بدھ، 16 مارچ، 2016

شکنجہ

ریلوے اسٹیشن کی قریبی آبادیاں اور ریلوے کالونیوں کے رہائشی بخوبی جانتے ہیں کہ سال میں کونسا موسم ہوتا ہے جب ان کے گھر کے اسٹور رومز،باورچی خانے اور پرانی الماریوں میں چوہوں کی آمد و افزائشِ نسل ہوتی ہے۔لاکھ طرح کے جتن کرلیے جائیں یہ بِن بلائے مہمان ضرور آ دھمکتے ہیں۔ اور زیادہ تر گھرانے انہیں بھگانے ، مارنے یا جان چھڑوانے کے حسبِ استطاعت مہنگے ، سستے اور طویل یا قلیل مدتی انتظامات کرتےضرور ہیں۔اگرچہ کچھ گھرانے ایسے بھی دیکھے ہیں جو میوچل انڈر سٹینڈنگ اپناتے ہوئے پرواہ نہیں کرتے۔حتیٰ کہ مہمانوں کے سامنے شرمندہ ہونے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔
ایک تو ہوتا ہے سفیدی مائل اور سرمئی رنگ کا چھوٹا چوہا جس کیلیے آج بھی ہر شہر کے بڑے بازار کے گول چکر میں ایسی گولیوں اور پاؤڈر کی خرید و فروخت ہوتی ہے جو بیک وقت چھپکلی،لال بیگ اور چوہے سب کےلیے مؤثر کارکردگی کے دعوے کا لیبل لگوائے دستیاب ہے۔اور ایک ہوتا ہے تھوڑا درمیانی صحت و جسامت والا چوہا اس کےلیے شکنجہ ملتا ہے جسے عام زبان میں  کُڑُکّی  کہا جاتا ہے۔ اور ایک اور ہوتا ہے وہ بدبو دار اور کراہت آمیز آواز نکالنے والا بڑا چوہا ۔ رنگ اِس کا سیاہی مائل گندمی ہوا کرتا ہے۔یہ آپ کو لاہور اور پنڈی ریلوے اسٹیشنوں پر شانِ بےنیازی سے گھومتا پھرتا دکھائی دیتا ہے ۔اس سے نبٹنے کے لیے مارکیٹ میں پنجرہ دستیاب ہے۔غرضیکہ ہر قسم کی مصیبت کے لیے ہر طرح کا مال بازار سے بارعایت حاصل کیجیے اور وبال سے جان چھڑوایے (اگر  کراہت آتی ہے اور ارادہ ہے تو)۔
بہرحال جناب قصہ مختصر یہ کہ تھوڑی ہوش سنبھالی تو دادی کو  نیلا تھوتھا نما کوئی سفوف آٹے میں ملا کر گولیاں بناتے اور گھر کے کونے کھدروں میں پھینکتے دیکھا کرتے تھے۔پھر آگیا دور مورٹین ریٹ کِلر کا جو کہ ہم اکثر ہی اپنےجیب خرچ سے منگوا کر موسم شروع ہونے سے قبل ہی گھر میں ڈال لیتے تھے۔فائدہ اِس کا یہ ہوا  کہ چوہے اس فیروزی دوا کو کھاتے اور باہر کھلی فضا میں جا کر مرتے جِس سے گھر میں تعفن پھیلنے اور پھر بھائیوں کا منت ترلہ کرکے اٹھوانے کی کوفت سے نجات مِلی۔ یہ سہولت بھی آخر کب تک رہتی۔درمیانی صحت کے چوہوں کا حملہ ہوا تو شکنجہ لانا پڑا۔۔۔تعداد اتنی بڑھی کہ تین شکنجے گھر کے مختلف کونوں میں رکھے۔ایک میں مکھن لگی روٹی کا ٹکڑا پھنسایا ، دوسرے میں پنیر جبکہ تیسرے میں سیب کا ٹکڑا رکھا(مارنا ہی ہے تو اچھا کِھلا کر قلع قمع کرو)۔آدھی رات کو ٹَھک ٹَھکا ٹَھک کی آوازیں آتیں اور ابا بھاگتے کہ ابھی شکنجہ فارغ کرو تاکہ اگلا شکار پھنسے۔خوب تماشہ رہتا۔
چچا کی پوسٹنگ چنیوٹ تھی اور ہم امتحانات سے فارغ ہوئے چچی کو شرفِ میزبانی بخشے ہوئے تھے۔جب اُن کے اسٹور روم میں دو چوہوں کا قبضہ سننے میں آیا۔ جن کی آوازوں نے دو روز سونے نہیں دیا،تیسرے دن اسٹور کا سب سامان صحن میں منتقل کیا گیا اور ایک موٹا ڈنڈا لیے چچا سٹور میں قابض سے جنگ کرتے پائے گئے۔ہمارے قہقہے پورے گھر میں گونج رہے تھے۔کوئی آدھ گھنٹے بعد دروازہ کھلا۔چچا بنیان تہمد میں ہانپ رہے تھے۔جھانک کر اندر دیکھا تو دھشت گرد چوہے شدید زخمی حالت میں زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے جبکہ چچا کے بچے اپنے ظالم ابا کو کوس رہے تھے جنہوں نے زخمیوں کو مرنے کیلیے کوڑے دان کی نظر کردیا۔خس کم جہاں پاک۔
ابا کی ترقی ہوئی اور ہم بڑے گھر میں منتقل ہوئے تو گھر ریلوے لائنوں سے اتنا قریب ہونے کا پہلا نقصان بڑے والے چوہوں کے خاندان کا ہمیں خوش آمدید کہنا تھا۔ہم سے پہلے جوگھرانہ یہاں آباد تھا ان کے بقول پینتیس سال سے وہ ان سے نجات حاصل نہیں کرپائے تھے۔بلی کے بلونگڑوں کی جسامت والے چوہوں کو شکنجے کیا کہیں جناب۔ بھائی نے پہلا کام جو کیا وہ پنجرہ لانے کا تھا۔اُس کے اندر پہلے روز پنیر رکھا تو چند منٹ میں ایک موٹا پلا پلایا چوہا قید ہوچکا تھا ۔مسئلہ تھا اسے اب مارنے کا۔بڑے بھائی نے ھینڈل کیساتھ رسی باندھی اور گھر کے سامنے نہر کنارے پنجرہ لے گئے۔ آدھے محلے کے بچوں کو ارد گرد اکٹھا کیا اور تماشہ دکھاتے پنجرے کو لگے ڈُبکیاں لگوانے۔ ہم دروازے کی اوٹ سے یہ منظر دیکھ کر کُڑھتے اپنا خون جلاتے رہے جبکہ اماں کے مطابق بھائی بہتر جانتا تھا کہ کیسے نبٹنا ہے۔صاحب بہادر نے پندرہ بیس منٹ یہ سرکس لگائے رکھا اور جب ادھ موئے چوہے میں مزید سہنے کی ہمت دکھائی نہ دی تو پنجرے کا بالائی راستہ کھول کر نہر بُرد کر کے ہاتھ جھاڑتے گھر آگئے۔ آتے ہی سیب کا نیا ٹکڑا پنجرے میں ڈال کر گھر کے اُس دروازے کے پیچھے رکھ دیا جہاں سے اِس مخلوق کا آنا جانا تھا۔ تجربہ کامیاب یوں رہا کہ ہفتے بھر میں ہی ان نہر تماشوں کے دوران گھر سارا پاک ہوچکا تھا۔
کہاوت ہے کہ انسان ہمیشہ چوہوں سے چھ فِٹ سے زیادہ کے فاصلے پر نہیں ہوتا۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کیونکہ ابھی سالوں سے ہمارے اِس نئےگھر میں ایسا کوئی شکار پھنسا نہیں۔وجہ شاید یہ بھی ہے کہ گاہے بگاہے ریٹ کِلرز کا چھڑکاؤ کرتے رہتے ہیں۔اور بچوں کو بھی بتا رکھا ہے کہ یہ کھانے والی گولیاں نہیں ہیں بلکہ بھگانے والی ہیں۔
نوٹ : اِس تحریر کا تعلق کسی قسم کے خاکی چوہوں سے نہیں ہے۔ہر طرح کی مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔

جمعرات، 10 مارچ، 2016

اصل کہانی


اُس کی نانی اور والدہ ریلوے پرائمری سکول میں آیا تھیں۔بارہ سالہ ریحانہ اکثر اپنی نانی کے ساتھ ہمارے گھر آیا کرتی جب اماں سے کچھ رقم ادھار لینی ہوتی۔پھر سنا کہ ریحانہ کے پیٹ سے دس کلو ملپ آپریشن کرکے نکالے گئے ہیں۔کچھ عرصہ بعد جانے کیا سوجھی کہ اماں کے پاس زبردستی شاگردہ بن بیٹھی۔ "بس باجی میں تو آپ سے کٹائی،سلائی سیکھوں گی۔نانی دور نہیں بھیج سکتی۔اور پڑھنا میرے دماغ کا روگ نہیں۔" بہت سمجھایا مگر جیت ریحانہ کی ہوئی۔یونہی کچھ ماہ گزر گئے اور ایک روز چھٹی لینے آگئی کہ گجرات میں ایک مزار سے آنکھوں پر تیل لگا کر نانی کی بصارت واپس مل سکتی ہے ،لہذا اُسے بطور اٹینڈینٹ ساتھ جانا تھا۔

ایک ہفتے بعد ریحانہ کی نانی اکیلی لوٹیں اور کالونی بھر میں بچے بچے کو خبر مل گئی کہ جب نانی دربار کے چراغ سے تیل آنکھوں پر لگائے بیٹھی تھی تو بیت الخلاء گئی ریحانہ واپس ہی نہ آئی۔پرچہ کٹوا دیا گیا۔یہ میاں نوز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کا واقعہ ہے۔اُن دنوں وزیرِ اعظم ہاؤس میں عوام سے ٹیلی فونک رابطہ اور  کھلی کچہری کا چرچا تھا۔ریحانہ کی والدہ ہمارے گھر سے فون ملاتے اپنا پلو بھگوتی رہتیں۔جب کوئی امید دکھائی نہ دی تو کھلی کچہری پہنچ گئیں۔ معاملہ پریس کے سامنے آیا اور وزیرِاعظم نے فوری کاروائی کی یقین دہانی کروا دی۔کچھ ہفتوں میں  وقفوں سے اُس ہی علاقے سے لڑکیاں اغواء کرکے علاقہ غیر بھجوانے والے دو گروہ پکڑے گئے۔مگر ریحانہ نے ملنا تھا نہ ملی۔
سال تھا دو ہزار چار،ابا کی ملازمت میں ترقی کے بعد ہم دوسری کالونی کے بڑے گھر میں منتقل ہو چکے تھے جب پرانی کالونی سے خبر ملی کہ ریحانہ واپس آگئی ہے۔کسی نے بتایا کہ خود آئی ہے ، کوئی کہتا پولیس نے بازیاب کروایا اور چند ایک نے بتایا کہ عرصہ ہوا والدین کو مل چکی تھی مگر باقی بیٹیوں کا گھر بسانے کی خاطر ماموں کے ہاں چھپا رکھا تھا۔غرض کہ جتنے منہ اُتنی کہانیاں۔
ایک روز ریحانہ کی والدہ ہمارے ہاں آئیں اور جو کہانی انہوں نے سنائی اس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ محلے کے ڈیرے دار کو ریلوے ٹریک پر ایک جھَلی سی لڑکی بنا دوپٹے کے بیٹھی مِلی۔جو بار بار کہہ رہی تھی ۔۔۔"امی ، ٹریناں ، گھر  نانی ، میں ریحانہ۔۔۔" ان صاحب نے فوری کڑیاں ملائیں اور ریحانہ کی ماں کو بلوایا (نانی وفات پا چکی تھیں) جس نے بیٹی کو پریشان حال میں پہچان لیا تھا۔
میڈیا اُن دنوں آزادی کا نیا ذائقہ چکھ رہا تھا۔پہلے تھانے میں اطلاع کی گئی اور پھر بچی کو نہلا دھلا کر اچھے لباس اور صاف ستھرے حلیے میں میڈیا کے سامنے لایا گیا ۔اخبار میں اشتہار بھی دے دیا گیا۔تیسرے روز ایک میلا کچیلا بندہ دو بچوں کیساتھ نکاح نامہ پکڑے ریحانہ کے شوہر ہونے کا دعویدار بنا کھڑا تھا۔لاہور سے آیا تھا جِس نے  اپنے حصے کی کہانی بیان کی کہ ظالم بھیڑیے ریحانہ کو مختلف انجیکشنز کے زیرِ اثر  رکھ کر اپنے مقاصد کیلیے استعمال کررہے تھے۔اور دوا کے زیادہ استعمال نے اس کی ذہنی صلاحیتیں بالکل مفلوج کرڈالی تھیں۔ سات آٹھ سال قبل جب چھاپے پڑ رہے تھے تو کس طرح ریحانہ نشے کی حالت میں وہاں سے بھاگی اور اِس شخص کے تندور کے سامنے بیہوش ہوگئی۔یہ شخص لاوارث تھا کچھ مہینوں بعد اہلِ علاقہ نے اس کا نکاح نیم پاگل ریحانہ سے کروادیا۔مگر وہ اکثر اپنے والدین اور گھر کی دھندلی یادوں کو دہراتی دو بچے پیدا کرچکی تھی۔
اس تمام داستان میں درجنوں جھول تھے جو کوئی بھی ذی ہوش تلاش کرسکتا تھا۔پہلا سوال ہی یہ تھا کہ گھر سے آدھا میل دور ریلوے ٹریک تک پہنچی کیسے،کس نے پہنچایا اور اُس سے آگے گھر کا راستہ کیوں نہ یاد آیا۔مگر اماں نے مبارکباد  دی کہ بیٹی مِل گئی اور ہماری دادی کا مشہورِ زمانہ تبصرہ "پُتر موئے دا صبر آجاوندا اے،گواچے دا نئیں۔۔آس بنی رہیندی تے بندہ کُرلاندا ریہندا اے۔" (بیٹا ! مَرے کا صبر آجاتا ہے مگر گُم ہوئے کا نہیں۔آس بندھی رہتی ہے اور زندگی سسکتی رہتی ہے)۔
مقصد اِس آنکھوں دیکھے واقعہ کو بیان کرنے کا صرف یہ ہے کہ آٹھ مارچ کو سابق گورنر پنجاب کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کی چار سال سات ماہ کے بعد اچانک واپسی نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیرِ داخلہ کا انکشاف ،ترجمان بلوچستان حکومت کا بیان ، آئی،ایس،پی،آر کے دعوے (لمحہ بہ لمحہ تصویری حال کے ساتھ)  اور تاثیر خاندان کے مؤقف کے علاوہ ہماری ٹی۔وی سکرینوں پر بیٹھے بقراط ۔۔۔ کسی ایک کا بیانیہ دوسرے سے میل نہیں کھا رہا۔ایسے میں سوشل میڈیا پر سازشی تھیوریز گھڑنے،دائیں اور بائیں بازو کے دعویداروں کا رویہ بھی خاص قابلِ تعریف نہیں۔
عرض فقط یہ  ہے کہ اگر معاملہ صرف تاوان کا تھا تو پانچ پارٹیز کے ہاتھوں مغوی کو بیچا ہی کیوں گیا۔اگر اغواء ہی نہ ہوا تھا تو تشدد زدہ اور ریت میں گردن تک دھنسے شہباز کی تصاویر کِس نے جاری کی تھیں ۔ یو۔ای۔ٹی کا وہ طالب علم کیا ہوا۔اچھا تو داعش کے چنگل سےافغان طالبان کمانڈر نے رہائی دِلوائی۔ٹھیک۔۔۔تو اِس نام نہاد کاروائی میں گرفتاریاں کہاں ہیں نیز اُس طالبان کمانڈر سے ڈیل کِس نے اور کِن شرائط پر کی اور اگر کچلاک (بلوچستان) کے مشہورِ زمانہ السلیم ہوٹل میں بیٹھا شہباز تاثیر جیب میں پڑے ساڑھے تین سو روپوں کے برتے رُوش تناول فرما رہا تھا تو آپریشن،بازیابی،کاروائی جیسی اصطلاحات کے نئے مفہوم سے قوم کو متعارف کروانے پر ہم واقعی مشکور ہیں۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب بڑے نقصان سے کمر ٹوٹی ہو اور ایسے میں دوسری قیمتی شے نقصان کرنے والے کے ہمدردوں کے قبضے میں ہو تو سزا دینے میں تب تک تاخیری حربہ استعمال کرو جب تک اپنی شے تحویل میں نہ آجائے۔اب یہ کامیابی خبر کی صورت کب اور کیسے سامنے لانی ہے مرضی ہے مالکان کی۔بس یہ دھیان رہے کہ اصل کہانی میں ایسا جھول نہ ہو جو جگ ہنسائی کا باعث بنے۔

بدھ، 10 فروری، 2016

آلو کہانی

بات کچھ ایسی بھی نہ تھی کہ اسے گھسیٹتے چلے جائیں۔مگر جب موضوعات کا فقدان ، جستجو کا قحط ہو اور ترجیحات کی فہرست "اپ سائیڈ ڈاؤن" ہوجائے تو ملکی سربراہ کی چھینک سے لے کر ،کھانوں کی تفصیل تک اور پشاوری چپل سے لے کر آلو کی قیمت بارے دیے گئے بیان کو ہی خبروں اور سوشل میڈیا کی زینت بننا پڑتا ہے ۔چند روز قبل پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے وزیرِ اعظم صاحب نے پانچ روپے فی کلو آلو کی قیمت بتائی جسے ہم اَن سنا کرگئے کہ اُسی روز سترہ روپے فی کلو خریدے تھےجو کہ کچھ عرصہ قبل ساٹھ سے نوے روپے (میٹھا اور پھیکا) میں خریدا کرتے تھے ۔سوشل میڈیا اور نو بجے کے خبرناموں میں حسبِ معمول اس پر پھبتیاں کسی گئیں۔مگر کل سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی ایک ٹوئٹ نظر سے گزری۔حیرت ہوئی کہ اپنی سیاسی جماعت کی اساس  اور موجودہ عہدے کا لحاظ پسِ پشت ڈالے خاتون منتخب وزیرِ اعظم کا ٹھٹھا اڑا رہی تھیں۔اسی لیے سوچا کہ معلوم تو کیا جائے آخر آلو اتنا اہم کیوں اور کیسے ہوگیا۔
ابھی جس وقت یہ بلاگ تحریر کیا جارہا ہے خبرملی ہے کہ ایک کسان کو سٹروک ہوا اور آدھا جسم مفلوج ہوگیا ہے۔وجہ ہے منڈی میں آلو کی ساڑھے چار روپے فی کلو قیمت جو کہ آڑھتی اسے دے رہا ہے۔مسئلہ وزیرِ اعظم کا آلو کی  کاشتکاری قیمت بتانا نہیں ہے۔مسئلہ ہے پیداواری لاگت سے لاعلمی اور آلو مکئی کے چھوٹے کاشتکار کا استحصال۔جس کی جانب حکومت سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی ہمارے چوبیس گھنٹے سجے آزاد میڈیا کو کچھ دلچسپی ہے۔
آلو کی پیداواری کاشت دس سے پندرہ روپے فی کلو ہے۔کسی بھی شے پر اٹھنے والی لاگت منافع سوچ کر ہی بنائی اُگائی جاتی ہے۔فصل یا پراڈکٹ کی درست قیمت کا تعین ہم تب تک نہیں کرسکتے جب تک کہ اسے برآمد نہ کیا جائے۔جہاں تک میری معلومات ہیں پورے پاکستان میں آلو برآمد  کرنے کا لائسنس اس وقت بارہ یا سولہ افراد کے پاس ہے جوکہ کچھ عرصہ قبل تو چھ لوگوں کے تصرف میں تھا۔اجارہ داری تو خیر ہمارے ہاں ہر میدان میں دیکھنے کو ملتی ہے۔سوال یہ ہے کہ لائسنس کے اجراء میں بخل سے کام لے کر کس طبقے کو نوازا جارہا ہے۔اصل کاشتکار تو پِس رہا ہے۔پیسہ جب چند ہاتھوں میں ہی گردش کرے گا تو نام نہاد خوشحالی اور معیشت پانی کا وہی بلبلہ ثابت ہوتے ہیں جو پاکستان نے مشرف دور میں دیکھا۔
ٹی۔وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر بیٹھے بقراط شاید یہ جاننا بھی گوارا نہیں کریں گے کہ آلو کی ایک بوری کا وزن کیا ہوتا ہے،آڑھتی کتنے میں خرید کر آگے کتنا منافع کماتا ہے۔ عام کسان ایک سو بیس کلو آلوؤں کی بوری ساڑھے تین سو سے سات سو روپے تک بیچتا ہے۔جو کہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے،شاید اسی لیے پار سال بہت سے کسانوں نے زمین میں ہل چلادیے تھے۔یہی بوری ایکسورٹرز باآسانی چھ سے سات ہزار روپے میں فروخت کررہا ہے۔
عدیل علی خان پاکستان کے واحد فارمر ہیں جن کی سو فیصد فصل مشہور زمانہ کمپنی لیز خریدتی ہے۔وہ انہی کیلیے آلو اگاتے ہیں لہذا ایک طے شدہ معاہدے کے مطابق فصل کا خاطر خواہ معاوضہ مل جاتا ہے۔ان کے مطابق پورے پاکستان میں مجموعی طور پر ساٹھ سے ستر بڑے زمیندار ہیں جو اس کمپنی کےساتھ مختلف حوالوں سے منسلک ہیں۔باقی لاکھوں کسانوں کو اپنی فصل اُسی سفاک آڑھتی کے ہاتھوں فروخت کرنا ہوتی ہے جو کہ چار سے پانچ روپے فی کلو کی ادائیگی کرکے صارف کو بیس سے تیس روپے فی کلو تک بیچ رہا ہے۔جبکہ ایکسپورٹرز کے تو کیا کہنے۔ان کے تو سر کڑاہی میں ہیں جناب۔
فروری کے اواخر اور مارچ کے اوائل میں آلو کی فصل ختم ہوجائے گی۔اس کے بعد ایکسپورٹر ہی اپنے بینک اکاؤنٹس بھریں گے۔کسان تو مکئی اگانے چل پڑے گا کہ اسے بہرحال اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کسی طور بھرنا ہی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ بروقت آلو،مکئی اور چاول جیسی اجناس کیلیے برآمدی منڈیاں تلاش کرے ، مڈل مین کی اجارہ داری کو توڑے اور یقینی بنائے کہ ایکسپورٹرز چھوٹے کسان کا استحصال نہ کرسکیں۔ جب آپ کا کسان ہی بھوکا مرے گا تو نچلا طبقہ کیسے خوشحال ہوگا ؟ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب کسان بہتر معاوضہ پائے گا تو ہی اس سے جڑی لیبر یعنی کھیت سے منڈی تک کا مزدور بہتر اجرت حاصل کرے گا۔کاشتکار کو کی گئی ادائیگی ہی وہ راس ہے جو کسی زرعی ملک کے معاشی پیہے کو دھکا لگاتی ہے۔ لیپا پوتی سے وقتی خوشحالی تو دکھائی جا سکتی ہے مگر عمارت کی کمزور بنیادیں کب تک چھپا سکتے ہیں ؟
حکومت کو چاہیے کہ کھادوں اور بیج پر سبسڈی دے۔تاکہ کسان کو فصل پر اٹھنے والی پیداواری لاگت میں کمی کا احساس ہو اور وہ اپنی محنت کی مناسب قیمت پا سکے۔یہی سبسڈی  کاشتکار کی بہترین مدد ثابت ہوسکتی ہے۔آپ میٹرو،اورنج لائن منصوبوں پر سبسڈی دیجیے کہ وہ بھی عوام کیلیے ہی ہے۔مگر کسان کا بھی سوچیے۔آٹھ سال پہلے یوریا کی جو بوری چھ سو روپے میں دستیاب تھی آج اس کی قیمت دو ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔وجہ ہے آئی۔ایم۔ایف کی جانب سے سبسڈی ختم کروانا۔یہی یوریا بوری بھارت میں پاکستانی کرنسی کے حساب سے سات سو روپے میں مل رہی ہے۔اس مد میں اینگرو کو "شاباش" دینا مت بھولیے گا جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یوریا بلیک کیا۔اس ظلم کی قیمت کسان اور عوام نے کیسے چُکائی۔یہ قصہ پھر سہی۔
وزیرِاعظم نے کسان پیکج کا اعلان کیا۔ڈھول تاشے بجائے گئے اور مخالفین نے اس کو عدالت میں چیلنج بھی کردیا مگر کسان کے لیے نہیں بلکہ اپنی سیاست کو وینٹیلیٹر سے ہٹانے کیلیے۔اگرچہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ باور کرواتے  کسان پیکج کی مد میں چھوٹے کاشتکاروں کی دس سے پندرہ فیصد شرح ہی بذریعہ قرعہ اندازی مستفید ہوپائے گی۔ایک سے بارہ ایکڑ تک کے مالکان اس قرعہ اندازی میں شریک ہوکر پانچ ہزار روپے فی ایکڑ حاصل کرپائیں گے۔ باقی پچاسی فیصد کسان کیا کریں گے؟ اگر اپوزیشن کرنا ہی تھی تو یوریا  اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی کا مطالبہ کرکے کی جاتی ۔جس کا فائدہ ہر کسان کو یکساں پہنچتا ۔بہرحال کسان پیکج کے تحت ڈی۔اے۔پی کھاد کی بوری پر پانچ سو روپے تک کی سبسڈی دی گئی ہے جس کا فائدہ سب کو ہوگا۔مگر ہمارا کسان آج بھی یوریا زیادہ استعمال کرتا ہے۔ایک آگہی مہم تو یہ بھی چلائی جائے کہ کسان کو یوریا کی بجائے ڈی۔اے۔پی اور پوٹاشیم کے استعمال کی جانب راغب کیا جائے جو کہ بہتر پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
آلو کا کاشتکار دوسری فصل مکئی کی لگاتا ہے۔جس کی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں  میں تین سالوں کے دوران کریش کرگئی ہیں۔نو ساڑھے نو سو روپے فی من بِکنے والی مکئی اب پانچ سو  سے  چھ سو روپے فی مَن بیچی جارہی ہے۔مگر یہاں بھی حکومتی گرفت دکھائی نہیں دیتی۔فیڈ مِلز  ستر سے اسی فیصد مکئی کا استعمال کرتی ہیں اور انہوں نے بجائے فیڈ سستی کرنے کے قیمتیں مزید بڑھا دیں۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔دوسری جانب کوئی ایک کارن پراڈکٹ کا نام بتایے جس کی قیمتیں اسی تیزی سے نیچے آئی ہوں؟ کارن آئل کا استعمال آج بھی عیاشی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔دیگر کارن مصنوعات کا بھی یہی حال ہے۔سال میں مکئی کی دو فصلیں حاصل کی جاتی ہیں؛ بہاریہ مکئی آلو کے فوراً بعد کاشت کی جاتی ہے ۔جس کی پیداواری لاگت چھ سو روپے فی من تک ہوتی ہے اور اچھا کسان اسےپچاس روپے منافع کیساتھ ساڑھے چھ سو روپے فی من میں بیچتا ہے۔اوسط پیداوار پینسٹھ سے ستر من فی ایکڑ ہوا کرتی ہے۔جبکہ موسمی فصل جون سے اگست تک کاشت ہوتی ہے اور چالیس سے پینتالیس من فی ایکڑ تک حاصل کی جاتی ہے۔جس وقت مکئی نو سو روپے فی من بِک رہی تھی تو فیڈ کی ایک بوری گیارہ سو سے بارہ سو روپے کی مل رہی تھی۔آج مکئی ساڑھے چھ سو روپے فی من بیچی جارہی ہے جبکہ فیڈز بوری کی قیمتِ فروخت بائیس سو سے چوبیس سو روپے تک جا پہنچی ہے۔نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے اور نہ ہی اپوزیشن یا میڈیا کو فرصت ہے کہ کسان کے اصل مسائل کو سامنے لا کر حکومت کو جگایا جائے۔ہر جانب ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔

ہفتہ، 6 فروری، 2016

قومی ائیر لائن

قومی ائیر لائن کے ملازمین کی ہڑتال سے تین روز میں قومی خزانے کو ایک ارب  اسی کروڑ کا نقصان۔ یہ وہ سرخی ہے جو آج ہر اخبار کی زینت بنی ہوئی ہے۔قومی خزانے کا تو جو کباڑہ ہورہا ہے تین انمول انسانی جانیں بھی اسی ہڑتال کی نظر ہوچکی ہیں۔
آخر حکومت کیوں نہیں مان جاتی۔کیوں دنوں جانب سے ھڈ دھرمی دکھائی جارہی ہے۔کیا واقعی قومی ائیرلائن کو بچانے کی آخری امید نج کاری ہی ہے۔وفاق نے ڈھائی تین سالوں میں کیا کاوش کی اور ادارے نے کارکردگی کی مد میں کیا نتائج دیے۔۔۔ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ اور ایسے بےشمار سوالات گردش کررہے ہیں۔ جاننے کی کوشش میں جو حقائق ہاتھ لگے ہیں پہلے ان کا جائزہ لے لیا جائے کہ حکومتی اقدامات کیا رہے اور اس کے نتائج و اہداف کیا برآمد ہوئے
١: جون ٢
۰١٣ء  پی۔آئی۔اے اٹھارہ آپریشنل جہاز رکھتا تھا جن کی آج تعداد اڑتیس ہے اور شائد مزید دو ائیر کرافٹس لائے جا رہے ہیں۔
٢ : ایسے روٹس جنہیں پرافٹ ایبل کہا جاتا ہے وہاں فلائٹس کی تعداد بڑھائی گئی جبکہ جن روٹس پر منافع خاطر خواہ نہیں تھا انہیں بند کردیا گیا۔اسی مد میں ہانگ کانگ،بینکاک،کٹھمنڈو ، فرینکفرٹ،ایمسٹیرڈیم اور گلاسگو کی فلائٹس بند کردی گئیں اور دوہا ، ابوظہبی ، مسقط ، دوبئی ، بیجنگ اور کوالالمپور کی جانب فلائٹس کی تعداد بڑھا دی گئی۔
٣: آج کے ائیر کرافٹس تکنیکی اعتبار سے بہتر ہیں جو کہ ادارے کو ایندھن کی بچت دے کر ملکی فارن ایکسچینج میں سہولت کا باعث بنے۔
٤ : بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کرایوں میں پینتیس فیصد تک کی کمی کرکے صارف کو براہِ راست پہنچایا گیا۔
٥: سڈنی ، ہانگ کانگ ، فرینکفرٹ وغیرہ جیسے آف لائن دفاتر بند کرکے زائد معاشی بوجھ میں کمی کی گئی۔
٥ :پی۔آئی۔اے نے چائنہ سدرن ائیر لائنز ، تھائی ائیر ویز ، ٹرکش ائیر لائنز اور اتحاد ائیرویز کے ساتھ کوڈ شئیرنگ معاہدوں پر دستخط کیے۔جن کے تحت مسافروں کو پی۔آئی۔اے کے ٹکٹ پر ان ائیرلائنز کے ذریعے ان مقامات پر جانے کی اجازت ہوگی جہاں قومی ائیر لائن کی پروازیں نہیں جاتیں۔
۶: پروازوں میں وقت کی پابندی انہتر فیصد سے بڑھ کر چوراسی فیصد تک پہنچائی گئی۔حج آپریشن کے دوران پچپن ہزار سے زائد حجاج کرام کوڈیڑھ سو پروازوں کے ذریعے واپس لایا گیا اور اعداد وشمار کے حساب سے چھیانوے فیصد پروازیں وقت پر پہنچیں۔
۷: لاہور ، پشاور،سوات ، نوابشاہ ، کوئٹہ اور راولپنڈی میں سات ٹریننگ سینٹرز کھولے گئے جہاں نوجوانوں کو ائیروسپیس/ائیروناٹیکل انجینئرز کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ملتان کا ٹریننگ سینٹر افتتاح کیلیے تیار ہے جبکہ فیصل آباد ، سکھر اور مظفرآباد پر کام جاری ہے۔کراچی سینٹر میں موجود سہولیات کو بھی اپ گریڈ کیا گیا۔
۹: ایک ورلڈ کلاس جرمن کنسلٹنٹ کی خدمات EASA سرٹیفیکیشن کیلیے لی گئیں۔
۱۰: گزشتہ کوارٹر ٢۰١٥ء کے دوران قومی ائیرلائن  نے سیل کی مد میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا۔اس دوران  مجموعی سیل ساڑھے اکیس بلین روپے تک گئی۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سب اچھا ہورہا تھا۔رپورٹ میں بہتری آرہی تھی تو نجکاری کا شوشا کیوں چھوڑا گیا۔جبکہ سال ٢
۰١٣ء میں پی۔آئی۔اے ملازمین کی تعداد سولہ ہزار پانچ سو تریسٹھ تھی جس میں دو ہزار چار سو تین لوگوں کو ریٹائرمنٹ ، معطلیاں اور کانٹریکٹ منسوخی کے باعث فارغ کیا گیا۔سترہ فیصد والا پہاڑا سناتے کوئی ملازم یہ بتانا پسند نہیں کرتا کہ جب سیاسی بھرتیوں کے نام پر میرٹ کی دھجیاں اڑتی رہیں تو یہ لوگ کہاں سو رہے تھے۔ تین سودو  جعلی ڈگریاں ، پانچ سو سات  ایسے ٹیکنیشنز کو تین سال بھگتا گیا جو کہ خالی آسامیوں کے قانون کی خلاف ورزی کرکے سر چڑھائے گئے۔دنیا بھر میں قومی ائیرلائن کا عملہ موبائل فونز ، سگریٹ اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ میں دھر لیا جاتا تو بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔حالانکہ یہ قومی وقار کی بین الاقوامی سطح پر نیک نامی کا موجب بننے والے واقعات نہ تھے۔ہر کوتاہی پر ایک ہی پالیسی اپنائی گئی ؛ گو سَلو برو ۔۔۔ فی ائیرکرافٹ چھ سو ستاون ملازم کی اوسط کو کم کرکے تین سو نوے پر لایا گیا۔ قومی ائیر لائن میں موجودہ ملازمین کی کل تعداد اس وقت چودہ ہزار سات سو اکتہر ہے۔
قومی ائیر لائن خسارے کو ڈھائی سال میں چالیس فیصد تک کم کیا گیا۔مگر کیا ہم گردشی قرضوں کا حساب کتاب جاننے کی فرصت نکال پاتے ہیں ؟ تین سو ارب کا گردشی قرضہ جبکہ اثاثہ جات کی مالیت منفی میں جارہی ہو۔آپ حکومت کے ہاتھ میں کونسی جادوئی چھڑی دیکھ رہےہیں ؟ جہاز اڑیں یا نہ اڑیں ماہانہ ساڑھے تین بلین روپے لیز اور سود کی ادائیگی قومی خزانے سے ہی ادا ہو رہی ہے۔
پاکستان قومی ائیر لائن کا موازنہ بین الاقوامی اداروں سے کرنا بھی مضحکہ خیز ہی معلوم ہوتا ہے۔ہوابازی پر نظر رکہنے والے بی بی سی کے صحافی طاہر عمران صاحب کے مطابق ‘خاص کر جب آپ یہ بھی جاننے کی زحمت نہ کریں کہ
Emirates  کے پاس کتنی رقم ہے اور اُس نے سو کے لگ بھگ ایئر بس اے تھری ایٹی طیارے آرڈر کر رکھے ہیں جنہیں خریدنا اور چلانا دنیا کی چند ایک فضائی کمپنیوں کے بس کی بات ہے۔ اس کے علاوە ایئربس کے اے تھری ففٹی اور بوئنگ کے سیون ایٹ سیون طیاروں کے بڑے آرڈر دینے والوں میں ایمرٹس شامل ہے۔ ایمرٹس کے روٹس کا نیٹ ورٹ ملاحضہ کریں اور یہ بھی کہ اس کے تمام کام آؤٹ سورس کیے گئے ہیں۔جبکہ پی۔آئی۔اے  کے اکاؤنٹس میں ائیر کرافٹس خریدنے کی صلاحیت ہی نہیں۔لیز پر لیے جاتے ہیں ۔ لیز تو سمجھتے ہیں نا آپ۔۔۔کیٹرنگ کا شعبہ ہماری قومی ائیر لائن خود دیکھتی ہے جو کہ Emirates نے مسئلہ پالا ہی نہیں۔ کیٹرنگ دوسروں کو بھی فراہم کی جاتی ہے جو اپنی ذات میں ایک کاروبار ہے۔
ہماری کارگو سروسز بارے بھی جانیے۔ریلویز ہوں یا ہوائی سفر یہ کارگو ہی ہے جو منافع کما کر دیتی ہے۔ہمارے پاس کوئی کارگو جہاز نہیں ہے جناب۔ اور پھر وہ بقراط ہیں جو ٹرکش ائیر لائنز کی ایوی ایشن انڈسٹری اور ریگولیشنز کے ساتھ پی۔آئی۔اے کا موازنہ کررہے ہیں۔سبحان اللہ۔ترکی کو جغرافیائی اعتبار سے جو فائدہ حاصل ہے کیا پاکستان ویسے مواقع رکھتا ہے؟
نجکاری کی مخالفت میں اِس وقت جو سیاسی جماعت سب سے اگلی صف میں دکھائی دیتی ہے وہ شاید بھول گئے ہیں کہ ان کے ادوار میں ستائیس کے قریب ادارے نجکاری کی چُھری تلے گئے۔ہاں مگر اُس وقت جو لوگ اس کے مخالف تھے آج انہیں نجکاری ہی واحد راستہ سوجھ رہا ہے۔ لازمی سروس ایکٹ جسے آج پاکستان پیپلز پارٹی کالا قانون قرار دے رہی ہے اس کا دو بار نفاذ خود انہی کے دورِ اقتدار میں کیا گیا۔ابھی کچھ روز قبل پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال توڑنے کو اسی ایکٹ کا ڈراوا دیا گیا۔
ن لیگ نے اپوزیشن میں وہی کام کیا جو آج خورشید شاہ صاحب اور ان کے ساتھی کررہے ہیں۔ بی۔بی شہید کے دور میں سات عدد بوئنگ
۷۴۷ طیارے کیتھی پیسیفک سے خریدے گئے اس سلسلے میں نواز شریف صاحب نے اُس زمانے میں کیسی سیاست کھیلی یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔نجکاری روکنے کیلیے جو حربے اُس وقت کی اپوزیشن نے آزمائے وہی ہتھکنڈے آج کی اپوزیشن اور اُس زمانے کی حکومت دکھا رہی ہے۔ اور ویسے یہ سوال کوئی نہیں اٹھا رہا کہ تنبیہہ کے باوجود ہوائی اڈے کی دیواریں پھلانگنے یا احاطے میں زبردستی گھسنے کی ہلہ شیری کس نے دی۔شرپسند عناصر تھے یا کسی سیکیورٹی ادارے کی غفلت شاید کبھی عوام کو حقائق سے آگہی مل ہی جائے۔مگر اس سلسلے میں حکومتی مؤقف بہت سخت اور تکلیف دہ ہے۔ریاست اگر ماں ہے تو گھوریاں ڈالتے،ڈرانے دھمکانے کے بیچ پُچکارنا بھی اسی کا فرض ہے نہ کہ کیمروں اور مائیک کے سامنے للکار پکار مچائی جائے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے میاں نواز شریف نے اداروں کے آپریشنل کرنے کا وعدہ تو کیا تھا جو ان کی حکومت نے پورا بھی کیا۔مگر ہم جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں حکومتی سرپرستی میں بہتری ایک حد تک ہی ممکن ہوپاتی ہے جس کے بعد عوام کی جیب ہر روز کاٹ کر خسارے پورے کیے جاتےہیں۔
جب کہا جائے کہ حکومتوں کا کام ائیر لائنز اور سٹیل ملز جیسے ادارے چلانا نہیں ہے تو مثال دی جاتی ہے میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین منصوبوں کی۔وجہ اس موازنے کی صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں سبسڈی اور لاسز کا فرق سمجھنے سمجھانے کا رواج روزِ اول سے ہی نہیں ہے۔دوسری بات یہ کہ میٹرو منصوبہ پبلک-پرائیویٹ سانجھے داری پر چل رہا ہے۔ترکی کی کمپنی اس منصوبے میں پارٹنر ہے۔دنیا بھر میں کوئی بھی پرائیویٹ سرمایہ کار فردِ واحد بن کر ماس ٹرانزٹ پر مال نہیں لگایا کرتا۔حکومتی سرپرستی بہرحال درکار ہوتی ہے اور جب منصوبے چل نکلیں تو پرائیویٹ انویسٹرز کے سپرد کردیے جاتےہیں۔
بحث بہرحال یہاں قومی ائیرلائن کے سفید ہاتھی کو اسی سال نجکاری کے عمل سے گزارنا ہے اور مناسب یہی ہوگا کہ حکومت سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ملازمین سے مذاکرات کرکے ان کے تحفظات دور کرے۔ورنہ حالات کا خمیازہ عام شہری کی جیب بھگت رہی ہے۔

بدھ، 3 فروری، 2016

عالمی کتب میلہ

کل صبح سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ لاہور ایکسپو سینٹر میں  چار سے آٹھ فروری کے دوران  تیسواں عالمی کتب میلہ  سجنے جا رہا ہے ۔ کتاب سے عشق رکھنے والوں کیلیے یہ ایک خوبصورت کوشش ہے ۔
لاہور دہائیوں سے پڑھنے ، جذب کرنے ،لکھنے اور پڑھانے والوں کے اعتبار سے خوش بخت رہا ہے۔ یہاں کثیر تعداد مطالعہ اور کتب کی خرید و فروخت سے وابستہ ہونے کے باوجود اگر دل میں کہیں شائبہ آتا ہے کہ عالمی کتب میلہ کامیاب ہوگا یا نہیں تو یہ عکاسی ہے اس اجتماعی رویے اور خوف کی جس میں آپ اور میں سانس لیے جاتے ہیں اور جیے جا رہےہیں۔معاملہ کچھ عرصے سے ایک اور جانب بھی راہ نکالنے میں کامیاب رہا ہے ۔جہاں لوگ ڈگریاں سمیٹنے ، نو  سے  پانچ کی نوکری اور "فیملی ٹائم" میں ایسے محو ہوئے ہیں کہ مطالعہ کی انگلی چھوڑ کر کہیں میلے میں کھو گئےہیں۔ادبی محافل کا انعقاد بھی انحتاط کا شکار ہے ۔کِس تاریخ کو کونسے سینما میں کونسی فلم کا پریمئر ہونے جا رہا ہے،اس کا دھیان ضرور رکھیے کہ اچھی تفریحی ملک میں واپسی کی راہ ہموار کررہی ہے مگر اُس تعداد میں بھی اضافہ ہونا چاہیے جو کتاب کی منتظر رہے۔گزشتہ کچھ سالوں کے دوران کُتب میلوں میں آنے والوں کی تعداد بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ خوش آئیند بات ہے کہ ہر عمر کے لوگ شرکت کرتے ہیں اور اپنے ذوق اور استطاعت کے مطابق تلاش کر کےمطلوبہ کتب خریدتے ہیں۔
اس برس یہ عالمی کُتب میلہ حکومتِ پنجاب کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے ۔مگر کوئی بھی حکومت ایسے سِلسلوں کو کامیاب نہیں بنا سکتی جب تک عوام کی شرکت یقینی نہ ہو۔قاری کا رشتہ بَنا رہے تو مطالعہ کی روح بھی صحت مند رہتی ہے اور معاشرے کی رگوں میں دوڑتی  بے چینی، منفیت اور قنوطیت میں واضح کمی کا رجحان پروان چڑھتا ہے ۔مباحث میں علمی و تحقیقی گفتگو سے سیکھنے کی راہیں بنتی اور کھلتی ہیں۔
خواہش ہے کہ ایسے میلے ملک کے تمام حصوں میں منعقد کروائے جائیں۔حکومتی سرپرستی ہو اور عوام کو درسی کتب سے آگے کا جہاں کھوجنے  کے مواقع ملیں۔کتاب دوستی تشدد اور عدم برداشت کو شکست دینے اور اپنی ذات و سوچ کی تراش خراش کا اہم راستہ ہے۔ پیڑ پودے  کانٹ چھانٹ کے بعد نئی آب و تاب سے بڑھتے ہیں اسی طرح انسانی تہذیب اور سوچ کی پرورش میں وقت کے تقاضوں کے مطابق قطع برید لازم ہے۔
کل اردو ادب کا ایک عہد،ہمارا داستان گُو اپنی زندگی کی داستان مکمل کرگیا۔انتظار حسین چلے گئے۔کچھ سال قبل احمد فواد سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ ، "عجیب بات ہے، ہمارے نوجوان مطالعہ نہیں کرتے،مشاھدہ نہیں کرتے ، پاکستان کا اور دوسرے ممالک کا ادب نہیں پڑھتے اور کہتے ہیں کہ اپنے سٹائل میں لکھیں گے۔۔۔یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ بغیر مطالعہ و مشاھدہ اچھا کام کرسکیں۔ چاہے وہ ادب ہو یا کاروبار؟ ۔۔۔ پڑھنا چاہیے اور بہت پڑھنا چاہیے تاکہ وژن پیدا ہو اور آپ کا اپنا اسلوب نکھر کر سامنے آ سکے۔"
اس نصیحت اور خواہش کے بعد میری کیا بساط کہ مزید کچھ تحریر کرنے کی جسارت کروں۔ملتے ہیں ایکسپو سینٹر لاہور چار سے آٹھ فروی کے دوران۔

ہفتہ، 23 جنوری، 2016

قومی سانحہ

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر دھشتگردوں کا حملہ کیا ہوا اپنی زندگیوں میں مصروف لوگوں کی توجہ وقتی طور پر ایک بار پھر بہتے ناسور کی جانب مبذول ہوگئی۔
واجبی تعلیم اور محدود معلومات رکھنے والے پاکستانیوں نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو ہر پلیٹ فارم پر ایسی قیامتِ صغریٰ دیکھنے کو ملی جس میں سب ہی "توجہ" کا صور پھونکنے میں مصروف تھے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جس طرح اس کا محلِ وقوع بیان کررہا تھا اب کبھی جانا ہو تو نقشہ سارا ذہن میں محفوظ ہے۔لاشوں اور زخمیوں کی براہِ راست فوٹیج دکھانے والےیقیناً اپنے گھر کی میتیں یوں دکھانے کا حوصلہ رکھتے ہی ہوں گے۔
اپنے اپنے بابوں کو اوپر رکھنے کیلیے ملبہ دوسرے مسالک پر ڈال دینا یا یہود و ہنود کی سازش قرار دے دینا کوئی نئی بات نہیں۔مگر اس کا کیا کیجے کہ "اللہ اکبر"  کا اعلان کرتے رب العالمین کی مخلوق سے زندگی کا حق چھیننے والوں کی عمریں ہمیشہ چودہ سے اکیس کے درمیان ہی ہوتی ہیں۔کچے اذہان کو تشریحاتی جنت اور حور کے لتھڑے تصور سے روشناس کروانے والوں کا تعلق انہی آماجگاہوں سے ہے جو ہمارے ایک جنرل صاحب کے مطابق ریاست کا پانچواں ستون ہیں اور بھارت سے جنگ ہو تو یہی بچے دشمنوں پر پھٹ کر دانت کھٹے کریں گے۔اب اُدھر جنگ ہوتی نہیں تو کہیں نا کہیں پھٹ کر تربیت کا اظہار کرنا بھی تو لازم ٹہرا۔تناور پیڑ کو دیکھتے ہم اس کی پنیری لگانے والوں،گوڈی اور آبیاری کرنے والوں کو یکسر فراموش کردیا کرتے ہیں۔
بےحسی کی اس سے بڑی کیا مثال ہوگی کہ کسی ماں کا جگر گوشہ چند چیتھڑوں کی صورت تابوت میں بند گھر آئے اور ریاست ماں کا بیانیہ ہو کہ  "نقصان کی شدت اور نوعیت کم ہے۔"۔۔۔ اپوزیشن کرسیوں پر براجمان دانشور فرماتے ہیں کہ ریاست دفاع پر اسی طرح پیسہ لگائے جیسا پلوں اور بسوں پر لگا رہی ہے۔یہ تو معیار ہے آپ کی دانشوری اور مسائل کے حل کا۔جب آپ لوگ بھول ہی جائیں کہ ضربِ عضب نامی سفید ہاتھی کتنے بلین پر پالا گیا ہے، سالانہ دفاعی بجٹ کتنا ہے اور تعلیم و صحت پر کیا لگایا جارہا ہے۔کبھی کسی نے پلٹ کر سوال نہیں کیا کہ کتنے ویر جوان شہید ہوچکے ،ان کی تفصیلات کیا ہیں یا کہاں دفن کیے جارہے ہیں۔
اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ ہمارا محافظ گالیاں بکتا کبھی کہے کہ چار دھشتگرد ہم نے جہنم واصل کیے اور اگلےہی سانس میں انکشاف کرتا ہے کہ دو خود کش جیکٹیں پھٹ گئیں اور دو کی جیکٹس سلامت رہیں۔جبکہ ابتدائی اطلاعات میں تین دھشتگردوں کے فرار کی خبر بھی گرم رکھی گئی۔کسی نے اُن سے سوال کیا کہ "ضربِ عضب میں آپ خود کو کتنا کامیاب تصور کرتےہیں ؟ " صاحب کا جواب تھا کہ یہ سوال آپ کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے،یہ پلیٹ فارم ایسے سوالات کا متحمل نہیں۔وما علینا الا البلاغ المبین۔
مسئلہ اس سے بھی کہیں زیادہ اذیت ناک تب ہوجاتا ہے کہ جب سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر آپ کو قوم کے نام پر ہیجان زدہ ہجوم دیکھنے کو ملے۔چند فالؤرز،کچھ لائکس اور بیشتر ری۔ٹویٹس کی بھوک میں لوگ ہر قسم کا چورن، سستے معجون اور گھٹیا منجن  کی  کم نرخوں پر خریدو فروخت جاری رکھتےہیں۔کوئی سِول اداروں کو رگیدے گا تو کوئی عسکری موضوع پر دانشور بنا ابکائیاں کرتا دکھائی دےگا۔یہاں آپ کو بوٹ پالش کرتے ضمیر فروش دکھائی دیں گے تو اپنے سیاسی و مذہبی اکابرین کی خاطر ایمان بیچتے ذہنی مریضوں کی بھی کچھ قلت نہیں۔
تاریخ ، جغرافیہ ، عالمی و مقامی سیاسی پس منظر کے علاوہ مذہبی و مسلکی معاملات میں مطالعہ و تحقیق کے نام پر چند اخباری تراشے اور کچھ پلانٹڈ خبروں پر تکیہ کیے سوشل میڈیائی بقراط کفر و غداری کے فتوے چند گھنٹے تقسیم کریں گےاور شام میں جب دیکھیں تو ہنسی ٹھٹھے کا سامان،جُگتوں بھرا اجتماع اور وہی گھسے پٹے سیاسی ٹاک شوز کے ٹوٹے چلائے جائیں گے۔دو چار ٹرینڈز بنالیے اور زندگی واپس اپنی ڈگر پر۔زخم صرف اُن والدین کا ہرا رہے گا جنہوں نے اولاد سے وابستہ روشن امیدوں کو خون کا غسل کیے منوں مٹی تلے  مدفون ہوتے دیکھا۔ سکون و خوشی ہمارے ہاں دو سانحات کا درمیانی وقفہ بن کر رہ گئے ہیں۔
ہمارے ہاں اگر ظالمان کے دفاتر کھلوانے والے عوامی نمائندے موجود ہیں تو لال مسجد میں بٹھائے ٹائم بم کا دفاع کرنے والے اعلیٰ اذہان بھی پائے جاتےہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہوگا مگر قاتل اور دھشتگرد کی تعریف کیلیے اختلافات صرف یہ بتاتے ہیں کہ آپ ان کے آگے  پنجابی والے "کانے" ہیں۔
ایک مائکرو بائیولوجسٹ ، پروفیسرز یا علم حاصل کرتے بچے درسگاہوں میں ملک و قوم اور گھرانوں کے روشن مستقل کیلیے جاتے ہیں۔ان کے ذمہ وہی کام ہے مگر عوامی ٹیکسوں سے تنخواہیں وصولتے محافظ  اور ریاست چلاتے نمائندگان کا فرض ان بچوں کے کھاتے کیوں ڈالا جارہا ہے۔سخت اور کڑے فیصلے کرنا اور دھشتگردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ان درسگاہوں سے وابستہ لوگوں کا کام نہیں اور نہ ہی اپنی جانیں گنوا کر شہداء کا رتبہ پانا ۔ ماں اپنے بچے کو وطن پر قربان ہونے کیلیے سرحد پر بھیجتی ہے تعلیمی اداروں میں نہیں۔ کبھی سوچیے گا کہ ہمارے بچوں کو سکول کی وردیاں پہنا کر دشمن کوسُر سنگیت میں للکارتے،پکارتے اُن کی ڈھال بننے کی بجائے اگلی صفوں میں تو نہیں لے آئے۔تصور کیجیے بطن میں پلتے ننھے وجود کا جسے ماں چھو نہیں سکتی مگر ہر لمحہ اس کی حرکت سے باخبر رہتی ہے۔
ایک اصطلاح ہوتی ہے سہولت کار اور اسی کے وزن پر دوسری اصطلاح ہے مددگار۔یہ جو یہود و ہنود کی سازشوں کا جال ہے اور ان کے کارندے ہیں جن کا سنا ہے کہ کوئی مذہب نہیں ہوتا، جب میرے بچوں اور اساتذہ کی جان لینے آتے ہیں تو ان کی رہائش ، اسلحہ بارود کی فراہمی ، کھانا پینا اور دیگر ضروریات کون پوری کرتا ہے ؟ مدد ہمیشہ اندر سے ہی فراہم کی جاتی ہے۔ آرمی پبلک سکول سانحہ میں آپ نے اندر کے سہولتکار کو خاموشی سے پھانسی چڑھا دیا۔بھگوڑے  کا کورٹ مارشل ہوگیا۔ قوم کے سامنے یہ حقائق نہیں لائیں گے مگر سوچیے کہ بات تو نکل گئی۔گُڈ بیڈ کے چکر سے نکلے ہیں تو اب مسلکی،سیاسی اور ذاتی وابستگیوں سے بھی علیحدگی اختیار کرلیجیے۔ مصلحت اور بہادری کے نام پر میرے بچوں کا خون ارزاں مت کیجیے۔دہائیوں پر محیط مضبوط نیٹ ورکس کو توڑنا اور جڑ سے اکھاڑنا واقعی وقت مانگتا ہے۔ ایک رات یا چند مہینوں میں نرسریوں سے سلیپنگ سیلز تک پہنچنا ممکن نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ یہ جنگ طویل ہے اور راستہ کٹھن مگر قوم کو طفل تسلیاں دے کر مزید بہلانا کسی طور مناسب نہیں۔
ہر سانحے پر فرداً فرداً شدید مذمتی بیانات ، قومی پرچم سرنگوں ، دس روزہ سوگ کا اعلان ، ایک عدد آل پارٹیز کانفرنس ، بیس نکاتی ایکشن پلان کی منظوری ، فوجی عدالتیں ، کمیٹیاں ، تحقیقاتی ٹیمیں ، ہسپتالوں کے دورے ، زخمیوں کی عیادت ، شہداء کے لواحقین کو امدادی چیک ، جذباتی گانا اوربرسی پر مزید سنگیت کے ساتھ ایک عدد لہو رنگ سرورق والی کتاب کے علاوہ بہادر قوم کی عظیم قربانی کا پہاڑا پڑھنے والوں کے دامن پر اپنے ہی طلباء اور اساتذہ کے خون کے چھینٹے نظر انداز کیےجاؤ کہ حُب الوطن ہونے کیلیے آج کل اہم شرط یہی ہے ۔ مائیں ان کے گریبان پکڑیں تو پاگل،باپ بولیں تو غدار۔ کہانی ختم اور قومی سانحے کی اگلی قسط
کےمنتظر ہم عوام ۔
جاتے جاتے ایک آخری گزارش کہ ریاست کو ماں جیسا کہنا بند کیجے کیونکہ ہمارے معاشرے میں "ماں کی ۔۔۔" سن کر خالی جگہ کے لئے جو پہلا لفظ خیال میں آتا ہے وہ خدمت نہیں ہے۔

جمعہ، 22 جنوری، 2016

فاتح

"رابعہ دروازہ اچھی طرح بند کرلو۔میں شام تک لوٹوں گی۔ ہانڈی چڑھا لینا اور پوچھ کر دروازہ کھولنا۔" رقیہ نے چادر اوڑھتے بیٹی کو نصیحتیں کیں اور باہر نکل گئی۔ رابعہ نے بڑھ کر چٹخنی چڑھائی اور اندر پہنچ کر بیڈ کے نیچے سے موبائل فون نکال کر کوئی نمبر ملایا۔"میں بس دس منٹ میں نکل رہی ہوں۔تم جیولر کی دکان پر پہنچو۔"
گھنٹے میں رابعہ واپس گھر پہنچ چکی تھی۔ اوسان بحال ہوئے تو ہانڈی روٹی کا سوچتی باورچی خانے میں آئی ہی تھی کہ برقی گھنٹی نے شور مچادیا۔"اس وقت کون آگیا۔۔۔" خودکلامی کرتے بلند آواز میں دریافت کیا "کون۔۔۔؟"
بھاری بھرکم آواز تھی "میں احسن۔۔امی نے کھیر بھجوائی ہے۔"
رابعہ نے دوپٹہ درست کرتے دروازہ کھولا تو شرماتے ہوئے سلام کرتے کھیر کا برتن پکڑلیا۔"امی گھر پر نہیں ہیں آپ سامنے خالہ کے گھر انتظار کرلیجیے۔"
"ارے۔۔۔ممانی نہیں ہیں تو کیا ہمیں اندر آنے کی بھی اجازت نہیں ؟ منگیتر ہونے کا بھی مارجن نہیں ؟"
رابعہ نے مسکراتے ہوئے خالہ کے دروازے کی جانب اشارہ کیا اور داخلی دروازہ بند کرلیا۔
احسن اپنی ماموں زاد کی اسی شرم و لحاظ پر فدا ہوتے ماں کو مجبور کرکے منگنی کروا چکا تھا۔اب بھی اپنی پسند پر نازاں ممانی کی بہن کی جانب بیٹھا خاطر مدارت کروا رہا تھا۔
آج رابعہ کی پھپھو شادی کی تاریخ لینے آئی تھیں اور خاندانی رواج کے مطابق سارا گھر رشتے داروں سے بھرا پڑا تھا۔رابعہ نے اکلوتی سہیلی شرمین کو ہاتھ بٹانے کیلیے بلوایا تھا۔شام تک گہما گہمی کچھ ماند پڑی تو برتن سمیٹتی شرمین کو رابعہ نے باورچی خانے آنے کا اشارہ کیا۔مومی کاغذ میں لپٹی بھاری سی چیز اس کو تھماتے بولی "یہ بیگ میں رکھ لو ۔ دونوں کا  کیا کرنا ہے تم جانتی ہو۔" شرمین کی آنکھوں میں چمک سی دوڑ گئی۔
رات کو رقیہ نے سرہانے تلے ہاتھ پھیرا  اور مطلوبہ شے نہ ملنے پر گھر میں ہنگامہ کھڑا ہوچکا تھا۔۔۔۔ "میں کہتی ہوں جس بےغیرت نے یہ حرکت کی ہے اللہ اسے دنیا میں ہی دکھائے۔غضب خدا کا ایسے چور رشتہ داروں سے اللہ بچائے۔بیٹی کی تاریخ پکی کرنے آئے اورسامان سمیٹ کر رفو چکر۔کیڑے پڑیں،اپنی اولاد سے بھرے۔۔۔۔۔۔"
بددعاؤں اور کوسنوں کا یہ سلسلہ شادی کی خریداری اور ہنگاموں میں دب گیا تھا۔اگرچہ سلگتی چنگاری ہوا مِلنے پر دوبارہ سے بھڑک اٹھتی۔
شادی خوب دھوم دھام سے ہوئی تھی۔خاندان کی پہلی شادی تھی اور یوں بھی بقول خالہ زرینہ باہر کی کمائی میں برکت تھی۔ احسن کو شرماتی لجاتی رابعہ معصومیت کا پیکر محسوس ہورہی تھی
صبح جب شرمین دلہن کے گھر سے ناشتہ لے کر آئی تو خوشبوؤں میں بسا احسن کسی فاتح کی مانند کمرے سے نکلتا فون ملا رہا تھا۔ شرمین سلام کرتی اندر چلی گئی۔
"ھیلو ! ہاں جہانزیب کیا بنا یار؟ جان چھڑواؤ اس بازارو عورت سے۔ایسی لڑکیاں شادی مٹیریل نہیں ہوتیں اور اس کا احساس رابعہ کو بیوی بنا کر ہوگیا ہے۔۔۔۔ہمممم۔۔۔ بلے وئی۔ اسے بتا دو کہ ٹائم پاس تھی اور میرے والدین شریف لڑکی کو بہو بنا کر لے آئے ہیں۔زیادہ شور کرے تو کہہ دینا کہ تصاویر اس کے بھائی کو بھجوا دیں گے۔اچھا چل شام کو ولیمےمیں آرہا ہے نا؟ "
رابعہ نے شرمین کو دیکھتے ہی سونے کے کنگن کی جانب اشارہ کیا۔۔"یہ منہ دکھائی ملی ہے۔ شکر ہے اچھے وقت میں اُس کنگال سے جان چھڑوا لی۔"
شرمین نے آہستہ بولنے کا اشارہ کیا اور سرگوشی کرتے بولی " بہت مشکل سے کمینے انسان کو راضی کیا ہےاس رقم میں۔جا مر رہا ہے پرسوں ۔لگ گیا ہے ویزا ۔اور سنا ہے وہاں خالہ کی بیٹی سے ہی نسبت طے ہوگئی ہے۔"
رابعہ نے گہری سانس لی " جانتی تو ہو کہ  اماں کی انگوٹھی بیچ کر پیسے اس کے منہ پر مارے اور تصاویر واپس لیں تو ہم سمجھے تھے کہ جان چھوٹ گئی۔مگر کمال بےغیرت نکلا۔اماں کا موبائل فون جب تمہیں بیچنے کو دیا تو کیسے خود کو مطمئن کیا۔بس کچھ مت پوچھو۔خود تو ایسا گھٹیا سیکنڈ ھینڈ موبائل نہ چھوڑا،واپس منگوا لیا۔"
شرمین نےاس کا دپٹہ درست کرتے کہا "بھول جاؤ ان باتوں کو۔احسن بھائی بہت شریف انسان ہیں۔پھر کچھ عرصہ میں تمہیں بھی ساتھ لے جائیں گے۔جان چھوٹے گی سسرال کے جنجال سے۔فاتح تو میری سہیلی ہی رہی نا۔"
دونوں ایک دوسرے کو گلے لگاتے کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔