کہ صوبائی حکومت اپنی صفوں میں بھی نگاہ دوڑا لے۔ 
 
آخر پنجاب اسمبلی کے پاس کردہ تحفظِ نسواں بِل میں ایسا کیا ہے جو مذہبی تنظیموں اور علمائے کرام کو آگ بگولہ کیے جاتا ہے نیز ایسا سخت ردِ عمل سندھ اور بلوچستان میں پاس کردہ قوانین کے وقت دیکھنے میں کیوں نہ آیا۔یہی سوالات نے مجھے اِس بِل کو بارہا پڑھنے اور سمجھنے پر مجبور کیا ہے۔
جس دِن سے مذکورہ بِل منظور ہوا ہے عین اس لمحے سے ایک جملہ جو ہر بحث میں سننے کو مل رہا ہے وہ یہ ہے کہ " خاندانی نظام بکھر جائے گا،طلاق کی شرح بڑھے گی۔" حتیٰ کہ ایک سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی نے فلور آف دا ہاؤس کہا کہ "مذہب مرد کو حق دیتا ہے کہ وہ عورت کو پیٹ سکتا ہے جبکہ خاتون پر فرض ہے کہ وہ اس خبر کو گھر کی چار دیواری سے باہر جانے نہ دے۔" قانون سازی کرنے والے عوامی نمائندگان کی یہ انفرادی سوچ اجتماعی معاملات کی قلعی اچھے سے کھول رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی کا منظور شدہ تحفظِ نسواں بِل لفظ تشدد کی اس طرح کثیر الجہت واضح تعریف بیان کرنے سے قاصر ہے جیسی فصاحت ہمیں سندھ اسمبلی کے قانون میں دکھائی دی۔ مگر یہاں جس نقطے کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے وہ ہے اس تمام قانون کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنا کر نافذ العمل بنانا ہے۔
ابتدایہ نکات میں متاثرہ خاتون کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والوں کی تعریف بتا دی گئی ہے۔جس پر غور کرنا گوارا ہی نہیں کیا جارہا۔لفظ "قرابت داری " استعمال کیا گیا ہے جس میں تمام خونی رشتے ہوتےہیں۔دوسرے نمبر پر آتے ہیں وہ رشتے جو شادی کے بعد بنتے ہیں جن میں شوہر ، ساس اور دیگر تمام سسرالی رشتہ دار شامل ہیں جبکہ آخر میں اُن بچیوں کو بھی تحفظ دیا گیا ہے جو لے پالک ہوں۔کہیں بھی کسی مقام پر لفظ شوہر استعمال نہیں ہوا جس پر سب واویلا ہے کہ طلاق کی شرح بڑھے گی۔اس کے بعد تشدد کے ضمن میں جسمانی ہی نہیں نفسیاتی دباؤ کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔جنسی تشدد، تعاقب کرنا اور ہراساں کرنا جبکہ سائبر کرائمز کو بھی اِس قانون میں شامل کرکے معاشرے کی بچیوں کو محفوظ زندگی کی ضمانت دی گئی ہے۔
 
قانون کو عملی جامہ پہننے کے لیے یونیورسل ٹول فری نمبر کی سہولت دی جائے گی۔پروٹیکشن سینٹرز اور شیلٹر ہومز بنائے جائیں گے جہاں متعلقہ عملہ بھرتی کیا جائے گا۔اِن سینٹرز کا پہلا کام فریقین میں ثالثی اور صلح صفائی کی فضاء بحال کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ طبی معائنہ،علاج، نفسیاتی اور قانونی مدد کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی عملے ہی کی ذمہ داری ہوگی۔اس قانون کی اردو اور علاقائی زبانوں کی عام لوگوں تک رسائی کو آسان بنایا جائے گا۔نیز یہ کمیٹی بروقت عمل درآمد کے لیے ایک ڈیٹا بیس  اور سوفٹ وئیر مرتب کرے گی تاکہ مسائل کی چھان بین،تشخیص و تقویم کے طریقۂ کار میں جہاں اور جب ضرورت ہو ریفارمز لانا ممکن ہو۔۔۔یاد رہے کہ کسی قانون میں ترمیم اور قانون کی کسی شِق میں وضاحت کی ضرورت میں فرق ہوتا ہے جو ہمارے ہاں کچھ مذہبی جماعتیں سمجھنے سے انکاری دکھائی دے رہی ہیں۔
 
ضلعی سطح پر ایک خاتون افسر کو مجاز بنایا جائے گا جو اپنے ضلع میں خواتین کی شکایات کا ازالہ کرے گی۔ڈی۔سی۔او کی سربراہی میں بننے والی اِس ڈسٹرکٹ وومین پروٹیکشن کمیٹی میں درج ذیل افراد شامل ہوں گے
ضلعی ہیلتھ افسر
کمیونٹی افسر
سوشل ویلفئیر کا ضلعی افسر
ضلعی پولیس کے سربراہ کا نمائندہ
ضلعی سطح پر سرکاری وکیل
تحفظِ نسواں قانون کے تحت ضلعی سطح پر مقرر کردہ خاتون افسر
اس کے علاوہ حکومت چار غیر سرکاری اراکین جن میں سول سوسائٹی اور مخیر حضرات کے نمائندگان شامل ہوں،کو کمیٹی کا حصہ بنائے گی جن کی رہائش متعلقہ ضلع میں ہو۔بحالی مراکز،ٹول فری نمبر،عملہ بھرتی اور اُس کی ٹریننگ جیسے معاملات کے علاوہ اِس کمیٹی کا پہلا فرض فریقین کے مابین ثالثی اور مصالحت ہوگا۔عدالت خود سے کسی ایسے معاملےکا نوٹس نہیں لے سکےگی جب تک کہ وومین پروٹیکشن کمیٹی عدالت کو درخواست نہیں دے گی۔یہ اہم نکتہ بہرحال ہمارے ہاں نظر انداز کیا جارہاہے۔بالکل جیسا کہ یہ قانون کی یہ شِق سامنے نہیں لائی جا رہی کہ غلط معلومات/شکایت کے اندراج کی صورت میں تین ماہ کی سزا اور کم از کم پچاس ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے کی سزا ہوگی۔
اِس قانون کے آغاز سے ایک سو بیس روز کے اندر حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ پروٹیکشن سسٹم سے شیلٹر ہومز کی ریگولیشن تک کے تمام معاملات پر مؤثر قانون سازی کرے۔جبکہ دو سال کے اندر قانون سے غیرمتصادم دفعات کو متعارف کروایا جاسکے جن کے ذریعے عملدرآمد کے طریقۂ کار میں موجود سقم دور کرنے میں مدد ملے۔
متاثرہ خاتون خود یا اُس کی جانب سے مقرر کردہ شخص ڈسٹرکٹ وومین پروٹیشن آفیسر کو تین طرح کی شکایات کر سکتے ہیں؛ ۱۔ تحفظ  ۲۔ سکونت/رہائش کے مسائل  ۳۔ مالی و معاشی معاملات ۔۔۔رپورٹ کے اندراج کے علاوہ ضلع بھرمیں کسی بھی تھانے میں ایسی کوئی رپورٹ درج ہو تو اس پر بھی ڈسٹرکٹ وومین پروٹیکشن کمیٹی کی رسائی ممکن ہوگی۔عدالت درخواست داخل کروانے کے سات روز کے اندر کی تاریخ دینے کی پابند ہوگی۔جِس میں مدعا الیہ کو نوٹس جاری کیا جائے گا کہ وہ بے گناہی ثابت کرے کہ کیوں اُس کے خلاف کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔ناکامی کی صورت میں عدالت مقدمے کو نوے روز کے اندر نبٹانے کی پابند رہے گی۔اِس میں ہمارے ہاں کےایک طبقے کو کیا قباحت دکھائی دیتی ہے،سمجھ سے بالا ہے۔کیا بہنیں ،بیٹیاں برسوں عدالتوں میں خوار ہوتی،در بدر کی ٹھوکریں کھاتی رہیں یا پنجابی والا "ھاؤ پرے" کرکے دو پاٹوں میں پستی رہیں۔اگر عدالت میں ثابت ہوجاتا ہے کہ مدعا الیہ تشدد کا مرتکب ہوا ہے تو اِس بنا پر عدالت معاملے کی سنگینی اور ساخت کے اعتبار سے  ابتدائی حکم جاری کرسکتی ہے۔جس میں متاثرہ خاتون کا اُسی گھر میں رہنا یا بحالی مرکز بھجوانا شامل ہے۔اگر خاتون کو طبی یا نفسیاتی معاملے میں بحالی کی ضرورت ہے تو اِس کے لیے پروٹیکشن سیل اور شیلٹر ہومز کو بھجوایا جائے گا۔مدعا الیہ اپنی ملکیت میں موجود اسلحہ عدالت میں جمع کروانے کا پابند ہوگا۔عدالت حکم دے سکتی ہے کہ فریقین ایک ہی چھت تلے کچھ فاصلے پر رہیں گے یا فیصلہ آنے تک ایک فریق گھر سے دور۔متاثرہ خاتون کے نام پر کسی بھی قسم کی جائیداد اور دستاویزات اس کے حوالے کی جائیں۔گھر کسی کے نام پر منتقل یا فروخت نہیں کیا جاسکے گا مگر متاثرہ خاتون ہی کو۔۔۔ 

ایک معاملہ جو جراح کا سب سے بڑا موجب بنا ہوا ہے وہ ہے بازو یا ٹخنے میں مقررہ مدت تک پہنایا جانے والا بینڈ (میں اسے کڑا کہنے سے گریز کروں گی،کیونکہ اکثر لوگ اسے مردانیت پر حملہ تصور کررہے ہیں۔)۔ یہ جی۔پی۔آر۔ایس بینڈ صرف انتہائی نتائج کے خطرے کی صورت میں پہنایا جاسکے گا۔جس کا مقصد مدعا الیہ کو متاثرہ خاتون کے کام کے مقام اور شیلٹر ہوم وغیرہ سے دور رکھنا ہے۔تاکہ اُسے احساس رہے کہ اس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جا رہی ہے اور وہ تیزاب گردی،اقدامِ قتل یا تشدد کے تحت زدو کوب کرکے بڑا نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔

خاتون پر معاشی دباؤ کو جرم ماننے پر کچھ علماء فرماتے ہیں کہ جس کی آمدن کم ہو وہ تو جیل میں جائے گا۔حیرت ہے کہ یہ لوگ بل میں موجود وہ شِق کیوں نظر انداز کرتے ہیں جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ عدالت کسی بھی فیصلے سے قبل مدعا الیہ کی معاشی حالت کا احترام کرتے اس کی آمدن کو مدِنظر رکھے گی۔ہمارے ہاں وہ طفیلیے بھی پائے جاتے ہیں جو خواتین کی محنت کی کمائی پر اپنا حق جتلاتے اسے زد وکوب کرتےہیں۔ اِس قانون کے تحت خاتون اپنی تنخواہ کسی کو دینے کی پابند نہیں اور جو کوئی زبردستی کرے تو وہ ڈسٹرکٹ وومین پروٹیکشن آفیسر کو شکایت کرسکتی ہے۔مالی معاملات میں اگر کسی متاثرہ خاتون کی نوکری مدعا الیہ کی وجہ سے چھوٹ گئی یا کوئی طبی امداد کی ضرورت ہو یا خاتون کے مالکانہ حقوق پر مشتمل املاک کو نقصان پہنچایا جائے تو ہرجانہ مدعا الیہ کو ادا کرنا ہوگا۔نیز نان نفقہ کے معاملات فیملی لاء کے تحت حل کیے جائیں گے۔
اہم بات یہ ہے کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت اپنی ویب سائٹ پر کسی بھی کیس کی تمام معلومات مفت فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔کیس کی تمام تفصیلات، تحفظ و بحالی کے لیے اٹھائے اقدامات فریقین کی تفصیل جاری ہوگی۔لیکن حکومت کسی بھی کیس میں تمام یا کچھ تفصیلات جن بنیادوں پر پبلک نہ کرنے کا عندیہ دے سکتی ہے ان میں پرائیویسی،مستقبل کے تحفظ ، معاشرتی وقار، ایسی تفصیل جو معاشرےمیں تعصب کو ہوا دے نیز کسی بھی افسر کی زندگی کو مستقبل میں خطرہ ہو ، شامل ہیں۔ اِس برس جون تک ملتان میں اس قانون کے تحت پہلا پروٹیکشن سیل مکمل ہوجائے گا جِس میں شیلٹر ہوم اور مذکورہ تمام سہولیات میسر ہوں گی۔
اس مختصر جائزے کے بعد بھی لکھاری سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر وہ کون سی شِق یا لفظ ہے جو اسلام اور (اب تو) دو قومی نظریہ سے متصادم ہے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ تشدد تو اِس معاشرے میں ہوتا ہی نہیں تو ان کی تسلی کے واسطے۔۔۔ ڈیڑھ سال قبل عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سال ۲۰۱۴ء کے دوران ۲۱۷۰ اغواء،۱۶۱۰ قتل ،۱۵۱۵ زناءبالجبر،ن۹۳۱ خود کشی ، ۷۱۳ غیرت کے نام پر قتل ،۴۹۴ گھریلو تشدد،۷۴  جنسی ہراساں ،۶۵ تیزاب گردی اور ۵۵ جلا کر ماردینے کے کیسز رجسٹرڈ ہیں۔جبکہ اس اجتماعی اعداد وشمار میں صوبہ پنجاب میں درج شدہ کیسز کی اوسط سب سے زیادہ ہے۔جس کی ایک وجہ شاید معاملہ آپس میں ختم کرنے کی بجائے درج کروانے کی روایت بھی ہے۔بہرحال کُل اعداد و شمار میں ۸۶ فیصد اغواء کاری ، ۶۰ فیصد قتل ، ۹۲ فیصد ریپ کیسز اور ۸۳ فیصد تیزاب گردی کی رپورٹنگ اسی صوبے میں ہوئی ہے۔ اِس صورتحال میں پھر بھی یہی کہا جائے کہ ایسے قانون کی ضرورت نہیں تو معاشرے میں عورتوں کے اجتماعی مستقبل بارے چہ مگوئیاں تو ہوں گی۔
بہرحال ۲۹ فروی ۲۰۱۶ء  کو پنجاب گزٹ میں یہ قانون شائع کیا جاچکا ہے اور اس میں موجود سقم یا خوبیوں پر بات کرنے کے لیے ایک کاپی حاصل کرکے پڑھنا کسی صورت غیر شرعی فعل نہیں۔ٹی۔وی شوز میں کسی محترم خاتون سماجی کارکن کے ساتھ حکومتی نمائندہ،ایک م کا نمائنذہبی جماعت کا نمائندہ اور ایک عدد اپوزیشن رہنما بٹھا کر لاحاصل اور بے نتیجہ گفتگو سے ہیجان برپا کرنے کی بجائے مجال ہے جو حکومت یا میڈیا نے کوشش کی ہو کہ آسان،عام فہم زبان میں اِس قانون کے اہم مندرجات کو مختصر طور پر عوام کو سمجھایا جائے تاکہ وہ سستا چورن خرید کر نفرتوں کی آبیاری سے دور رہیں۔

جمعہ، 18 مارچ، 2016

ریاستی قوانین

حماقتوں اور غلطیوں کی پشت پناہی میں ہمارے ہاں فاش غلطیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس میں قصور وار کو یوں گلوریفائی کیا جاتا ہے جس طرح کسی زمانے میں ہماری دیسی فلموں کا نام نہاد ھیرو درجنوں کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی شائقین کے دِلوں کی دھڑکن بنا رہتا اور اُسے حق بجانب سمجھتے سینما گھر میں بیٹھے عوام تین گھنٹے تالیاں پیٹا کرتے تھے۔
پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کا قاتل ممتاز قادری موقعہ
ٔ واردات سے آلۂ قتل سمیت گرفتار ہوا۔ قاتل کو اپنے حق میں دلائل و ثبوت پیش کرنے کا آخری موقع تک فراہم کیاگیا۔ملزم نے شروع دن سے صحتِ جرم سے انکار نہ کیا بلکہ سفاکانہ ڈھٹائی کیساتھ اعترافِ جرم کرنے کے ساتھ مقتول کی ذاتی زندگی اور نجی معاملات کو عدالت میں زیرِ بحث لاتا سپریم کورٹ سے ہوتا رحم کی اپیلوں تک گیا۔مجرم تو ریاستی قانون کے تحت اپنے انجام کو پہنچا مگر اٹھارہ روز سے جاری شب و روز کا ہیجان ہے کہ شدت ہی اختیار کیے جاتا ہے۔حیرت مجھے ہر دو جانب کی انتہاؤں کو خاموشی سے دیکھتے ہوتی ہے ۔کسی انسان کی موت پر خوشیاں منانے والے یا ایک قاتل کو ھیرو بنا کر کمائی کا ذریعہ بنانے والوں میں کچھ خاص فرق دکھائی نہیں دیتا۔چار دیواری میں آپ کسی کو مجرم مانیں یا شہید مجھے اِس سے کچھ غرض نہیں ہاں مگر جِس وقت شاہراہیں بند کرکے ریلیوں کے نام پر ریاستی نظام کو زد وکوب کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پر کفر کے فتوے یا جہالت کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے ایک دوسرے کی مسلسل ذلیل کی جائے گی تو ایسی بلیک میلنگ کا ساتھ دینا عجب معلوم ہوتا ہے۔ وہ بھی ہیں جو ناموس لفظ کا مفہوم تک جاننا گوارا نہیں کررہے۔تحظ کیا خاک کریں گے۔اکثر دل کیا کہ بحث بلکہ فتوے جاری کرنے والوں سے دریافت تو کروں کہ کتنے ہیں جنہوں نے ہائی کورٹ کا  چھیاسٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ سکون سے پڑھا اور سپریم کورٹ نے انتالیس صفحات میں جو کچھ درج کیا وہ کتنے لوگوں نے جذب کرنے کی کوشش کی۔۔۔مگر مسئلہ یہاں یہ بھی ہے کہ جِس قابلِ احترام عدلیہ نے قومی زبان میں فیصلے جاری کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا وہیں سے انگریزی زبان اور مشکل اصطلاحات والا اہم فیصلہ آگیا۔اس سے بھی اہم معاملہ ہے کہ قانونِ شہادت سے لے  کر ناموسِ رسالت تک کے ریاستی قوانین بارے عوام کو کِس حد تک آگہی ہے۔

معاملہ
 ۴ جنوری ۲۰۱۱ء  سے کہیں پہلے شروع ہوتا ہے۔۲۰۰۹ء میں جون کا مہینہ،شیخوپورہ کا ایک گاؤں جہاں فالسے کے باغات میں مزدوری کرتی کچھ خواتین آپس میں جھگڑ پڑیں۔ وجہ تھی انتالیس سالہ آسیہ نورین نامی مسیحی خاتون کو ناپاک و نجس سمجھتے کنویں سے پانی پینے نہ دینا۔پاکی پلیدی  کے من گھڑت قصے۔اگرچہ آسیہ کے پاس اپنا گلاس تھا مگر ذاتی عناد میں اصرار تھا کہ کنویں کی رسی پکڑنے سے ہی ناپاکی کا معاملہ ہوجاتا ہے۔بات بڑھتی گئی اور طعنوں سے ہوتی ایک دوسرے کے مذہبی عقائد تک جاپہنچی۔آسیہ کے مطابق حضرت عیسیٰ  کو ماننے والا ناپاک کیسے ہوگیا جو انسانی زندگیاں بچانے والا تھا۔اس سے اگلا جملہ وہ تھا جو آقا دو جہاں  کی شان میں گستاخی تھا۔۔۔ بے شک جب انسان کسی کے دین و عقائد بارے  پڑھتا جانتا نہیں ہے تو جہالت میں ادا کیے جانے والے الفاظ کی سختی بارے بھی نہیں جان پاتا۔اور یہی اس جھگڑے کی بنیاد بنا۔
وقتی طور پر بیچ بچاؤ کروا دیا گیا۔مگر وائے گاؤں کا مولوی سلیم جس نے مسلم خواتین کے استفسار پر فوری فتویٰ (؟) صادر فرما دیا کہ آسیہ نورین نامی مسیحی عورت نبی پاک حضرت محمد
   کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی ہے۔اور گستاخِ رسول  واجب القتل ہے۔منبر سے لاؤڈ اسپیکر پر ایک عام مولوی فتویٰ صادر کیے اعلان کرتا رہا اور عوام کو بھڑکاتا اور قتل پر اکساتا رہا۔ نتیجتاً گاؤں بھر نے آسیہ کو اس کے شوہر اور بچوں سمیت "گستاخ" قرار دے کر ایسی پٹائی کی  کہ اگر پولیس وقت پر نہ پہنچتی تو شاید توھینِ رسالت کے نام پر ایک کوٹ رادھا کشن ۲۰۰۹ء ہی میں ہوجاتا۔ورنہ جوزف کالونی،یوحنا آباد کی مثال یاد کرلیتے ہیں۔نہیں تو رِمشا مسیح کیس اتنا پرانا نہیں ہوا کہ ہم مکمل طور پر بھول چکے ہوں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کاحق اور جینے کا اختیار صرف اپنےمذہب نہیں بلکہ صرف ہم مسلک ہی کو رہ گیا ہے۔
آسیہ
  کیخلاف توھینِ رسالت کا پرچہ کاٹ دیا گیا جبکہ اس کا خاندان گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔سیشن کورٹ شیخوپورہ میں کیس کی سنوائی شروع ہوئی تو گاؤں کا وہی مولوی جتھا لے کر احاطۂ  عدالت کے باہر پھانسی کے فیصلے کیلیے دباؤ ڈالتا رہا۔اسے کارِ سرکار میں مداخلت سمجھا گیا یا نہیں،خبر نہیں۔مگر سیشن جج نے ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کیساتھ پھانسی کی سزا سُنا دی۔
سزا کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی اور وہاں بھی ہر کاروائی کے روز دو مولویوں کی سرپرستی میں احتجاجی مظاہرے کیے جاتے۔سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے ایک صاحب نے آسیہ کو جہنم واصل کرنے والے کیلیے پانچ لاکھ نقد انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔شاید ان مولوی صاحب کا ایمان ایسا مضبوط نہ تھا کہ یہ کارِ خیر خود سرانجام دے دیتے۔ہمارے ہاں ہمیشہ سے دوسروں کے "مُنڈوں" کو بازی لیجانے کیلیے اکسانا روایات سے ثابت ہے۔
ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد گورنر سلمان تاثیر جیل کے دورے پر آسیہ نورین سے مِلے اور واپسی پر ایک ایسے قانون پر تنقید کرنے کی گستاخی کر بیٹھے جسے برطانوی راج کے دوران برصغیر پاک و ھند کی اقلیتیوں کے تحفط کی خاطر نافذ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اُس وقت مسلمان اقلیتی حیثیت میں زندگی بسر کررہے تھے۔اس خطےمیں سب سے پہلے
  ۱۸۶۰ء میں انڈین پینل کوڈ میں سیکشن۲۹۵  ہر مذہب کی عبادت گاہ،عقیدے اور نظریے کو مقدم سمجھتے حفاظتی قانون کے طور پر متعارف کروایا گیا۔سزا جِس کی دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں تھی۔مقصد اِس کا یہی تھا کہ کسی بھی جماعت،فرقے یا مذہبی عقیدے کو نقصان پہنچا کر امن و امان کی صورتحال برباد کرنے والوں کو تنبیہہ ہوجائے۔انسانوں کے بنائے اس قانون میں سب سے پہلی ترمیم ۱۹۲۷ء میں کی گئی۔ ۲۹۵-اے مذہبی جذبات کو ابھارنے کیلیے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کے خلاف تھی۔اس کی سزا دس سال قید یا جرمانہ یا دونوں  تجویز کی گئی۔سیکشن میں دوسری ترمیم ۲۹۵-بی  پاکستان بننے کے پینتیسویں سال یعنی ۱۹۸۲ء میں ایک آمر کی حکومت کے دوران کی گئی اور پہلی بار برصغیر پاک وھِند کی اقلیتوں کے تحفظ کا قانون  مشرف بہ اسلام ہوگیا۔کیونکہ اب مسلمان اکثریت میں تھے۔لفظ بے حرمتی اور قرآنِ پاک کا اضافہ کیا گیا۔جبکہ عُمر قید کی سزا مقرر ہوگئی۔اس سیکشن میں اب تک کا آخری اضافہ/ترمیم ۱۹۸۶ء میں آئی۔ اور "براہِ راست یا بلا واسطہ لکھے یا بولے گئے توھین آمیز کلمات،پیغمبرِ اسلام حضرت محمد کیلیے تضحیک آمیز جملہ اور شکوک و شبہات پیدا کرنا" جیسی اصطلاحات کا اضافہ کیا گیا۔یاد رہے کہ  ۱۹۹۰ء-۱۹۹۱ء میں اس جرم پر سزائے موت اور جرمانے کا اضافہ کیا گیا اور ساتھ میں یہ شرط کہ کیس کی سماعت ایک مسلمان جج کی سرپرستی میں ہوگی۔ یوں برطانوی راج کا بنایا اقلیتوں کے تحفظ کا قانون ایک سو چھپن سالوں میں موجودہ شکل اختیار کرچکا ہے۔
۱۹۵۳ء سے جولائی ۲۰۱۲ء کے دوران چار سو چونتیس کیسز قانونِ تحفظِ رسالت  کے تحت رجسٹر ہوئے۔جن میں نسے دو سو اٹھاون مسلمان، ایک سو اکاون مسیحی ستاون قادیانی اور چار ہندو شامل ہیں۔۱۹۹۰ء سے تقریباً ۵۲ انسان ماورائے عدالت اِس گناہِ کبیرہ کے الزام میں موت کےے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں جن میں سے پچیس مسلمان،پندرہ مسیحی ،پانچچ قادیانی اور ایک بدھ مت اور ہندو ہیں۔۲۰۱۳ء کے بعد کم ازکم پانچ لوگ تو پولیس تحویل میں مرگئے کہ جِن پر گستاخ ہونے کا الزام تھا۔سبحان اللہ۔ کہ مسلمان ہی سب سے زیادہ گستاخ ثابت ہوتے آ رہے ہیں کیا ؟ ۔یہی سقم ہے جس کی جانب اشارہ کیا جاتا رہا ہے۔زیادہ تر کیسز ذاتی عناد،مسلکی عدم برداشت ، جائیداد کے جھگڑے اور حریف کو عدالتی چکروں میں ذلیل کرنے کیلیے اِس قانون کا غلط سہارا لیا جاتا ہے۔ایسے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے الفاظ ہیں کہ انسانوں کے بنائے قانون کو کالا قانون کہنا یا اُس پر تنقید کسی صورت گستاخی کے زمرے میں نہیں آتا۔جبکہ ممتاز قادری کے وکیل عدالت میں ایسا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیے جِس میں مقتول گورنر نبی پاک  کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے ہوں۔ جمہوری ریاست عوام کو حق دیتی ہے کہ وہ کسی بھی قانونی و آئینی شِق بارے اپنی رائے اور سوچ رکھنے میں آزاد ہیں۔
مقتول سلمان تاثیر نے غلطی یہ کی کہ اِس ترامیم شدہ قانون پر تنقید کرکے ایک مخصوص طبقے کو موقع فراہم کردیا بلکہ ہمارے ہاں تو کچھ میڈیا پرسنز بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے پائے گئے۔ کچھ نام نہاد علمائے دین
 بھی منبر چڑھے ڈاکٹر ایم۔ڈی۔تاثیر کو بھول کر ان کے بیٹے سلمان تاثیر  کا مذہبی عقیدہ متنازعہ بناکر لوگوں کے جذبات بھڑکاتے رہے۔ویسے یاد رہے کہ غازی علم دین شہید کے جنازے کی چارپائی کِس گھرانے نے سالوں سے سنبھال رکھی ہے۔تقدیر کا سائیکل کہیں یا کیا۔۔۔
ایک صاحب حنیف قریشی بھی ہیں جنہوں نے خواب میں بشارت والا ازلی حربہ استعمال کیا جس کے جواب میں آج تک کسی نے پلٹ کر ایسے مذہب فروشوں سے سوال نہیں کیا کہ صاحب یہ جنت آپ یا آپ کا بیٹا کیوں نہیں کما لیتے۔یہ وہی شخص ہے جس کے خطاب سے متاثر ہوکر گورنر پنجاب کی حفاظت پر موجود ایلیٹ فورس کا کمانڈو اپنی وردی میں سرکاری ہتھیار کا استعمال کرکے جنت کمانے نکلا تھا۔اور جب بات عدالت میں شہادت کی آئی تو حنیف قریشی، خطاب جِن کا شمشیرِ اعلیٰ  ہے، نے حلفیہ بیان جمع کروا دیا کہ قاتل سے اس کا کوئی واسطہ تعلق نہیں۔یہاں اِسے کوئی بشارت یاد نہ رہی۔یاداشت اِن صاحب کی تب پلٹ کر آئی جب پھانسی کے پھندے سے اتاری میت سرہانے فوٹو سیشن کروانے کا وقت آیا۔ایسے ہی ڈبہ فروشوں نے  اُس وقت کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو بھی اگلے جہاں پہنچا دیا۔
صورتِ احوال یہ ہے کہ ریاستی قانون نے پانچ سال ممتاز قادری کو شہادتیں اور ثبوت عدالت میں پیش کرکے خود کو حق بجانب ثابت کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا۔ جبکہ صاحب کے وکیل اپنا سارا زور مقتول کو شاتم و مرتد کے علاوہ شادیوں،معاشقوں،بچوں کی تعداد اور کھانے پینے کی عادات کے حوالے سے غیر اخلاقی و غیر شرعی سرگرمیوں میں ملوث ثابت کرنے پر لگاتے رہے۔۔کیا پھر بھی ریاستی قانون کسی فردِ واحد کو اجازت دیتا ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر اخلاقی پولیسنگ کرتا پھرے اور سزائیں تجویز کرے؟ نہیں۔
 مجرم نے ابتدائی بیان میں کہا کہ اُس نے جو بھی کیا قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق کیا تاکہ آئیندہ گستاخی کرنے والوں کیلیے سبق رہے کہ ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔یہی وہ بیان ہے جس کے باعث ممتاز قادری پر دھشت گردی کی دفعہ لگائی گئی۔قتلِ عمد میں اسلام آباد کی ایک معروف شخصیت سات کروڑ روپے کی دیت دینے کو تیار تھی۔اور جو مُلک بھر سے کروڑوں کا چندہ اِس مَد میں اکٹھا کیا گیا اُس کا حساب کِس نے دینا ہے وہ الگ سوال ہے۔قطع نظر اِس کے کہ دیت کے باوجود دھشت گردی کی دفعہ کے تحت سزا پھر بھی یہی ہوتی۔ایک بار اِن دفعات کا مطالعہ تو کیجیے کہ ریاستی قانون کیا کہتا ہے۔پھر بحث کیجیے کہ کہاں بہتری و ترمیم کی گنجائش نکلتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اگرچہ دھشت گردی کی دفعہ ہٹا دی تھی جبکہ فیصلے کا متن کہتا ہے کہ " ممتاز قادری نیک و پرھیزگار تو ہوسکتا ہے لیکن قاضی نہیں۔کونسے الفاظ توھین کے زمرے میں آتے ہیں اِس کا تعین عدالت کرے گی۔" ریاست نے سپریم کورٹ میں دھشت گردی کی دفعہ 7-اے کو دوبارہ شامل کروایا۔ ایسا اقدام جو معاشرے میں بےچینی،ھیجان اور ڈر خوف پیدا کرے۔کسی کی جان لے کر اسے دوسروں کیلیے سبق آموز قرار دینا دھشت پھیلانا ہی تو ہے۔ممتاز قادری نے اپنے بیان میں دوبارہ اضافہ کروایا کہ سلمان تاثیر نے اُسے طیش دِلوایا اور مکالمے کے دوران دھکے بھی دیے۔جبکہ چار جنوری کی سہ پہر شیخ وقاص نامی شخص بھی گورنر پنجاب کے ہمراہ تھا نہ تو مجرم کے وکلاء میں اتنی ہمت ہوئی کہ اُسے شہادت کیلیے عدالت بلواتے اور نہ ہی کوئی ایک چوٹ،خراش کا نشان تک دکھایا گیا جِس سے ثابت ہو کہ اُسے طیش دِلوایا گیا جس کے باعث سرکاری وردی میں ملبوس ایک کمانڈو نے سرکاری ھتیار کی اٹھائیس گولیاں سامنے کھڑے اُس شخص پر چلا دیں جِس کی حفاظت کا امین بنا وہ ریاست سے تنخواہ لے رہا تھا۔ اسی نقطے کو عدالتی فیصلے کے متن کے حساب سے آرٹیکل ۱۲۱  کو  اپنے فائدے کیلیے استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور اِس بیان کو من گھڑت،اپنی جان بچانے کیلیے ایک حربہ قرار دیا گیا ہے۔عدات نے ممتاز قادری کے بیانات کو دو حِصوں میں تقسیم کیا ؛ قتل کا حقائق پر مبنی جواز اور قانونی جواز۔۔۔ مگر ہر دو سطح پر اُن کے وکلاء اپنے مؤکل کا مؤقف درست ثابت کرنے میں ناکام رہے۔بطور ثبوت اخباری رپورٹ پیش کی گئی جو کہ قتل کے مہینوں بعد چھاپی گئی اور جس کو عدالت نے رپورٹر کی قیاس آرائی اور فرضی کہانی قرار دیا۔دوسرا اخباری تراشہ اُس رپورٹ کا پیش کیا گیا جس میں سلمان تاثیر کے کسی ٹی۔وی چینل کو دیے گئے انٹرویوکا حوالہ دیا گیا تھا۔مگر نہ تو اس چینل اور پروگرام کا نام بتانے کی زحمت کی گئی۔نہ ہی نشر کیے جانے کی تاریخ ، وقت اور دیگر تفصیلات کا کوئی حوالہ موجود تھا۔مزید یہ کہ رپورٹر نے بھی کلیم نہ کیا تھا کہ اُس نے خود ایسا کوئی بیان سلمان تاثیر کے منہ سے سنا ۔ عدالت میں جمع کروائے گئےتحریری بیان میں سورۃ التوبہ کی آیہ مبارکہ نمبر ۱۲،۱۳،۱۴ اور ۱۵ ، سورۃ المائدہ کی  آیت نمبر ۳۳ ،سورۃۃ الحجرات کی  آیہ مبارکہ نمبر ۲ اور اسی طرح  سورۃ النور،سورۃ  الحزاب، سورۃ النساء ، سورۃ البقراہ ، سورۃ المجادلہ اور سورۃ الانفال کی مختلف آیہ مبارکہ کے علاوہ ۳۰احادیث کے حوالے بھی پیش کیے گئے۔ جن کے جواب میں عدالت نے تحریری فیصلےمیں قتل کے تمام معاملے کو سنی سنائی بات پر بنا تصدیق کے ردِ عمل میں اٹھایا گیا انتہائی قدم قرار دیتے ایسے لوگوں کیلیے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر۶ ، سورۃ النساء کی آیہ مبارکہہ نمبر ۸۳ اور ۹۴ میں دی گئی وعید کا حوالہ دیا ہے۔ 
فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان کو بھلا کر چند واقعات کا حوالہ دینے والے بھول جاتے ہیں کہ اُس لمحے وہ حکم ریاست کے ولی و حاکم کی جانب سے تھا ورنہ گستاخی کرنے اور ہجرت پر مجبور کردینے والوں کی امانتیں لوٹانے کیلیے حضرت علی
ؓ  کو اپنے بستر پر نہ سُلایا جاتا کہ سویرے امانتیں لوٹا کر آئیں۔
ممتاز قادری کے تحریری بیان میں ملک بھر کے نام نہاد مذہبی سکالرز سے قاتل کے حق میں فتووں کے علاوہ یہ بھی درج کروایا گیا کہ گستاخِ
  کی میت کو غسل تو کیا جنازہ تک جائز نہیں۔آپ متشدد اور نفرت بھری سوچ کا اندازہ کیجیے۔پڑھتا جا شرماتا جا۔
۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء  کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔اس کے بعد صدرِ مملکت کو رحم کی اپیل بھجوائی گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ نہ تو مقتول کے ورثاء نے دیت لی یا اللہ واسطے معاف کیا اور نہ ہی آج تک ہمارے ہاں دھشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے والے مجرم کو معافی مِلی ہے۔بہرحال تصور کیا جاسکتا ہے کہ اکتوبر سےاس برس انتیس فروری کی صبح تک ریاست اور حکومتِ وقت کو دباؤ میں رکھنے کی کتنی کوشش کی گئی ہوگی جِس کا سرِعام مظاہرہ پھانسی کی خبر آجانے کے بعد کیا گیا کہ لاہور میں میٹرو بسوں پر پتھراؤ کروایا گیا،شاہراہیں بند کردی گئیں لہذا دفعہ ۱۴۴  نافذ کرنا پڑی۔جبکہ دارالحکومت میں جڑواں شہروں کو ملانے والی اسلام آباد ایکسپریس وے اور فیض آباد پل کے علاوہ بارہ کہو اور روات سے شہر میں آنے والے راستے بند کرکے مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔فیض آباد کے نزدیک میڈیا کے نمائندوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔آخر وہ کونسے منظم عناصر تھے جنہوں نے لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو اشتعال دِلوا کر سڑکوں پر نکالا۔یقیناً کسی انسان کی آخری رسومات میں شرکت کرنے سے ریاست کسی کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتی مگر اِن رسومات کو ریاستی قوانین کو پامال کرنے کا پلیٹ فارم بنا لینا کسی طور جائز نہیں۔اب آپ آئے روز سنیں گے کہ فلاں جگہ مرحوم کی یاد میں مسجد، مدرسہ قائم ہورہا ہے۔چندہ دیجیے۔مگر ایک سبزی فروش کا بیٹا جو ایلیٹ فورس میں کمانڈو کے عہدے پر تھا،جس نے اپنے چار ماہ کے بیٹے کی یتیمی اور جوان بیوی کی بیوگی بارے نہ سوچا ،پہلے کہتا رہا کہ یہ قتل دوسروں کو ایک سبق سکھانے کیلیےقرآن و سنت کی روشنی میں کیا اور پھر جان بچانے کیلیے آرٹیکل ۱۲۱ کا سہارا لینے کی کوشش کرتا رہا۔تو کیا ریاست اور یہہ نام نہاد مذہبی ٹھیکےدار اِس یتیم کی تعلیم و تربیت اور بیوہ کی داد رسیی کے ساتھ بوڑھے والدین کی معاشی و معاشرتی حوالوں سے مدد کریں گے۔

آخر میں مجھے نومبر کے مہینے میں بی۔بی۔سی نیوز میں چھپنے والی ایک خبر یاد آ رہی ہے جِس کے مطابق عاشقِ رسول ممتاز قادری نے اپنے اہلخانہ سے پہلے کی طرح نہ ملوائے جانے پر خودکشی کی دھمکی دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیکیورٹی وجوہات اور خطرناک قیدی ہونے کی وجہ سے قاتل اپنے اہلِ خانہ سے لوہے کی باڑ کے پیچھے سے ملاقات کرسکتا تھا۔ممتاز قادری نے اِس قانون کو بھی ماننے سے انکار کیا اور خودکشی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی (حرام) موت کی ذمہ دار انتظامیہ ہوگی۔جِس کے بعد جیل انتظامیہ نے مجرم کی مرضی سے ملاقات کی اجازت دے دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر دِلبرداشتہ مجرم خود سوزی کرلیتا تو اُس کے حواری کون سی معجون کوٹ پیس کر بازار میں بیچتے ۔