ہفتہ، 21 مئی، 2016

جھگڑا

آج پھر یونہی کسی نے ہنستے ہوئے کہا تھا "جانے دو بھئی۔۔۔سوا دو سال میں کبھی کوئی جھگڑا ہی نہ ہوا ہو۔ایسا ممکن نہیں۔اور اگر ایسا ہے تومان لو کہ وہ رشتہ کسی طور نارمل تھا ہی نہیں۔"
وہ چونکی تھی اور تنبیہہ کے انداز میں شہادت کی انگلی اٹھائے،ماتھے پر تین بل سمیٹے تصحیح کررہی تھی ، "دو سال، چار مہینے ، ایک دِن۔۔۔ اور جھگڑے کی فرصت و گنجائش کبھی میسر نہیں آئی تو اس میں ایبنارمل کیا ہے ؟"
بات کچھ ایسی نہ تھی لیکن محفل سے دِل اُچاٹ ہوچکا تھا۔آخروہ کیوں اس کی بات کا ایک ہی بار یقین نہیں کرلیتے۔کیا لوگ اپنی نجی زندگیوں میں اتنے جھگڑالو تھے یا پھر وہ خود ہی آئیڈل قسم کا نمونہ پیش کرتے کوئی کھردرا سرا "کوئی بات نہیں۔اِٹ ھیپنز۔۔۔"  کے زمرے میں جان بوجھ کر کہیں رکھ کر بھول بیٹھی تھی۔واپسی پر غائب دماغی سے وہ کوئی کڑواہٹ یاد کرتے ، بے ہنگم ٹریفک کو گھورتے  قرینے سے سجائے ماضی میں سے بے ترتیبی کھنگالتی  رہی۔
کافی کب کی ٹھنڈی ہوچکی تھی جبکہ کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتے وہ آج پھر رفو شدہ یاداشت کو لیرو لیر کرنے میں مصروف تھی ۔نئے س
ِِِرے سے بچی کھچی راکھ کریدتےوہ  کسی لڑائی اور بدمزگی کی چنگاری کی تلاش میں ہلکان ہو چکی تھی۔ "شاید اُنہیں  خفگی اور غصے میں میری گہری خاموشی سے ڈر لگتا ہو۔یا شاید مجھے اُن کے غضبناک لہجے کو سن لینے کی تاب نہیں تھی۔شاید ہم دونوں اذیت پسندی سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔" ہمیشہ کا اخذ کردہ نتیجہ دہراتے مگ کے کناروں پر انگلی گھماتے اسے اچانک اِس پُر مغز تحقیق میں کچھ اضافہ میسر آگیا تھا۔۔۔ "یا شاید ایک دوسرے کو مرکزِ ثقل مانے ہم دونوں اک دوجے کے طواف میں مگن رہتے تھے۔" کیا تھا، کیوں تھا اور ایسا ہی کیوں تھا۔ہر بار یہ گُتھی سلجھنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔
"جھگڑے اور پیار بھری ڈانٹ میں بہت فرق ہوتا ہے ۔اچھے دوست فکر کرتے ہیں ۔لہذا مان کے ساتھ ڈانٹ پِلانے کا حق رکھتے ہیں۔آپ کی جانب سے بھی تو ڈانٹ کی بجائے چند سیکنڈز  کی خفگی کا شاندار مظاہرہ ہو ہی جاتا ہے نا۔" کسی کونے میں چھپی کھنکتی سرگوشی ہر بار اس کے پیر جکڑ کر آنکھیں نم کرنے کا سامان کرلیتی تھی۔
انگلیوں کی پوروں پر حساب کے کچے طالب علم کی طرح وہ شمار کرنے لگی تھی۔
ڈھنگ سے نہ کھانے پر۔۔۔اوں ہوں! وہ تو خفگی تھی۔فکر تھی۔ اچھا چلو ! ظہر کی جماعت سے قبل فون کال نہ اٹھانے پر۔۔۔کہاں جی، وہ بھی پریشانی کی علامت ہی ٹہری تھی۔یاد آیا وہ ایک بار ڈیڑھ دِن ، پورے پینتیس گھنٹے بات نہیں کی تھی۔کیا وجہ تھی۔۔کیا وجہ تھی بھئی۔۔۔ہاں ! پانی کی بوتل خود اسٹینڈ پر لگائی تھی۔لیکن یہ تو ڈر تھا جو ایک بار کسی نعمت کے چِھن جانے پر ذہن پر قابض ہوگیا تھا۔
بارش میں نہانے کی ضد پر بھی تو ڈانٹا تھا۔۔۔لیکن وہ تو بخار آگیا تھا تو بوکھلاہٹ تھی۔
کھانے کے نمک مرچ پر یا مہمانوں کی تواضع ڈھنگ سے نہ کرنے پر۔۔۔۔ارے یہ کیا۔عجیب انسان تھے کہ جنہیں ایسے مروجہ اصول پر جھگڑنے کا کوئی موقع ہی میسر نہ آیا تھا۔
لوگ چٹخارے لے کر اپنی روداد سناتے ہیں کہ شاپنگ نہ کروانے،کھانا باہر نہ کھانے، بچوں کو سنبھالنے ، نمک مرچ کی مقدار کو لے کر اور ایک دوسرے کے خاندانی معاملات پر کتنے مزے کے جھگڑے اور گلے شکوے ہوتے ہیں۔روٹھنا منانا۔۔۔آہ کیسا ہوتا ہے یہ تجربہ۔معاشرتی اور سماجی اعتبار سے بھرپور اور مکمل طور پر نارمل رشتہ۔ تو کیا واقعی وہ ایک ایبنارمل رشتے میں باندھ دیے گئے تھے۔یہ جملہ ذہن میں کہیں اٹک گیا تھا ۔
وہ کرخت طبیعت کے باعث خاندان بھر میں مشہور تھی۔ سماعتوں میں ایک ہی سوچ اور لہجے مختلف الفاظ کے پیرہن کے ساتھ ٹکراتے رہتے۔۔۔ "کہے دیتے ہیں یہ تیور گھر بسانے والی بچیوں کے نہیں ہوتے۔گز بھر لمبی زبان۔توبہ ہےقینچی کی طرح چلتی ہے۔ہر موضوع پر رائے زنی کرتی بہو بیویاں کسی کو نہیں بھاتیں۔تربیت ڈھنگ سے کی ہوتی تو آج رشتوں کی لمبی قطار ہوتی۔اپنے مارتے بھی ہیں تو چھاؤں میں بٹھاتےہیں۔ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھتے۔(اور اس کا جذب جواب دیتا تو پلٹ کر ضرور پوچھتی۔۔۔تو یعنی "چھالے" ہی بنا کر رکھنا مقصود ہے؟) اوپر سے پڑھ لکھ کر دماغ خشکی میں ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے۔کرلو بھئی شوق پورے اور دیکھ لیں گے ہم بھی کہ اتنا پڑھا لکھا بندہ کب چُٹیا سے پکڑ کر باہر کا راستہ دکھائے گا۔ ایسی آزاد منش لڑکیاں تین مہینے سے زیادہ چاؤ چونچلے اٹھواتے گھر نہیں بسا سکتیں ۔ہونہہ۔"
لیکن یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ تھا۔مباحثے کا حصہ نہ بننے پر آنکھیں دکھائی جاتیں۔کتاب نہ پڑھنے پر استفسار کیا جاتا اور فوری کسی حجت کو مان لینے پر طبیعت کی ناسازی سے جوڑ دیا جاتا۔لیکن جھگڑا۔۔۔لڑائی۔۔۔اس سارے فلیش بیک میں ایسا تلخ ذائقہ تو پھر بھی چکھنے کو نہ ملا۔کیا فائدہ ہوا کھرنڈ چھیلنے کا۔رستے بہتے زخم کو دیکھ کر کیسی لذت اور اطمینان ۔۔۔خود اذیتی سے نفرت کی حد تک کنارہ کشی اور پھر یہ سب پھیلاوے کی اچانک ضرورت کیا آن پڑی۔
ضرورت تو تھی نا۔صبح اُن تمام جھگڑوں اور تلخ شکوے شکایات کا دِن تھا جو سال میں ایک ہی بار تو ملتا تھا۔۔۔ بِنا بتائے نئے سفر پر تنہا جانے کا شکوہ ، جھگڑا اُس
آخری پرسکون مسکراہٹ کا ، شکایت آبلہ پائی کی ، بحث آنسوؤں کے سود بیاج کی ، حساب کتاب زندگی کے نفع نقصان کا اور  غصہ لوٹ کر گھر نہ آنے کا ۔۔۔ استہزایہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے خود کو کامیاب اداکاری پر خیالی تھپکی دی تھی۔"شاباش! تین برسوں میں اِن جھگڑوں کی کسی کو بھنک تک نہیں پڑنے دی۔گھر کی بات باہر کرنا عقل مندی نہیں ہوتی۔"

2 تبصرے:

  1. لاجواب- اب اس میں داد کسی دی جائے، اسے جو خود کلامی کررہی ہے٫ یا اسے جس نے سوچ کو خوبصورت لفظوں میں بیان کیا۔ عورت عظیم ہے۔

    جواب دیںحذف کریں