اتوار، 12 اکتوبر، 2014

ایک اور ایک دو


پچھلےدنوں ایک خبرنظرسےگزری کہ جاپان کےشمالی علاقےمیں ایک چڑیاگھرکی انتظامیہ چاربرس کی انتھک کوشش کےبعداس نتیجےپرپہنچی کہ "ایک جمع ایک دو ھی ھوتےھیں' اگرمعاملہ "تذکیر" کاھی رھے۔۔۔۔۔"تانیث" کےبنا یہ دوکبھی تین یااس سےزائدکافارمولااپنانہیں سکتے۔
قصہ کچھ یوں ھےکہ جنوبی کوریاسےدوہائنالائےگئے'جنہیں عام زبان میں لگڑبگڑکہاجاتاھےاور اردومیں لفظ "چرخ" بھی مستعمل ھے۔یہ نایاب نسل کےدھبہ دارہائنا "ایک جوڑی"کےطوربیچے گئے۔چڑیاگھرانتظامیہ نےایک طویل عرصہ تک جب کوئی خوشخبری نہ پائی تو"کامی"
کوچند پیچیدہ میڈیکل ٹیسٹس کےبعد"کاموتری"کاچھوٹابھائی قراردیدیاگیا۔
انتظامیہ کاکہناھےکہ انہوں نےاس عرصہ میں کبھی دونوں کوجھگڑتےنہیں دیکھااورنہ ھی کوئی ایسی علامات جس سےکوئی سراغ مل سکے۔
کامی اب پانچ برس کاھوچکااور کاموتری چھ کا۔جوکہ لگڑبگڑکیلیے،جس کی اوسط عمرہی 12 سال ھے،گھربسانےکو
اچھی خاصی بڑی عمرھواکرتی ھے۔۔۔۔ وائےری قسمت دونوں ھی اس صلاحیت کوبروئےکارنہیں لاسکتے۔بس کزنز کی طرح رہ سکتےھیں۔ مگراس نایاب نسل کوسنبھالادینے کیلیےانتظامیہ پرعزم ھےکہ ایک مادہ جلدھی کہیں سےمنگوالی جائیگی۔اوردونوں میں سے کسی ایک کا گھربسادیا جائےگا۔تب تک کیلیےدونوں کوالگ الگ پنجروں میں منتقل کردیاگیاھے۔
پورےجاپان میں سات چڑیاگھروں میں دس نایاب ہائناھیں اوردویہ بھائی ملالیں توایک درجن۔۔
ماہرین کاکہناھےکہ اس نسل کےلگڑبگڑوں میں عموماً ٹیسٹ کےبناجنس کاتعیّن بےحدمشکل ھے۔
      اگراس "چرخ"نامی جانورکی ظاہری شکل کی بات کی جائےتوکتےسےملتاجلتاھےمگردراصل بلیّوں کےقریب ماناجاتاھے،کہ چھچھڑوں پربھی گزاراکرلیتاھے۔اوراگررویےکی بات کی جائےتویہ گروھوں کی صورت بسیراکرتا ھےاور انسانی قہقہوں کےساتھ کسی مکروہ منصوبے کی کامیابی کا اظہارکرتاھے۔زیادہ تردوسرےگوشت خورجانوروں کا"بچاکھچا"کھاتاھے۔ مگرشکارپرکبھی اکیلاحملہ نہیں کرتا اورغول کےہمراہ حملہ کرنےپر
شکارکوبےبس کردیتاھے۔حتیٰ کہ جنگل کاشیربھیلگڑبھگڑسےگھبراتاھےاورزیادہ تر "کنی کترا" کرگزرجایاکرتاھے،کیونکہ حملہ کامیاب نہ بھی ھوتو شکارکوزخم ایسےگہرےملتےھیں کہ کچھ وقت کےبعدبےبسی میں اسی گروہ کی بھوک کومٹانےکاساماں ھوجاتاھے۔کوئی ذخمی جانورمل جائےتواکثرشیرکےساتھ مل کر ھی تناول کرتاھے،یایوں کہیےکہ شیرسیرھوکرجب چل پڑتاھےتو"بچاکھچا"شکارلگڑبگڑکےحصےآتاھے۔کیونکہ یہ "چمڑی"بھی شوق سےکھالیتاھے۔جس پربھی وہ اتراتےھوئےقہقہہ لگاتاھے۔رات کےوقت اس جانورکی قوتِ سماعت اوربصارت تیزمانی جاتی ہے۔

           جب میں نے "کامی" اور "کاموتری" کی خبر پڑھی تونہ جانےکیوں کچھ انسانی چہرے آنکھوں کےسامنےلہراگئے۔اور14اگست کےبعد سےرونماھونےوالےواقعات کا جائزہ لیا جائےتو یوں محسوس ھوتاھےکہ کسی "انتظامیہ" نےافزائشِ نسل کےواسطےدو لگڑبگڑلاکر ڈی چوک میں بٹھادیے۔مگر جب مطلوبہ نتائج نہ ملےتوکنٹینرمیں مقفل کردیاگیا۔
ان کےرویہ جات بھی تو کچھ ایسےھی ھیں۔۔۔۔رات کوقہقہےلگاتے ھیں،چلاتےھیں مگرایک دوسرےکوکچھ نہیں کہتے۔اب بارآوری کیلیےصاحب ایسارویہ تونہیں رائج لگڑبگڑمیں،سو دوسرے گھروں میں تانک جھانک کرتےپائےجاتےھیں۔بات وہی کہ ٹیسٹ کےبناکیونکرمعلوم ھوکہ لایاجانےوالاجوڑا "سودمند"ھےبھی یانہیں۔کافی ہفتوں کےمختلف ٹیسٹوں کےبعد "انتظامیہ"اسی نتیجہ پرپہنچی کہ نتیجہ "ایک جمع ایک"دوھی رھےگا۔مگرجاپانیوں کی طرح انتظارکی تکلیف دہ گھڑیوں سے نہیں گزارا،بلکہ صاحبان کوھی لاغرولاچارلگڑبگڑوں کاغول تھماکر 
شہرشہرتلاش میں روانہ کردیاھے۔اب نہ جانے ہزیمت مٹارھےھیں یاخفت۔
اگران کی تقاریرکےدوران دائیں بائیں کھڑےلوگوں کاماضی دیکھاجائےتوحیران کن حدتک مماثلت پائی جاتی ھےکہ دوسری سیاسی جماعتوں کی "جوٹھن"ھی مقدرھے۔اورملتان میں توان کی اس "خاص تلاش" میں "زخمی"عوام کے7بچےبھی لقمہ اجل بن گئے۔
ایک قدر اور بھی مشترک ھواکرتی ھےکہ "دھبہ دارہائنا"کی معاشرتی زندگی "مددگار"سےزیادہ "مقابلہ بازی " پرمشتمل ھوتی ھےکیونکہ "نسل" توسب کوپیاری ھےجی۔ویسےلگڑبگڑبھی ایک نئی نسل کیلیے 110 دن لیتاھے،آپ کیسے 2 گھنٹوں کی آس لگابیٹھےتھے؟
معاملہ کچھ یوں بھی بنتاھےکہ اگروقتی طورپرکامیابی نہیں بھی ملی توشکاری نے زخم گہرے دیےھیں،اب یہ شیرکی قسمت کہ اس غول کی پہنچ سےبلنداور دور نکل کرزخموں کےمندمل ھونےکاانتظار کرتاھےیاپھر"ترنوالہ" بنتاھے۔اوردوسری صورت یہ بھی ھےکہ لگڑبگڑزخمی عوام کےشکارکیلیے صحتیاب شیرسےھی مشاورت کربیٹھےکہ "بھیّاپہلےاپ ،پھرہم۔"

                                        زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام  ابھی

                                     مرےذمےھیں ادھورے سےکئی کام ابھی

جمعہ، 10 اکتوبر، 2014

ایک دن دھرنوں کےساتھ

پشاورسےکچھ آزاد و انقلابی رشتہ دارعیدکےدوسرے دن ملنےآئےتواصل مدعابھی بیان کردیا۔۔۔۔عید توبہانہ تھی اصل مقصدان دھرنوں کی زیارت تھا۔دل جل کرخاک ھواکہ کسی طوراس حق میں نہ تھی،مگرانسان لاکھ سوچےہوتاوھی ھےجومنظور "ناخدا" ھوتاھے۔اورآج پہلی بارجنیدجمشیدپرایمان لانےکودل کیاکہ جوخواتین کی ڈرائیونگ کےمخالف ھیں۔
خیر'مبارک سفرپرروانہ ھونےکوایک چارگزکی چادراوڑھی اورنطرکاچشمہ فٹ کرکے ہم بادل ناخواستہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکےتھے۔غصےمیں گاڑی اپنی مرضی کےروٹ پرڈالدی۔سوچا آغازسے"سیر"کروائی جائے۔چک شہزادکی نرسری دکھائی اور بنی گالاکوبھی سلام کروایا۔کشمیرچوک سےھوتے،"سرینا"باجی کوسیلوٹ کرواتے، پولی کلینک کےراستےپہنچ گئےدھرنوں کی جائے پیدائش۔گاڑی لاک کی اورمیزبانی کےفرائض یہاں تک کےمصداق اپناکیمرہ نکالااورکیامحفوظ پھرایک ایک انقلابی نقشہ۔۔۔۔۔۔۔
سب سےپہلےیہ کنٹینرزجنہوں نے انقلاب کاراستہ 54دنوں سے روک رکھاھے۔مگرنہ جانےجب ہم پہنچےتوکسی نےنہ روکا۔
 
 انہیں عبورکیاتوایک بچہ "آزادی" 100 سوروپےمیں بیچتاپایا۔یہ ٹوپی پہن کرسب ھرالال ھی سوجھتاھے۔بعدمیں 70روپےمیں آزادی خریدلی ہم نے بھی۔اگلے قدم کچھ کنکریٹ بلاکس پرگوگوپان مصالحہ کےفن کامظاہرہ "خوشخطی"سےتھا۔







پھرشروع ھوا صاف وشفاف آزادپاکستان کاراستہ،جہاں اس "پھولوں"کی باڑنےاستقبال کیااورمیرےعزیزمہمانوں نے ناک سکیڑے۔نہایت بےادب واقع ھوئےھیں آج کل کےآزادبچے۔




منڈی بہاؤالدین سےآئی آزادی زمیں بوس ھوچکی تھی۔بچوں کوکہابھی کہ پھونک مارکربسم اللہ پڑھ کراونچی جگہ رکھدو،مگروہ خونخوارنظروں سےگھورنےلگے۔



ابھی دو قدم آگےبڑھےتوایک صاحب آزادوں کا پرچم لپیٹےواپسی کےسفرپرگامزن تھے۔نہایت خشوع خصوع سےتصویربنوائی اورایک نعرہءمستانہ ھوامیں بلندکرتےآگےبڑھ گئے۔



قدم بڑھاتےگئےکہ منزل دورتھی۔۔راستےکےکچھ "مسائل" نظراندازکرتی ھوں۔کچھ کوّےگزشتہ عیدکی "کلیجی" دعوت اڑاتےدیکھے۔وللہ صفائی کااعلیٰ معیاردیکھ کریقین ھواکہ 
اگلی "آزادنسلوں" کامستقبل محفوظ ھے۔


لیجیےصاحب،میرےآزادمہمان نازک طبع ھیں سویہیں سےواپسی کاعندیہ دیدیا۔مگرمیں نےصاف بتادیاکہ اب میں انقلاب دیکھےبنانہیں لوٹوں گی۔ساتھ ھی آلوچاٹ تیارھورھی تھی۔مکھیوں نےکالی مرچوں کی ساری کمی پوری کررکھی تھی۔



پھردیکھاکہ اوپن کچن میں قربانی کاگوشت کچھ تھیلیوں میں زمین پرپڑاتھااورمکھیاں وحشرات بھی اپنارزق تلاش کرچکےتھے۔
 


بالآخرپہنچےاس صدی کےعظیم کرکٹرکےکنٹینرکےسامنے۔بہت حسرت تھی ان کی ایک جھلک نظرآئے،پشاورکےمہمانوں نےسفارش بھی جتائی۔۔۔۔۔وائےری قسمت کہ صاحب بنی گالاکاگھرآبادکرنےجاچکےتھے۔بس باہرسےچندتصاویرپراکتفاکیا۔

 



چونکہ قربانی عیدسےپہلےنہ ھوسکی تھی سوعیدکےتینوں دن قربانیاں کی گئیں۔ایک جانب ننھاقصاب دو"اساتذہ" کےہمراہ گوشت بنارھاتھا۔کیونکہ چائلڈلیبرتونیاپاکستان میں ختم ھوگی اور وہ ابھی پراناپاکستان کارہائشی تھا۔




ساتھ ھی ایک آنٹی انقلاب کو دم لگائےانتظارمیں تھیں۔


خدا خداکرکےوہ گھڑیاں آئیں کہ خیمہ بستی دیکھنےکوملی۔اس بستی کی بہترین اورقابلِ ستائش بات
یہ ھےکہ پڑاؤعین پارلیمنٹ کےداخلی دروازےاورکلمہ طیبہ کےسائےمیں ھے۔



ہرخیمہ کےباہرکچرےکاڈھیرھےجوصفائی کی اہمیت پر روشنی ڈالنےکورکھ چھوڑاھے۔





بچوں کوبہت چائےپانی کاپوچھامگران کےچہرےپربارہ بجےدیکھ کرمزیدتنگ نہ کرنےکافیصلہ کیا(اگلےدس منٹ کیلیے)۔ یہ "عوامی ٹی سٹال"بھی موجود ھےجہاں انقلابی نغمےبھی چلتےھیں۔ ایک چائےکاکپ صرف 10روپےمیں،مگرمہمان ہمارے10روپےمیں کہاں ماننےوالےتھے۔



ساتھ ھی ایک میڈیکل کیمپ ھے۔ڈسپنسرنماھیروقسم کا بندہ بیٹھاھے،جواپنےموبائل پرہمہ وقت "مصروفِ عمل" ھے۔اسکی تصویربنانامناسب نہ تھا۔ہاں مگربےخبری کافائدہ یہ ھواکہ خیمہ کےپیچھےسےمیڈیکل سٹورکاجائزہ باآسانی لیا۔


اسی "پھول بناسپتی" شفاءخانےکےساتھ انقلاب بہہ رھاتھااورکچھ غلاظت آزادی سےسڑک کےبیچوں بیچ نہایت عقیدت واحترام سےرکھی گئی تھی۔جیسےکہ "باہروالےآقاؤں" کوخاص کارکردگی دکھانامقصودھو۔




تھوڑابائیں جانب مگر"نہایت احتیاط "کےساتھ پارلیمنٹ کےعین سامنےایک حجام موجودھےاورساتھ میں "انقلابی استری" کی سہولت بھی دستیاب ھے۔30روپےفی جوڑا۔کچھ مہنگانہیں یہ سودا۔۔۔۔۔۔۔




اگرگھرکی روٹی کو من للچائےتویہ سہولت بھی موجود۔پندرہ روپےمیں سادہ اوربیس کاپراٹھاساتھ میں بیس روپےکا مرغی کاانڈہ۔"ھیں جی" ۔ کاش  "امیرِشہرِانقلاب"کی جانب سے اس معصوم کوتن ڈھانپنےکےلیے لباس بھی مل جائے۔


   


شکرھےانقلابی سکول وکالج پرنگاہ پڑی۔ آنکھوں کوکچھ ٹھنڈک ملی۔یہاں پرایم-بی-اے کی کلاس بھی ھوتی ھے۔اور کچھ جھولےشایدانہی "بچوں" کیلیےآئے ھیں۔



ساتھ ھی لینگوئج کورس کاانتظام بھی ھے۔ہذامدرسۃ۔۔۔۔۔آزادوں کوکافی ضرورت ھےزبان وبیاں کودرست کرنےکی۔عربی ھی سیکھ لیجیےکچھ ورائٹی توآئے۔



ایک بات جوہمارامیڈیانہ پہنچاسکاوہ یہ ھےکہ آزادکشمیرکےمریدین کی مدد سےلگائےگئےموبائل کالج میں "این-سی-اے" والےسارےگُن سکھلائےجاتےھیں۔حکیم محمداحمد نےمولوی عبدالشکور کی کیا شاندار "سمادھی"بنائی ھے۔ایمان تازہ ھوگیا۔اورساتھ ھی محمدطفیل نےان کی "گھگھو گھوڑوں"کی فوج بنائی ھے۔دونوں نےاپنےرابطہ نمبربھی لکھ چھوڑیں ھیں کہ اگرآپ کےدل میں بھی یہ ارمان جاگےتورابطہ کیجیے۔



اس سے آگےبڑھےتوآزادوں کاٹولہ اپنےگھرسےقربانی کاگوشت منگواکر"باربی کیوپارٹی" کی تیاری کررہاتھا۔کیاگھریلوساماحول بنارکھاھےآپ نے۔"ایک"کردیامحمودوایازکو۔



لیجیےصاحب ہمارےپختون مہمانوں کی دوسری تلاشِ جاناں ختم ھوئی اورعبدالشکورصاحب کا"درویشانہ کنٹینر"نگاہوں کےسامنےتھا۔ان کی "کُٹیا"کےاوپربیٹھےسیکورٹی گارڈزھاتھوں میں اسلحہ اٹھائےانقلاب کی حفاظت فرمارھےتھے۔



اب واپسی کیلیےپرتولتےہمارےمہمان کھیسانی ھنسی کےساتھ دھیرےدھیرےاس عظیم الشان تعفن زدہ انقلاب اوربدبودارآزادی کاخودھی تمسخراڑارھےتھے۔میں نے خاموشی میں ھی عافیت جانی۔اورجونہی پلٹی توماتھاٹھنکا کہ ایک خیمہ مکمل طورپرڈھانپاگیاتھا۔پچھلی جانب سےجھانکاتوحیرت نےآن گھیراکہ یہ تو"انفارمیشن سینٹر"تھاجہاں تمام ملکی اخبارات کا ڈھیرتھااور "مصطفوی انقلاب"کیلیےعرق ریزی کی جاتی ھے۔صاحب "نوٹس" لےرھےتھےکہ عبدالشکورصاحب کی شام کی تقریرمیں حوالہ جات درکارتھے۔



اس "میڈیاسیل" سےآگےکچھ بچےاپنامعصوم بچپن جھولوں پربیٹھےگزاررھےتھے۔ان کےساتھ  جووقت گزارااس کیلیےایک الگ بلاگ لکھناھوگا۔ہاں مگراس ملک کے "بڑے"کب سمجھیں گےکہ بچےسانجھےھوتےھیں۔۔۔۔۔۔کچھ کہنادشوارھے۔



ان جھولوں کی پچھلی جانب صاف ستھراماحول ہمارامنہ چڑھارھاتھا۔صفائی اور حفظانِ صحت کےتمام پڑھےاصول بودےمعلوم ھوئے۔یہاں ایک خاتون نے پکڑلیاکہ کس کی اجازت سےتصاویراتاری جارہی ہیں ۔نہایت محبت سے جان چھڑوائی۔محترمہ کا فرمانا تھا "ہمارےقائدنےجوگنداس پارلیمان کےسامنےپھیلایاھےوہ 100سال تک نہیں سمیٹ سکتےآپ لوگ۔ یہ دن ہمارےقائدکی وجہ سےھی آیاکہ لوگ ٹرو،مرومنانےاس علاقےمیں آرھےھیں"




بالآخر"دس لاکھ" افرادکیلیےچارعدد کنٹینربیت الخلاءبھی دکھائی دیے۔۔۔سچ پوچھیےتوآدھےگھنٹےسےآتی غلیظ بدبوکی سمت چیک کیاتومعلوم ھواکہ یہ عظیم سہولت وہاں میسرھے۔وہ خاتون اب اپنی ٹیم کےساتھ ہلہ بولنےکوتیارتھیں۔






خیرواپسی پریہ آلوچنےکاٹھیلاانقلاب وآزادی کی "سرحد"پرموجودتھااورلوگ دھڑادھڑاس چاچاکی روزی اس تک پہنچاکراپنےپیٹ کارزق حلق سےاتار رھےتھے۔۔



ایک مقام پر کچھ ناہنجاروں نےانقلاب کونہایت سبک رفتاری سےآزادی کیساتھ دیاسلائی دکھادی اور نتیجہ وہی۔۔۔کہ انقلاب کو آگ لگ گئی گھرکےچراغ سے۔



جب ہم اس صدی کےعظیم کرکٹرکےکنٹینرکےپاس واپس پہنچےتوکرسیاں لگائی جارھی تھیں اورعوام کا ٹھاٹھیں مارتاسمندربھی موجودتھا۔یہ تصاویراتارتےھی ایک "پختون بھائی"آگےبڑھےکہ "آپ سےایک سوال پوچھناھے۔" میں تو تیزتیزآگےبڑھ گئی۔مہمان جوشِ آزادی میں کہیں ادھراُدھرھوگئےتھے۔





لوگوں کاکلیجہ زیادہ گرمادینےکےباعث کچھ مسئلہ نہ ھوجائے،ایسی ھنگامی صورتحال کےپیشِ نظر "انقلابی لیموں پانی" بھی دستیاب تھا۔اگرچہ چاچانےبتایاکہ انکواجازت ھی تب ملی جب یہ "گوگو"کاسٹکربرتن پرلگایا۔
نیاپاکستان میں کوئی جبرنہیں ھوگا۔




ایک بھائی صاحب کچھ تبدیلی ٹی شرٹس بھی بیچتےپائےگئے۔نیاپاکستان نے کتنےہی لوگوں کو روزگاربھی فراہم کردیاھے۔اوریہاں اپنے"گمشدہ"مہمانوں کوتلاش کیا۔




اللہ اللہ کرکےآزادکچن سےھوتےہم باہرنکلےتونازک طبع مہمانوں کی چیخیں نکل گئیں۔عیدکےتیسرےروزشام کےساڑھےپانچ بجےقربانی ذبح کی جارھی تھی۔پھرنہایت سرعت سےجانورکودرخت کےساتھ لٹکاکرعوام کی طرح کھال اتاری جانےلگی۔



اس دروازےپرپہنچتےھی محسوس ھواکہ کچھ لوگ مسلسل پیچھاکررھےھیں۔بچوں کوبہانےسےگاڑی کی چابی دی کہ پہنچومیں بُھٹّہ لےکرآرھی ھوں۔وہی صاحب میرےعقب میں پہنچےاورتعارف کروایاکہ PTIکےکنٹرول روم کےانچارج ھیں اوریہ کہ صبح سےمانیٹرکیاجارھاتھا۔میں نےکہا"توپھر؟" کہنےلگے"میں آپ کوخواتین کےانکلوژرمیں لےجارھاھوں وہاں آپ کی جامعہ تلاشی ھوگی اوراپناکیمرہ اورسیل فون پکڑائیں ادھر۔سب ڈیلیٹ ھوگا"
میں نے کہا"اوہ رئیلی اورمیں آپ کےساتھ جارھی ھوں انکلوژرکی جانب؟"
جواب آیا "جاناتوآپ کو ھوگا،کس نےاختیاردیاکہ "مشکوک" جگہوں سےمشکوک تصاویرکھینچیں؟یہ جگہ ہماری ھے"
اللہ اکبر،چورکی داڑھی میں تنکا۔میں نے آواز تھوڑی بلند کی "یہ شہرمیراھے۔میں جہاں چاھوں جاؤں۔کہیں نہیں جارھی تلاشی کیلیے۔"
میں نےھینڈبیگ تھامااورتیزقدموں سےوہاں سےنکلنےلگی توان صاحب نےخاتون کوبلوالیااور راستہ روک کرکھڑےھوگئے۔"آپ ISI کی ایجنٹ ھیں،بلواؤیاراس شکیل کو"
یہاں میری برداشت جواب دےگئی۔سائیڈ سے نکلی اورایک ھی بات کی "دوقدم پر"سیکیورٹی" بیٹھی ھے،تھوڑااونچابولی توآبھی جائیں گےاورتصاویرپرآپ کے"تحفظات" بھی دورھوجائیں گے"پھر مڑ کرنہیں دیکھا۔دومنٹ بعد اپنی گاڑی کےپاس تھی۔غورکیاتوکچھ سیکیورٹی اہلکاراُن صاحب کوگھیرےکھڑے تھے۔مگراب میرا رکنامناسب نہ تھا۔سیٹ بیلٹ لگائی اوروہاں سے روانہ ھوگئی۔مہمان کچھ شرمندہ تھےمگرمیں نےکوئی بات کرنامناسب نہیں سمجھااوران کادھیان اِدھر اُدھرکی باتوں میں لگادیا۔۔اچھا ڈنرکرواکر واپس پشاورکیلیےروانہ کردیا۔

منگل، 30 ستمبر، 2014

تجسس وخوف کےنوےدن

 والدصاحب کاتبادلہ لاھورھوگیاتوپریشانی لاحق ھوئی کہ مجھےاورچھوٹےبھائی کوسکول لانےلیجانےکامسلہءکیونکر حل ھو۔سکول میں "ڈورتھی آنٹی" ھواکرتیں تھیں۔سٹاف روم میں ڈیوٹی تھی۔امی نےذکرکیاتوانہوں نے ذمہ داری لےلی۔ہم دونوں بھائی بہن کیلیےیہ ایک انوکھااورپرلطف تجربہ تھا۔سکول بیگز ڈورتھی آنٹی کوتھمائےنہرکنارےاٹھکیلیاں کرتےراستہ منٹوں میں کَٹ جاتا۔بھائی شریرتھااور آنٹی کوبہت تنگ کرتاتھابھاگتاتوان کی جان پربن آتی کہ کہیں سڑک کی جانب نہ بھاگ جائے۔دوتین روزبعدایک دن انہوں نےبتایا"آج آپ کےگھرکےنزدیک شیرلائےگئےھیں"بھائی ڈرپوک سہم گیا۔
گھرسےکچھ فاصلےپرایک دکان تھی جس پرھمیشہ تالاپڑارھتاتھا۔۔تقسیم کےبعد وہاں ایک درزی ھواکرتاتھاجس کی وفات پربچوں کےجھگڑےمیں باپ کی پونجی مٹی ھورھی تھی۔ڈورتھی نےبتایاکہ دوشیراس مقفل دکان میں رکھےگئےھیں۔

اپنی متجسس طبیعت سےمجبورمیں ایک جھلک دیکھناچاھتی تھی شیروں کی۔جبکہ بھائی بےچارہ پیلاپڑجاتاجب اس کےسامنےسےگزرتا۔میں روزانہ سکول سےنکلتےھی نئےنئےمنصوبےبناتی کہ کسی طرح مجھے شیردیکھنےکومل جائیں۔یہاں بتاتی چلوں کہ یہ واحدجانورھےجوبچپن سےبہت کشش رکھتاھےمیرےواسطے۔میراتجسس اور بھائی کا خوف اتنا بڑھاکہ میں خواب میں بھی شیروں کےساتھ کھیلتی اوربھائی تمام رات خوف کےمارےاماں سےچپکتارھتا۔ڈورتھی ایک شفیق مگر کسی حد تک "سفاک" خاتون تھیں۔ہم بھائی بہن آج تک متفق نہیں ھوئےکسی ایک خصوصیت پرکہ بقول بھائی اگرمیری شفیق ڈورتھی اتنی اچھی تھی تو کیوں ڈرایاکہ امی کونہیں بتاناشیروں کی بابت۔
ایک روز بھائی نےگھر واپسی تک ناکوں چنےچبوادیے۔ڈورتھی نےکہاکہ آؤ آج شیردکھاؤں۔بھائی کی سٹّی گم ھوگئی مگرمیں دیوانہ واردیکھنےکوبےچین آگےبڑھی۔دروازےکی درزوں سےجھانکاتواندھیرےمیں کچھ دکھائی نہ دیا۔ہاں مگر شیرکی "آواز"سنی اورخوشی سےپاگل ھوگئی۔آنٹی سےپکی دوستی کرلی کہ ایک روزوہ مجھے "شرفِ ملاقات" بھی عنایت کروائیں گی۔
تین ماہ بعدجیسےتیسےوالدصاحب کاتبادلہ واپس اپنےشہرھواتو بھائی نے خوشی میں اپنےحصےکی رسملائی بھی مجھے دےڈالی۔مگرمیں افسردگی میں پہلی بار کھا نہ سکی۔وہ توخوش تھاکہ جان چھوٹی "خوف" سےمگرمجھےتوہرصورت شیرکوقریب سےدیکھناتھا۔اگلےروزسکول میں ڈورتھی آنٹی کی خوب منت کی مگران کا جواب تھا"بےبی وہ توجن کے تھے وہ لےگئےوہاں سے۔"
یہ کسک ایک زمانےتک دل میں رھی،گرچہ بہت بارچڑیاگھربھی شیروں کےپنجرےکوتکتی رھی۔مگرجومزہ ان کےساتھ "ککلی"ڈالنےکاتھاوہ تشنگی پنجرےمیں دیکھ کرکیسےپوری ھو۔آج بھی جب آبائی شہرجاناھوتاھےتواس "مقفل " شیروں کی جوڑی کی یاد میں پرانے گھرکے بہانےاسی راستے سےجاتی ھوں۔اوراس "دھاڑ"کی گتھی نہیں سلجھاپاتی 'جو سنائی دی تھی۔ بقول جگرمرادآبادی

                                                                اسی تلاش وتجسس میں کھوگیاھوں میں
                                                             اگرنہیں ھوں،توکیونکر؟جوھوں توکیاھوں

ہفتہ، 27 ستمبر، 2014

حسنِ جمہوریت

سناتھاکہ حسن ضرورت سےبڑھ جائے تومسائل جنم لیتےھیں،کچھ ایساھی آجکل پاکستان میں دکھائی دیتاھے۔جمہوریت کےحسن کےنام پردو "جزوقتی" دھرنےشہرِاقتدارمیں لاکربٹھادیےگئےھیں۔اسلام آباد میں حسن چہارسوپھیلاھواھےمگراس انقلابی فضاءنےیہاں کےباسیوں کوجن نئی جہتوں سےمتعارف کروایا اس کیلیےتاریخ میں یہ خدمت سنہرےحروف سے لکھی جائےگی۔14اگست2014 سےاس لمحےتک اس حسن میں بےپناہ اضافہ ھوچکاھے۔
جوکہ اس وقت دوآتشہ ھوگیاجب دنیانے سپریم کورٹ آف پاکستان کےاحاطہ میں"مستقیمی شلواریں" اورکچھ "آزاد پتلونیں" ٹنگی دیکھیں۔آج تک خبرناھوئی کہ ان شلواروں کی قمیضیں کہاں لٹکائی گئیں تھیں جوکہ منظرِعام پرنہ آسکیں۔شاید پردہ ملحوظِ خاطرھو۔
اسی خوبصورت نطارےپرانقلابی بہن علیمہ خان نےآدھی رات کولائیوبیان دیاکہ یہ ہماری اپنی عمارات ھیں،جنگلےخالی ھی تھےاگرکسی کےاستعمال میں آگئےتواس پراعتراض سوہانِ روح ھے۔اوریہ کہ انتہائی پرمسرت موقع تھا جب انہوں نےدھلےدھلائےپاکیزہ لباس آزادی کےساتھ آزادعدلیہ کےاحاطےمیں پھیلائےدیکھے۔

میری آنکھوں میں وہ منظرکھب کررہ گیاجب ایک تصویرمیں دوچٹائیاں بچھائےایک نوجوان قیلولہ کررھاتھااورقریب ھی "ٹین کےبورڈ" تلےایک صاحب عین داخلی دروازےمیں "انقلابی لنگر" پکا رھےتھے۔
اگست کی 30کوانتہائی خوبصورتی سےٹرک کی مددسےپارلیمنٹ کادروازہ توڑاگیا۔جبکہ اس دوران مجاہدینِ نیاپاکستان پولیس کی گاڑی جلاکرکٹرزکےمددسےحفاظتی باڑکاٹنےمیں کامیاب ھوگئے۔وللہ کیارعنائیاں سمیٹےجمہوریت کاحسن تمام دنیانےدیکھا۔پھرآئی باری "پی ٹی وی"کی عمارت کی۔جس کی نشریات ان مجاہدین کی محبت میں 40 منٹ تک بندرھی اورآزادی راۓکابھرپورمظاہرہ کیاگیا۔بھلاھو "وقار"کاانہوں نے ردابچالی۔اسی "قاتلانہ حسن" کےمتلاشی13مجنوؤں کی "لاشوں" کی ڈھنڈآئی زمانےمیں ھے۔
زبان وبیاں کےایسےجوہر'صوتی لہروں کی مددسےتمام "اقوامِ عالم"میں بانٹےجاتےھیں کہ انمول ھونےکےساتھ ساتھ نایاب بھی ھیں۔جوشِ خطابت کودوام بخشاگیا۔اورچونکہ ملکی نوٹ کاڈیزائن خاص نہ تھاتومولوی عبدالشکورنےعوامی پارلیمنٹ کےمشورےسےاس میں ردوبدل کرنےکاقانون پاس کیا۔جوکہ اپنےآپ میں کسی "قلوپطرہ"سےکم نہ تھا۔اس سےپہلے سول نافرمانی اورھنڈی جیسی "سکارلیٹ جانسن" ھی پیداکرنےکی کوشش کی گئی۔آنکھوں کوخیرہ اورکانوں میں رس گھولنےکابھرپورانتظام کیاگیاھے۔ہرروزپارلیمنٹ کےاحاطےمیں "کھلاحمام" جمہوریت کےحسن کےرسیاؤں کیلیےعمدہ نظارہ پیش کرتاھے۔
مگراس تمام تر"حسنِ ھوشربا"نےوہ شہرت نہ پائی جوسات پردوں میں چھپا ایک "گملہ"حاصل کرگیا۔قدردان توسات سمندرتلےچھپےخزانےلٹانےکوتیارھیں اس کی ایک جھلک کےواسطے،ہائےمگراس کی"حجابی"فطرت۔۔۔۔لاکھوں دلوں پرچرکےچلتےھیں۔

جمہوریت کی نوخیزکلی کوایسےھی حسن کےانواع واقسام کےاسٹیرائیڈزکاعادی بنانےکی کوشش جاری ھےکہ وقت سےپہلےھی کوئی ایپمائرآئےاوراسےبیاہ لےجائے۔اب یاتوایمپائرکواس ننھی پرترس آگیاھےیاپھرمزیدانجیکشن لگاناھوں گےاس "نوعمر" کو۔ہاں مگربات یہ بھی غورطلب ھےکہ قدردان بہت۔"وقار" نہیں تو"آزاد فیصلے"کرنےوالاکوئی ضعیف اپنابڑھاپاسنوارنےکوکچھ کربیٹھے۔
اس جمہوریت کےحسن کوگہنایا توایوان کےمشترکہ اجلاسوں نے۔اورایک باغی شہزادےنےرومانوی حسن سےدل اُوب جانےپرالوداع کہ دیا۔اوراسی لولی لنگڑی،کانی بھدی جمہوریت کوگلےلگانےپراصرارکرتےنظرآتےھیں۔بہرحال یہ "سلسلہءحسن "ناجانےکہاں ٹہرتاھے۔ہم بھی منتظرھیں اس بلاخیزکےقاتلانہ حسن کی نئی کاٹ سہنےکیلیے۔
حسن جب مہرباں ھوتوکیاکیجیے
عشق کی مغفرت کی دعاکیجیے